Book Name:Jannati Zevar

        ’’یااﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط فرمادے‘‘۔

        اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ ملک شام کے راستہ میں یہ قافلہ کے بیچ میں سویا تھا اور ابو لہب قافلہ والوں کے ساتھ پہرہ دے رہا تھا مگر اچانک ایک شیر آیا اور عتیبہ کے سر کو چبا گیا اور وہ مرگیا حضرت بی بی رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات کے بعد حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ۳ھ میں حضرت ام کلثوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا نکاح حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ کر دیا مگر ان کے شکم مبارک سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ۹ھ میں حضرت ام کلثوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات ہوئی حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں ان کو دفن فرمایا۔ (شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج۴، ص۳۲۵۔۳۲۷)

(۱۵)حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضورشہنشاہ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ چہیتی اور لاڈلی شہزادی ہیں ان کا نام فاطمہ اور لقب زہرا و بتول ہے اﷲ اکبر! ان کے فضائل اور مناقب اور ان کے درجات و مراتب کا کیا کہنا حدیثوں میں بکثرت ان کے فضائل اور بزرگیوں کا ذکر ہے جن کو مفصل ہم نے اپنی کتاب ’’حقانی تقریریں ‘‘ میں لکھا ہے ۲ھ میں حضرت علی شیر خدا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ان کا نکاح ہوا اور ان کے شکم مبارک سے تین صاحبزادگان حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت محسن اور تین صاحبزادیاں زینب ام کلثوم و رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمو عنہن پیدا ہوئیں حضرت محسن و رقیہ تو بچپن ہی میں وفات پا گئے حضرت ام کلثوم کی شادی امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی جن کے شکم مبارک سے ایک فرزند حضرت زید اور ایک صاحبزادی حضرت رقیہ کی پیدائش ہوئی اور حضرت زینب کی شادی حضرت عبد اﷲ  بن جعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی جن کے فرزند عون و محمد کربلا میں شہید ہوئے حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وصال کے چھ مہینے بعد ۳رمضان ۱۱ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں  ۔

(شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج۴، ص۳۳۱، ۳۳۳، ۳۳۹۔۳۴۲)

(۱۶)حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہمارے رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پھوپھی اور جنتی صحابی حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ ہیں یہ بہت شیر دل اور بہادر خاتون ہیں جنگ خندق کے موقع پر تمام مجاہدین اسلام کفار کے مقابلہ میں صف بندی کر کے کھڑے تھے اور ایک محفوظ مقام پر سب عورتوں بچوں کو ایک پرانے قلعہ میں جمع کر دیا گیا تھا اچانک ایک یہودی تلوار لے کر قلعہ کی دیوار پھاندتے ہوئے عورتوں کی طرف بڑھا اس موقع پر حضرت صفیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَااکیلی اس یہودی پر جھپٹ کر پہنچیں اور خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس زور سے اس یہودی کے سر پر ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ تلوار لئے ہوئے چکرا کر گرا اور مرگیا پھر اسی کی تلوار سے اس کا سر کاٹ کر باہر پھینک دیا یہ دیکھ کر جتنے یہودی عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے قلعہ کے باہر کھڑے تھے بھاگ نکلے اسی طرح جنگ احد میں جب مسلمانوں کا لشکر بکھر گیا یہ اکیلی کفار پر نیزہ چلاتی رہیں یہاں تک کہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ان کی بے پناہ بہادری پر سخت تعجب ہوا اور آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے فرزند حضرت زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ اے زبیررضی اﷲ   تَعَالٰی عنہ! اپنی ماں اور میری پھوپھی کی بہادری تو دیکھو کہ بڑے بڑے بہادر بھاگ گئے مگر چٹان کی طرح کفار کے نرغے میں ڈٹی ہوئی اکیلی لڑ رہی ہیں اسی طرح جب جنگ احد میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُشہید ہوگئے اور کافروں نے ان کے کان ناک کاٹ کر اور آنکھیں نکال کر شکم چاک کر دیا تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو منع کردیا کہ میری پھوپھی حضرت صفیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو میرے چچا کی لاش پر مت آنے دینا ورنہ وہ اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر رنج و غم میں ڈوب جائیں گی مگر حضرت صفیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاپھر بھی لاش کے پاس پہنچ گئیں اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے اجازت لے کر لاش کو دیکھا تو اناﷲ  وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ میں خدا کی راہ میں اس کو کوئی بڑی قربانی نہیں سمجھتی پھر مغفرت کی دعا مانگتے ہوئے وہاں سے چلی آئیں ۲۰ھ میں تہتر برس کی عمر پاکر مدینہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔ (شرح العلامۃ الزرقانی، ذکر بعض مناقب العباس، ج۴، ص۴۹۰)

(۱۷)ایک انصاریہ عورت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        مدینہ کی ایک عورت جو انصار کے قبیلہ کی تھیں ان کو یہ غلط خبر پہنچی کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجنگ احد میں شہید ہوگئے ہیں تو یہ بے قرار ہو کر گھر سے نکل پڑیں اورمیدان جنگ میں پہنچ گئیں وہاں لوگوں نے ان کو بتایا کہ اے عورت! تیرے باپ اور بھائی اور شوہر تینوں اس جنگ میں شہید ہو گئے یہ سن کر اس نے کہا کہ مجھے یہ بتاؤ میرے پیارے نبی    صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا کیا حال ہے؟ جب لوگوں نے بتایا کہ حضور   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاگرچہ زخمی ہوگئے ہیں مگر الحمد ﷲ کہ زندہ سلامت ہیں  (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، غزوۂ احد، باب شأن المرأۃ الدیناریۃ، ج۳، ص۸۶)تو بے اختیار اس کی زبان سے اس شعر کا مضمون نکل پڑا کہ۔

تسلی  ہے  پناہ  بیکساں  زندہ  سلامت  ہے

کوئی پروا نہیں سارا جہاں زندہ سلامت ہے

        اﷲ اکبر!   ایسی شیر دل اور بہادر عورت کا کیا کہنا؟ باپ اور شوہر اور بھائی تینوں کے قتل ہوجانے سے صدمات کے تین تین پہاڑ دل پر گر پڑے ہیں مگر محبت رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے نشہ میں اس کی مستی کا یہ عالم ہے کہ زبانِ حال سے یہ نعرہ اس کی زبان پر جاری ہے کہ۔  

میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا

اے  شہ دیں تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم

(۱۸)حضرت ام عمارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ جنگ احد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور اپنے دوبیٹوں حضر ت عمارہ اور حضرت عبداﷲ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکو ساتھ لے کر میدان جنگ میں کود پڑیں اور جب کفار نے حضور صَلَّی



Total Pages: 188

Go To