Book Name:Jannati Zevar

ہے وہ تجھ پر پوشیدہ نہیں لہٰذا تو ان کی مغفرت فرما۔  (الاستیعاب ، کتاب کنی النسائ، باب الرّاء ۳۵۸۶، أم اومان، ج۴، ص۴۸۹)

تبصرہ : ۔خدا کی عبادت اور پیارے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت و اطاعت کی بدولت حضرت ام رومان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو کتنی عظیم سعادت اور کتنی بڑی فضیلت نصیب ہوگئی کہ حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے دست مبارک سے ان کو قبر میں اتارا اور بہترین انداز سے ان کی مغفرت کے لئے دعا فرمائی یقیناً یہ حضرت ام رومان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی بہت بڑی خوش نصیبی ہے اور اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ خداوند کریم کی عبادت اور رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت و اطاعت سے دین و دنیا کی کتنی بڑی بڑی نعمتیں اور دولتیں ملتی ہیں خداوند قدوس تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی عبادت اور رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت و اطاعت کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

(۳۵)حضرت ہالہ بنت خویلد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہمارے حضور نبیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سالی اور حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن ہیں حضرت بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی وجہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان سے بڑی محبت فرماتے تھے ایک مر تبہ انہوں نے دروازے کے باہر سے کھڑے ہو کر مکان میں آنے کی اجازت طلب کی ان کی آواز حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی آواز سے ملتی جلتی تھی جب حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی آواز سنی تو حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی یاد آگئی اور آپ نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا اور خوش ہو کر فرمایا کہ یااﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! یہ تو ہالہ آگئیں ۔

(صحیح البخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب تزویج النبی صلی اللہ  علیہ وسلمخدیجۃ، رقم ۳۸۲۱، ج۲، ص۵۶۵)

(۳۶)حضرت ام عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بہت ہی جاں نثار صحابیہ ہیں اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ چھ لڑائیوں میں گئیں یہ مجاہدین کو پانی پلایا کرتی تھیں اور زخمیوں کا علاج اور ان کی تیمارداری کیا کرتی تھیں اور ان کو رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے اتنی عاشقانہ محبت تھی کہ جب بھی یہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نام لیتی تھیں تو ہر مرتبہ یہ ضرور کہا کرتی تھیں کہ ’’میرے باپ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر قربان‘‘           (الاستیعاب ، کتاب کنی النساء ، باب العین۳۶۲۱، ام عطیۃ، ج۴، ص۵۰۱)

تبصرہ : ۔مسلمان بیبیو! تم ان اﷲ  ورسول والی عورتوں کی ان حکایتوں سے سبق سیکھو اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے اسی طرح عشق و محبت رکھو کہ محبت رسول ایمان کا نشان بلکہ ایمان کی جان ہے خداوند کریم ہر مسلمان کو یہ کرامت نصیب فرمائے(آمین)

(۳۷)حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما

        یہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی صاحبزادی حضرت ام المؤمنین عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن اور جنتی صحابی حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بیوی ہیں حضرت عبداﷲ بن زبیر ان ہی کے شکم سے پیدا ہوئے ہجرت کے بعد مہاجرین کے یہاں کچھ دنوں تک اولاد نہیں ہوئی تو یہودیوں کو بڑی خوشی ہوئی بلکہ بعض یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم لوگوں نے ایسا جادو کر دیا ہے کہ کسی مہاجر کے گھر میں بچہ پیدا ہی نہیں ہوگا اس فضاء میں سب سے پہلے جو بچہ مہاجرین کے یہاں پیدا ہوا وہ یہی عبداﷲ  بن زبیر رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما تھے پیداہوتے ہی حضرت بی بی اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے اس اپنے فرزند کو بارگاہ رسالتصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں بھیجا حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی مقدس گود میں لے کر کھجور منگائی اور خود چبا کر کھجور کو اس بچے کے منہ میں ڈال دیا اور عبداﷲ  نام رکھا اور خیر و برکت کی دعا فرمائی یہ اس بچے کی خوش نصیبی ہے کہ سب سے پہلی غذا جو ان کے شکم میں گئی وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا لعاب دہن تھا چنانچہ حضرت اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو اپنے بچے کے اس شرف پر بڑا ناز تھا ان کے شوہر حضرت زبیر رشتہ میں حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پھوپھی زاد ہیں مہاجرین میں بہت ہی غریب تھے حضرت بی بی اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاجب ان کے گھر میں آئیں تو گھر میں نہ کوئی لونڈی تھی نہ کوئی غلام گھر کا سارا کام دھندا یہی کیا کرتی تھیں یہاں تک کہ گھوڑے کا گھاس دانہ اور اس کی مالش کی خدمت بھی یہی انجام دیا کرتی تھیں بلکہ اونٹ کی خوراک کے لئے کھجوروں کی گٹھلیاں بھی باغوں سے چن کر اور سر پر گٹھری لاد کر لایا کرتی تھیں ان کی یہ مشقت دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان کو ایک غلام عطا فرما دیا تو ان کے کاموں کا بوجھ ہلکا ہوگیا آپ فرمایا کرتی تھیں کہ ایک غلام دے کر گویا میرے والد نے مجھے آزاد کردیا ۔

        یہ محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بہادر اور دل گردہ والی عورت تھیں ہجرت کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے مکان میں جب حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا توشہ سفر ایک تھیلے میں رکھا گیا اور اس تھیلے کا منہ باندھنے کے لئے کچھ نہ ملا تو حضرت بی بی اسماء نے فوراً اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر اس سے توشہ دان کا منہ باندھ دیا اسی دن سے ان کو ذات النطاقین (دوپٹکے والی) کا معزز لقب ملا حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ ہجرت کی لیکن حضرت اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے اس کے بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کی ۔ (الاستیعاب ، باب النساء، باب الالف۳۲۵۹، أسماء بنت ابی بکر، ج۴، ص۳۴۵)

        ۶۳ھ میں واقعہ کربلا کے بعد جب یزید پلید کی فوجوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبداﷲ  بن زبیررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان ظالموں کا مقابلہ کیاا ور یزیدی لشکر کو کتوں اور چوہوں کی طرح دوڑا دوڑا کر مارا اس وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں موجود رہ کر اپنے فرزند حضرت عبداﷲ  بن زبیر کی ہمت بڑھاتی اور ان کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگتی رہیں اور جب عبد الملک بن مروان کے زمانہ حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی ظالم نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبداﷲ  بن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اس ظالم کی فوجوں کا بھی مقابلہ کیا تو اس خوں ریز جنگ کے وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں اپنے فرزند کا حوصلہ بڑھاتی رہیں یہاں تک کہ جب عبداﷲ بن زبیر کو شہید کر کے حجاج بن یوسف نے ان کی مقدس لاش کو سولی پر لٹکا دیا اور اس ظالم نے مجبور کر دیا کہ بی بی اسماء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاچل کر اپنے بیٹے کی لاش کو سولی پر لٹکی ہوئی دیکھیں تو آپ اپنے بیٹے کی لاش کے پاس تشریف لے گئیں جب لاش کو سولی پر دیکھا تو نہ روئیں نہ بلبلائیں بلکہ نہایت جرأ ت کے ساتھ فرمایا کہ سب سوار تو گھوڑوں سے اتر گئے لیکن اب تک یہ سوار گھوڑے سے نہیں اترا پھر فرمایا! کہ اے حجاج! تونے میرے بیٹے کی دنیا خراب کی اور اس نے تیرے دین کو برباد کر دیا ’’اس واقعہ کے بعد بھی چند دنوں حضرت اسماء زندہ رہیں مکہ مکرمہ کے قبرستان میں ماں بیٹے دونوں کی مقدس قبریں ایک دوسرے کے برابر بنی ہوئی ہیں جن کو نجدیوں نے توڑ پھوڑ ڈالا ہے مگر ابھی نشان باقی ہے اور ۱۹۵۹ء میں ان دونوں مزاروں کی زیارت میں نے کی ہے رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما۔  

 



Total Pages: 188

Go To