Book Name:Jannati Zevar

مجھے اولاد عطا فرمائی۔(شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، حضرت خدیجہ ام المؤمنین رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۳۶۳ والاستیعاب ، کتاب النساء ۳۳۴۷، خدیجہ بنت خویلد، ج۴، ص۳۷۹)

        اس بات پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتدائِ اسلام میں جب کہ ہر طرف آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر قربان ہورہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔

       ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ فرعون کی بیوی تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہن۔

         ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض  کیا کہ اے محمد (صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاہیں جو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب  عَزَّ وَجَلَّ  کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی۔  (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی اللہ  علیہ وسلم خدیجۃ، رقم ۳۸۲۰، ج۲، ص۵۶۵)

        سرکار دو جہاں صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی محبت آخرِ عمر تک حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَباربار حضرت بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا ذکر فرماتے رہتے تھے ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَگزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا انتقال ہوگیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس سال کا نام ’’عام الحزن‘‘ (غم کا سال) رکھ دیا۔

تبصرہ : ۔حضرت اُم المومنین بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی مقدس زندگی سے ماں بہنوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے کہ انہوں نے کیسے کٹھن اور مشقت کے دور میں حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا اور سینہ سپر ہو کر تمام مصائب و مشکلات کا مقابلہ کیا اور پہاڑ کی طرح ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہیں اور مصائب و آلام کے طوفان میں نہایت ہی جاں نثاری کے ساتھ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دلجوئی اور تسکین قلب کا سامان کرتی رہیں اور ان کی ان قربانیوں کا دنیا ہی میں ان کو یہ صلہ ملا کہ رب العلمین کا سلام ان کے نام لے کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوا کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ مشکلات و پریشانیوں میں اپنے شوہر کی دلجوئیاں اور تسلی دینے کی عادت خدا کے نزدیک محبوب و پسندیدہ خصلت ہے لیکن افسوس کہ اس زمانے میں مسلمان عورتیں اپنے شوہروں کی دلجوئی تو کہاں ؟ الٹے اپنے شوہروں کو پریشان کرتی رہتی ہیں کبھی طرح طرح کی فرمائشیں کر کے کبھی جھگڑا تکرار کر کے کبھی غصہ میں منہ پھلا کر۔

        اسلامی بہنو! تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اپنے شوہروں کا دل نہ دکھاؤ اوران کو پریشانیوں میں نہ ڈالا کرو بلکہ آڑے وقتوں میں اپنے شوہروں کو تسلی دے کر ان کی دلجوئی کیا کرو۔

(۲)حضرت سودہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہمارے حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مقدس بیوی اور تمام امت کی ماں ہیں ان کے باپ کا نام ’’زمعہ‘‘ اور ماں کانام ’’شموس بنت عمرو‘‘ ہے یہ بھی قریش خاندان کی بہت ہی نامور اور معزز عورت ہیں یہ پہلے اپنے چچا زاد بھائی ’’سکران بن عمرو‘‘ سے بیاہی گئی تھیں اور اسلام کی شروعات ہی میں یہ دونوں میاں بیوی مسلمان ہوگئے تھے لیکن جب حبشہ سے واپس ہو کر دونوں میاں بیوی مکہ مکرمہ میں آکر رہنے لگے تو ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے انتقال کے بعد رات دن مغموم رہا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت خولہ بنت حکیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے بارگاہ رسالتصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! حضرت سودہ بنت زمعہ سے نکاح فرمالیں تاکہ آپ کا خانہ معیشت آباد ہو جائے حضرت سودہ بہت ہی دین دار اور سلیقہ شعار خاتون ہیں اور بے حد خدمت گزار بھی ہیں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت خولہ کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا چنانچہ حضرت خولہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے حضرت سودہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے باپ سے بات چیت کر کے نسبت طے کرا دی اور نکاح ہوگیا اور یہ عمر بھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجیت کے شرف سے سرفراز رہیں اور جس والہانہ محبت و عقیدت کے ساتھ وفاداری و خدمت گزاری کا حق ادا کیا وہ ان کا بہت ہی شاندار کارنامہ ہے حضرت بی بی عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے ساتھ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت کو دیکھ کر انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا تھا حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَافرمایا کرتی تھیں کہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھ کو یہ حرص نہیں ہوتی تھی کہ میں بھی ویسی ہی ہوتی مگر میں حضرت سودہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے جمال صورت و حسن سیرت کو دیکھ کر یہ تمنا کیا کرتی تھی کی کاش میں بھی حضرت سودہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاجیسی ہوتی یہ اپنی دوسری خوبیوں کے ساتھ بہت فیاض اور اعلیٰ درجے کی سخی تھیں ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی خلافت کے زمانے میں درہموں سے بھرا ہوا ایک تھیلا حضرت بی بی سودہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس بھیج دیا انہوں نے اس تھیلے کو دیکھ کر کہا کہ واہ بھلا کھجوروں کے تھیلے میں کہیں درہم بھیجے جاتے ہیں ؟ یہ کہا اور اٹھ کر اسی وقت ان تمام درہموں کو مدینہ منورہ کے فقراء و مساکین کو گھر میں بلا کر بانٹ دیا اور تھیلا خالی کر دیا امام بخاری اور امام ذہبی کا قول ہے کہ ۳۳ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی لیکن  واقدی اور صاحب اکمال کے نزدیک ان کی وفات کا سال ۵۴ھ ہے مگر علامہ ابن حجر عسقلانی نے تقریب التہذیب میں ان کی وفات کا سال ۵۵ھ شوال کا مہینہ لکھا ہے ان کی قبر منور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں ہے۔

      (شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب ، حضرت سودۃ ام المؤمنین، ج۴، ص۳۷۷)

 



Total Pages: 188

Go To