Book Name:Jannati Zevar

تبصرہ : ۔اسلامی بہنو! حضرت بی بی اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی غریبی اور اپنے شوہر کی خدمت اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ان کی محبت پھر ان کی بہادری اور جراء ت واستقلال کے ان واقعات کو بار بار پڑھو اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو اور یہ بھی سن لو کہ پہلے تو حضرت اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے شوہر بہت غریب تھے مگر بہت ہی بڑے مجاہد تھے بہت زیادہ مال غنیمت میں سے حصہ پایایہاں تک کہ بہت مالدار ہوگئے اور پھر ان کے مالوں میں اس قدر خیر و برکت ہوئی کہ شاید ہی کسی صحابی کے مال میں اتنی خیر و برکت حاصل ہوئی ہوگی۔

        یہ ان کی نیک نیتی اور اسلام کی خدمتوں اور عبادتوں کی برکتوں کے میٹھے میٹھے پھل تھے جو ان کو دنیا کی زندگی میں ملے اور آخرت میں اﷲ   تَعَالٰی نے ان اﷲ  والیوں کے لئے جو نعمتوں کے خزانے تیار فرمائے ہیں ان کو تونہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے خیال میں آسکتا ہے۔

        اے اﷲ  کی بندیو! ہمت کرو اور کوشش کرو اور ان نیک بندیوں کے طریقوں پر چلنے کا پختہ ارادہ کر لو اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی اﷲ جل شانہ کی امداد و نصرت تمہارا بازو تھام لے گی اور اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی دنیا و آخرت میں تمہارا بیڑا پار ہو جائے گا بس شرط یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ یہ عزم کر لو کہ ہم ان اﷲ  والی مقدس بیبیوں کے نقش قدم پر اپنی زندگی کی آخری سانس تک چلتی رہیں گی اور اسلام کے عقائد و اعمال پر پوری طرح کار بند رہ کر دوسری عورتوں کی اصلاح حال کے لئے بھی اپنی طاقت بھر کوشش کرتی رہیں گی۔

(۳۸)حضرت اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی پھوپھی زاد بہن ہیں اور ان کی کنیت ام سلمہ ہے قبیلہ انصار سے تعلق رکھنے والی صحابیہ ہیں یہ بہت عقل مند اور ہوش گوش والی عورت تھیں ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں بہت سی عورتوں کی نمائندہ بن کر آئی ہوں سوال یہ ہے کہ اﷲ   تَعَالٰی نے آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے چنانچہ ہم عورتیں آپ پرایمان لائی ہیں اور آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پیروی کا عہد کیا ہے اب صورت حال یہ ہے کہ ہم عورتیں پردہ نشین بناکر گھروں میں بٹھا دی گئی ہیں اور ہم اپنے شوہروں کی خواہشات پوری کرتی ہیں اور ان کے بچوں کو گود میں لئے پھرتی ہیں اور ان کے گھروں کی رکھوالی کرتی ہیں اور ان کے مالوں اور سامانوں کی حفاظت کرتی ہیں اورمرد لوگ جنازوں اور جہادوں میں شرکت کر کے اجر عظیم حاصل کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان مردوں کے ثوابوں میں سے کچھ ہم عورتوں کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں یہ سن کر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ دیکھو اس عورت نے اپنے دین کے بارے میں کتنا اچھا سوال کیا ہے پھر آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایاکہ اے اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ! تم سن لو اور جاکر عورتوں سے کہہ دو کہ عورتیں اگر اپنے شوہروں کی خدمت گزاری کر کے ان کو خوش رکھیں اور ہمیشہ اپنے شوہروں کی خوشنودی طلب کرتی رہیں اور ان کی فرمانبرداری کرتی رہیں تو مردوں کے اعمال کے برابر ہی عورتوں کو بھی ثواب ملے گا یہ سن کر حضرت اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَامارے خوشی کے نعرہ تکبیر لگاتی ہوئی باہر نکلیں ۔

(الاستیعاب ، باب النساء، باب الالف۳۲۶۷، أسماء بنت یزید، ج۴، ص۳۵۰)

تبصرہ : ۔اسماء بنت یزید کو ثواب آخرت حاصل کرنے کا کتنا شوق اور جذبہ تھا یہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ ہے کاش اس زمانے کی عورتوں میں بھی یہ شوق اور جذبہ ہوتا تو یقیناً یہ عورتیں بھی نیک بیبیوں کی فہرست میں شامل ہو جاتیں اور ثواب سے مالا مال ہو جاتیں ۔

(۳۹)حضرت ام خالد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی صحابیہ ہیں جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو یہ حبشہ میں پیدا ہوئیں جب ان کے والدین حبشہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو ان کے باپ ان کو لے کر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ اقدس میں گئے یہ اس وقت پیلے رنگ کا کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ بہت اچھا لباس ہے بہت اچھا کپڑا ہے پھر ایک پھولدار چادر جو بہت ہی خوب صورت تھی آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے پیار و محبت سے ان کو اوڑھا دی اور یہ فرمایا کہ اس کو پرانی کر۔ اس کو پھاڑ۔ یہ بہت اچھی لگتی ہے اس دعا کا مطلب یہ تھا کہ تیری عمر خوب بڑی ہو تاکہ اس کو اوڑھتے اوڑھتے پرانی کر دے اور بالکل پھٹ جائے چنانچہ اس دعاء نبوی کا یہ اثر ہوا کہ حضرت ام خالد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی عمر اس قدر لمبی ہوئی کہ ان کی بڑی عمر کا لوگوں میں چرچا ہوتا تھا اور لوگ کہا کرتے تھے کہ ہم نے نہیں سنا کہ جتنی لمبی عمر انہوں نے پائی ہے اتنی بڑی عمر مدینہ میں کسی نے پائی ہو۔ (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، رقم۱۲۰۰۴، اُمّ خالدبنت خالد، ج۸، ص۳۸۵)

تبصرہ : ۔سبحان اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! عمر لمبی ہو اور پھر ساری عمر نیکیوں کے کمانے میں گزر جائے اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ام خالد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَابڑی نیک بخت اور خوش نصیب تھیں کہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے دست مبارک سے ان کو چادر اوڑھائی اور اپنی مبارک دعاؤں سے ان کو سرفراز کیا جس کا یہ اثر ہوا کہ عمر لمبی ہوئی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ نیکیوں اور عبادتوں کی چھاؤں میں گزرا۔

        دینی بہنو! تم بھی کوشش کرو کہ جتنی بھی عمر گزرے وہ نیکیوں میں گزرے یہ یقیناً تجارت آخرت ہے کہ جس میں نفع کے سوا کبھی کوئی گھاٹا نہیں ہو سکتا۔

(۴۰)حضرت ام ہانی بنت ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بہن ہیں فتح مکہ کے سال ۸ھ میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ظہور اسلام سے پہلے ہی ان کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب کے ساتھ ہوگئی تھی ہبیرہ اپنے کفر پر اڑا رہا اور مسلمان نہیں ہوا ۔ (الاستیعاب ، کتاب کنی النسائ، باب الھائ۳۶۵۶، أم ھانی بنت أبی طالب، ج۴، ص۵۱۷)

        اس لئے میاں بیوی میں جدائی ہوگئی حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے زخمی دل کو تسکین دینے کے لئے ان کے پاس کہلا بھیجا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو میں خود تم سے نکاح کر لوں انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! جب میں کفر کی حالت میں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے محبت کرتی تھی تو بھلا اسلام کی دولت مل جانے کے بعد میں کیوں نہ آپ سے محبت کروں گی؟ لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں مجھے خوف ہے کہ میرے ان بچوں کی وجہ سے آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو کوئی تکلیف نہ پہنچ



Total Pages: 188

Go To