Book Name:Jannati Zevar

کمال ادب اور محبت کے ساتھ دیکھ کر زبان حال سے بھرے مجمعوں میں یہ کہا کرتے تھے کہ۔

بدر اچھا ہے فلک پر نہ ہلال اچھا ہے

چشم بینا ہو تو دونوں سے بلال اچھا ہے

(۲۱)حضرت بی بی نَہدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی لونڈی تھیں مگر اسلام لانے پر کافروں نے ان کے ساتھ کیسے کیسے ظالمانہ سلوک کئے اس کی تصویر کھینچنے سے قلم کا سینہ شق ہو جاتا ہے اور ہاتھ کانپنے لگتے ہیں لیکن یہ اﷲ  والی بڑی بڑی مار دھاڑ کو برداشت کرتی رہی اور مصیبتیں جھیلتی رہی مگر اسلام سے بال بھر بھی اس کے قدم کبھی بھی نہیں ڈگمگائے یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ اسلام کو ڈھانے والے خود اسلام کے معمار بن گئے اور اسلام کے خون کے پیاسے اپنے خونوں سے اسلام کے باغ کوسینچ سینچ کر سرخرو بننے لگے ۔ (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، رقم۱۲۱۶۳، اُمّ عبیس، ج۸، ص۴۳۴)

(۲۲)حضرت بی بی اُمّ عُبَیْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        حضرت بی بی نہدیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی طرح یہ بھی لونڈی تھیں اور ان کو بھی کافروں نے بہت ستایا بے حد ظلم و ستم کیا لوہا گرم کر کے ان کے بدن کے نازک حصوں پر داغ لگایا کرتے تھے کبھی پانی میں اس قدر ڈبکیاں دیا کرتے تھے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا تھا مار پیٹ کا تو پوچھنا ہی کیا وہ تو ان کافروں کا روزانہ ہی کا محبوب مشغلہ تھا آخر پیارے رسول مصطفیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے یار غار صدیق جاں نثار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اپنا خزانہ خالی کر کے ان مظلوموں کو خرید خرید کر آزاد کر دیا تو ان مصیبت کے ماروں کو کچھ آرام ملا۔      (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، رقم۱۲۱۶۳، اُمّ عبیس، ج۸، ص۴۳۴)

(۲۳)حضرت زِنّیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے گھرانے کی ایک لونڈی تھیں انہوں نے بھی جب اسلام قبول کر لیا تو سارا گھر ان کی جان کا دشمن ہو گیا اور ان کافروں نے اتنا مارا کہ ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تو کافر ان کو یہ طعنہ دینے لگے کہ تو نے ہمارے دیوتاؤں کو چھوڑ دیا تو تیری آنکھیں پھوٹ گئیں اب کہاں ہے تیرا ایک خدا تو کیوں نہیں اس کو بلاتی کہ وہ تیری آنکھوں کو روشن کر دے یہ طعنہ سن کر وہ نہایت جرأت کے ساتھ کہاکرتی تھیں میں جس رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لائی ہوں یقیناً وہ خدا کے سچے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں اور میرا ایک خدا اگر چاہے گا تو ضرور میری آنکھیں روشن ہو جائیں گی اورتمہارے سیکڑوں دیوتا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ایک دن رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کافروں کا یہ طعنہ سنا تو فرمایا کہ اے زنیرہ! تو صبر کر پھر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دعا فرمادی تو ان کی آنکھوں میں ایک دم روشنی آگئی یہ معجزہ دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ یہ تو محمد(صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کاجادو ہے وہ رسول نہیں ہیں بلکہ وہ تو عرب کے سب سے بڑے جادوگر ہیں (معاذاﷲ )۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان کو خرید کر آزاد کر دیا ۔(الاستیعاب، باب النساء ، با ب الزای ۳۳۸۸، زنیرۃ مولاۃ ابی بکر الصدیق، ج۴، ص۴۰۶)

تبصرہ : ۔اے مسلمان ماؤں بہنو! تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ حضرت لبینہ و حضرت نہدیہ و حضرت ام عبیس و حضرت زنیرہ وغیرہ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہن کی جاں سوزو دل دوز حکایتوں کو بغور اور بار بار پڑھو اور سوچو کہ ان اﷲ  والیوں نے اسلام کیلئے کیسی کیسی مصیبتیں اٹھائیں مگر ایک سیکنڈ کے لئے بھی اسلام سے ان کے قدم نہیں ڈگمگائے ایک تم ہو کہ ذرا کوئی تکلیف پہنچی تو تم گھبرا کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتی ہو اور خدا و رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شان میں ناشکری کے الفاظ بولنے لگتی ہو اور ذرا کافروں نے دھونس دی تو تم کافروں کی بولیاں بولنے لگتی ہو خدا کے لئے اے مسلمان مرد و اور اے مسلمان عورتو! تم ان اللہ  کی مقدس بندیوں کا کردار پیش کرو کہ اپنے ایمان و اسلام پر اتنی مضبوطی کے ساتھ قائم رہو کہ تمہیں دیکھ کر کافروں کی دنیا پکار اٹھے کہ۔

بنائے آسمان بھی اس ستم پر ڈگمگائے گی

    مگر مومن کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئے گی   

        (۲۴)حضرت حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ وہ مقدس اور خوش نصیب عورت ہیں کہ انہوں نے ہمارے رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو دودھ پلایا ہے جب رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مکہ فتح ہو جانے کے بعد طائف کے شہر پر جہاد فرمایا اس وقت حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَااپنے شوہر اور بیٹے کو لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں تو رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے لئے اپنی چادر مبارک کو زمین پر بچھا کر ان کو اس پر بٹھایا اور انعام و اکرام سے بھی نوازا اور یہ سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔  (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الحاء ۳۳۳۶، حلیمۃ السعدیۃ، ج۴، ص۳۷۴)

 حضرت بی بی حلیمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی قبر انور مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے اندر ہے۔

تبصرہ : ۔۱۹۵۹ء میں جب میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا اور جنت البقیع کے مزارات مقدسہ کی زیارتوں کے لئے گیا تو دیکھ کر قلب و دماغ پر رنج و غم اور صدمات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کہ ظالم نجدی وہابیوں نے تمام مزارات کو توڑ پھوڑ کر اور قبوں کو گرا کر پھینک دیا ہے صرف ٹوٹی پھوٹی قبروں پر چند پتھروں کے ٹکڑے پڑے ہوئے ہیں اور صفائی ستھرائی کا بھی کوئی اہتمام نہیں ہے بہر حال سب مقدس قبروں کی زیارت کرتے ہوئے جب میں حضرت بی بی حلیمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی قبر انور کے سامنے کھڑا ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جنت البقیع کی کسی قبر پر میں نے کوئی گھاس اور سبزہ نہیں دیکھا لیکن حضرت بی بی حلیمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی قبر شریف کو دیکھا کہ بہت ہی ہری اور شاداب گھاسوں سے پوری قبر چھپی ہوئی ہے میں حیرت سے دیر تک اس منظر کو دیکھتا رہا آخر میں نے اپنے گجراتی ساتھیوں سے کہا کہ لوگو! بتاؤ تم لوگوں نے جنت البقیع کی کسی قبر پر بھی گھاس جمی ہوئی دیکھی؟ لوگوں نے کہا کہ ’’جی نہیں ‘‘ میں نے کہا کہ حضرت بی بی حلیمہ کی قبر کو دیکھو کہ کیسی ہری ہری گھاس سے یہ قبر سر سبز و شاداب ہورہی ہے لوگوں نے کہا کہ ’’جی ہاں بے شک‘‘ پھر میں نے کہا کہ کیا اس کی کوئی وجہ تم لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی نہیں آپ ہی بتایئے تو میں نے کہہ دیا کہ اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ انہوں نے حضور رحمۃ للعالمینصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنا دودھ پلا پلا کر سیراب کیا تھا تو رب العلمین نے اپنی رحمت کے پانیوں سے ان کی



Total Pages: 188

Go To