Book Name:Jannati Zevar

تم اس کے زیور بنوا لو امام واقدی نے ان کا ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت اسماء بنت مخرمہ مدینہ منورہ میں عطر بیچا کرتی تھی وہ عطر لے کر حضرت ربیع بنت معوذ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما کے پاس آئی اور کہا کہ تم اس شخص کی بیٹی ہو جس نے اپنے سردار یعنی ابوجہل کو قتل کر دیا؟ تو انہوں نے تڑپ کر جواب دیا میں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے اپنے غلام یعنی ابو جہل کو قتل کر دیا یہ جواب سن کر عطر بیچنے والی عورت جھلا گئی اور کہا کہ مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے ہاتھ اپنا عطر بیچوں تو حضرت ربیع نے بھی جوش میں آکر یہ کہہ دیا کہ مجھ پر حرام ہے کہ میں تیرا عطر خریدوں تیرے عطر سے تو بدبودار میں نے کسی کا عطر ہی نہیں پایا حضرت ربیع کہتی ہیں اس کا عطر بدبودار نہیں تھا مگر میں نے اس کو جلانے کے لئے اس کے عطر کو بدبودار کہہ دیا تھا کیونکہ وہ ابوجہل کی مداح تھی۔

 (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الرّاء ۳۳۷۰، الربیع بنت معوّذ، ج۴، ص۳۹۶)

تبصرہ : ۔حضرت ربیع بنت معوذ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما کی جرأ ت ایمانی دیکھو کہ ابوجہل کو سردار کہنے والی عورت کو اس کے منہ پر کیسا دندان شکن جواب دیا کہ اس کا منہ بند ہوگیا اور وہ لاجواب ہوگئی اور بلا شبہ جو کچھ کہا وہ حق ہی کہا ابو جہل ہرگز ہرگز کسی مسلمان کا سردار نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہر مسلمان کا غلام بلکہ غلام سے بھی ہزاروں درجے بدتر اور کمتر ہے۔

    مسلمان بیبیو! کاش تم بھی اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دشمنوں سے ایسی ہی عداوت اور نفرت رکھو تاکہ تم سنت صحابہ پر عمل کر کے ثواب دارین کی دولت سے مالا مال ہو جاؤ۔

(۳۱)حضرت ام سَلِیْط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ مدینہ منورہ کی ایک انصاریہ عورت ہیں بڑی بہادر اور اسلام پر جان دینے والی صحابیہ ہیں حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاپنی خلافت کے زمانے میں مدینہ کی عورتوں کے درمیان چادریں تقسیم کر رہے تھے کہ ایک بہت ہی عمدہ چادر بچ گئی تو آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ یہ چادر میں کس کو دوں ؟  تو لوگوں نے کہا کہ یہ چادر آپ حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی صاحبزادی بی بی ام کلثوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو دے دیجئے جو آپ کی بیوی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں ہر گز ہرگز نہیں میں یہ چادر ام کلثوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو نہیں دوں گا بلکہ میری نظر میں اس چادر کی حقدار بی بی ام سلیط رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاہیں خدا کی قسم میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جنگ احد کے دن یہ اور ام المومنین بی بی عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَادونوں اپنے کندھوں پر مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور مجاہدین اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور پھر ام سلیط رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاان خوش نصیب عورتوں میں سے ہیں جو رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بیعت کر چکی ہیں حضرت امیر المومنین عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے یہ فرما کر وہ چادر حضرت ام سلیط رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو عطا فرمادی ۔(صحیح البخاری، کتاب الجہاد، والسیر، باب حمل النساء القرب الی الناس، رقم۲۸۸۱، ج۲، ص۲۷۶)

(۳۲)حضرت حولاء بنت تُوَ یْت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ خاندان قریش کی ایک باوقار عورت ہیں شرف صحابیت پایا اور ہجرت کی فضیلت بھی ان کو ملی یہ بہت ہی عبادت گزار صحابیہ ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ رات بھر جاگ کر عبادت کرتی تھیں ان کا یہ حال سن کر حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ سن لو اﷲ   تَعَالٰی نہیں اکتائے گا بلکہ تمہیں لوگ اکتا جاؤ گے اس لئے تم لوگ اتنے ہی اعمال کرو جتنے اعمال کی تم طاقت رکھتے ہو اپنی طاقت سے زیادہ کوئی عمل مت کیا کرو۔

        حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حولاء بنت تویت نے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو مکان کے اندر آنے کی اجازت عطا فرمائی اور جب یہ گھر میں آئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی طرف بہت خصوصی توجہ فرمائی اور ان کی مزاج پرسی فرمائی حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ان پر اس قدر زیادہ توجہ فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ توآپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ یہ حضرت خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ) کے زمانے میں بھی ہمارے گھر بہت زیادہ آیاجایا کرتی تھیں اور پرانے ملاقاتیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ ایمانی خصلت ہے ۔

      (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الحاء ۳۳۴۲، الحولاء بنت تویت، ج۴، ص۳۷۷)

تبصرہ : ۔اے اسلامی بہنو! حضرت حولاء بنت تویت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی عبادت اور اپنی مرحومہ بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اچھے برتاؤ سے سبق سیکھو اﷲ   تَعَالٰی تم پر اپنا فضل فرمائے (آمین)

(۳۳)حضرت اسماء بنت عُمَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی صحابیہ اور رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر جان چھڑ کنے والی عورت ہیں مکہ میں جب کافروں نے مسلمانوں کو بے حد ستانا شروع کیا تو رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا چنانچہ جب لوگوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے بھی اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ حبشہ کا سفر کیا اور جب رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حبشہ کے مہاجرین حبشہ سے مدینہ منورہ چلے آئے جب بی بی اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَابارگاہ رسالتصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں حاضر ہوئیں تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو صاحبۃالہجرتین (دو ہجرت والی) کے لقب سے سرفراز فرمایا اور اجر عظیم کی بشارت دی  ۔

         (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الالف۳۲۶۴، أسماء بنت عمیس، ج۴، ص۳۴۷)

(۳۴)حضرت ام رومان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بیوی ہیں اور حضرت عائشہ اور حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر کی ماں ہیں ان کی شکل و صورت اور ان کی بہترین عادتوں اور خصلتوں کی بنا پر حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں اگر کسی کو حور دیکھنے کی خواہش ہو تو وہ ام رومان کو دیکھ لے کہ وہ جمال صورت اور حسن سیرت میں بالکل جنت کی حور جیسی ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان پر بڑا خاص کرم فرمایا کرتے تھے ۶ھ میں جب حضرت ام رومان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا انتقال ہوا تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کی قبر میں اترے اور اپنے دست مبارک سے ان کو سپرد خاک فرمایا اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ یا اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! ام رومان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے تیرے اور تیرے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ بہترین سلوک کیا



Total Pages: 188

Go To