Book Name:Jannati Zevar

چلی جاتی ہیں اور پنا ہ گزینوں کی ایک جھونپڑی میں رہنے لگتی ہیں ۔ پھر بالکل ناگہاں یہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ شوہر جو پردیس کی زمین میں تنہا ایک سہارا تھا۔ عیسائی ہو کر الگ تھلگ ہوگیا اور کوئی دوسرا سہارا نہ رہ گیا مگر ایسے نازک اور خطرناک وقت میں بھی ذرا بھی ان کا قدم نہیں ڈگمگایا اور پہاڑ کی طرح دین اسلام پر قائم رہیں ۔ اک ذرا بھی ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا نہ انہوں نے اپنے کافر باپ کو یاد کیا نہ اپنے کافر بھائیوں بھتیجوں سے کوئی مدد طلب کی خدا پر توکل کر کے ایک نامانوس پردیس کی زمین میں پڑی خدا کی عبادت میں لگی رہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم اور رحمت للعالمین کی رحمت نے ان کی دستگیری کی اور بالکل اچانک خداوند قدوس نے ان کو اپنے محبوب کی محبوبہ بی بی اور ساری امت کی ماں بنا دیا کہ قیامت تک ساری دنیا ان کو      ام المومنین (مومنوں کی ماں ) کہہ کر پکارتی رہے گی اور قیامت میں بھی ساری خدائی خدا کے اس فضل و کرم کا تماشا دیکھے گی۔

        اے مسلمان عورتو! دیکھو ایمان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے اور خدا پر توکل کرنے کا پھل کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے؟ اور یہ تو دنیا میں اجر ملا ہے ابھی آخرت میں ان کو کیا کیا اجر ملے گا؟ اور کیسے کیسے درجات کی بادشاہی ملے گی؟ اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہم لوگ تو ان درجوں اور مرتبوں کی بلندی و عظمت کو سوچ بھی نہیں سکتے اﷲ  اکبر! اﷲ اکبر۔

(۷)حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پھوپھی اُمیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی ہیں حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے اپنے آزاد کردہ غلام اور متبنی حضرت زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کر دیا لیکن خدا کی شان کہ میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکا اور حضرت زید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان کو طلاق دے دی جب ان کی عدت گزر گئی تو اچانک ایک دن یہ آیت اتر پڑی کہ۔

فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا (پ۲۲، الاحزاب : ۳۷)   

ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی۔

        اس آیت کے نزول ہونے پررسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جاکر اس کو یہ خوشخبری سنا دے کہ اﷲ   تَعَالٰی نے میرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا یہ سن کر ایک خادمہ دوڑی ہوئی گئی اور حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو یہ خوشخبری سنا دی حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو یہ خوش خبری سن کر اتنی خوشی ہوئی کہ اپنے زیورات اتار کر خادمہ کو انعام میں دے دئے اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور پھر دو ماہ لگاتار شکریہ کا روزہ رکھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے ساتھ نکاح کرنے پر اتنی بڑی دعوت ولیمہ فرمائی کہ کسی بیوی کے نکاح پر اتنی بڑی دعوت ولیمہ نہیں کی تھی تمام صحابہ کرام علیھم الرضوان کو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے نان گوشت کھلایا۔

 (شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت زینب بنت جحش ام المؤمنین رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۴۰۹۔۴۱۲)

        حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بیبیوں میں حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَااس خصوصیت میں سب بیبیوں سے ممتاز ہیں کہ اﷲ   تَعَالٰی نے ان کا نکاح خود اپنے حبیب سے کردیا ان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے ہاتھ سے کچھ دستکاری کر کے اس کی آمدنی فقراء و مساکین کو دیا کرتی تھیں چنانچہ ایک مرتبہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا تھا کہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے میری اس بی بی کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ سب بیبیوں سے لمبے ہیں یہ سن کر سب بیبیوں نے ایک لکڑی سے اپنا اپنا ہاتھ ناپا تو حضرت سودہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا ہاتھ سب سے لمبا نکلا لیکن جب حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وفات اقدس کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات ہوئی تولوگوں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ ہاتھ لمبا ہونے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد کثرت سے صدقہ دینا تھا بہر حال اپنی قسم قسم کی صفات حمیدہ کی بدولت یہ تمام ازواج مطہرات میں خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز تھیں ۲۰ھ یا ۲۱ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ہر کوچہ و بازار میں اعلان کرا دیا تھا کہ سب لوگ ام المومنین کے جنازہ میں شریک ہوں چنانچہ بہت بڑا مجمع ہوا امیر المومنین نے خود ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دوسری بیویوں کے پہلو میں دفن کیا۔

 (شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت زینب بنت جحش ام المؤمنین رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۴۱۳۔۴۱۵)

تبصرہ : ۔حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے کس قدر والہانہ محبت اور عشق تھا کہ انہوں نے اپنے نکاح کی خبر سن کر اپنا سارا زیور خوشخبری سنانے والی لونڈی کو دے دیا اور سجدہ شکر ادا کیا اور خوشی میں دو ماہ لگاتار روزہ دار رہیں پھر ذرا ان کی سخاوت پر بھی ایک نظر ڈالو کہ شہنشاہ دارین کی ملکہ ہو کر اپنے ہاتھ کی دستکاری سے جو کچھ کمایا کرتی تھیں وہ فقراء ومساکین کو دے دیا کرتی تھیں اور صرف اسی لئے محنت و مشقت کرتی تھیں کہ فقیروں اور محتاجوں کی امداد کریں اﷲ  اکبر محبت رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور مسکین نوازی و غریب پروری کے یہ جذبات تمام مسلمان عورتوں کے لئے نصیحت آموز و قابل تقلید شاہکار ہیں خداوند کریم سب عورتوں کو توفیق عطا فرمائے (آمین)

(۸)حضرت زینب بنت خزیمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بچپن ہی سے بہت سخی تھیں غریبوں اور مسکینوں کو ڈھونڈ ڈھونڈکر کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے لوگ ان کو ’’ام المساکین‘‘ (مسکینوں کی ماں ) کہا کرتے تھے پہلے مشہور صحابی حضرت عبداﷲ  بن جحش رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ان کا نکاح ہوا تھا لیکن جب وہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ۳ھ میں ان سے نکاح کر لیا اور یہ ’’ام المساکین‘‘ کی جگہ ’’ام المومنین‘‘ کہلانے لگیں مگر یہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے نکاح کے بعد صرف دو یا تین مہینے زندہ رہیں اور ربیع الاول ۴ھ میں بمقام مدینہ منورہ وفات پاگئیں اور جنت البقیع میں ازواج مطہرات کے پہلو میں مدفون ہوئیں حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کی وفات تک ان سے بے حد خوش رہے اور ان کی وفات کا قلب نازک پر بڑا صدمہ گزرا یہ ماں کی جانب سے حضرت ام المومنین بی بی میمونہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن ہیں ان کی وفات کے بعد حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی بہن میمونہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاسے نکاح فرمایا۔

(شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت زینب ام المساکین و المؤمنین ، ج۴، ص۴۱۶۔۴۱۷)

(۹)حضرت میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        ان کے والد کا نام حارث بن حزن اور والدہ ہند بنت عوف ہیں پہلے ان کانام ’’برہ‘‘ تھا مگر جب یہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے نکاح میں آگئیں تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کانام



Total Pages: 188

Go To