Book Name:Jannati Zevar

کونڈوں کی فاتحہ ہوتی ہے وہیں کھلاتے ہیں وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے یہ پابندی غلط اور بے جا ہے مگر یہ جاہلوں کا طریقہ عمل ہے پڑھے لکھے لوگوں میں یہ پابندی نہیں اسی طرح کونڈوں کی فاتحہ کے وقت ایک کتاب ’’داستان عجیب‘‘ لوگ پڑھتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں لہٰذا اس کو نہیں پڑھنا چاہئے مگر فاتحہ دلانا چاہئے کہ یہ جائز اور ثواب کا کام ہے۔

        اسی طرح حضرت غوث اعظم رحمہ اﷲ  و حضرت معین الدین چشتی رحمہ اﷲ  حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند رحمہ اﷲ  حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمہ اﷲ  وغیرہ تمام بزرگان دین کی فاتحہ دلانا جائز اور ثواب کا کام ہے جو لوگ ان بزرگوں کی فاتحہ سے منع کرتے ہیں وہ درحقیقت ان بزرگوں کے دشمن ہیں لہٰذا ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے نہ ان لوگوں سے میل جول رکھنا چاہئے بلکہ نہایت مضبوطی کے ساتھ اپنے مذہب اہل سنت و جماعت پر قائم رہنا چاہئے کہ یہی مذہب حق ہے اور اس کے سوا جتنے فرقے ہیں وہ سب صراط مستقیم سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں خداوند کریم سب کو اہل سنت و جماعت کے مذہب پر قائم رکھے اور اسی مذہب پر خاتمہ بالخیر فرمائے۔

 آمین یا رب العلمین بحرمۃ النبی الامین وآلہ واصحابہ اجمعین۔

فاتحہ کا طریقہ

        پہلے تین بار درود شریف پڑھے پھر کم سے کم چاروں قل سورئہ فاتحہ اور الٓم سے مُفْلِحُوْنَ تک پڑھے اس کے بعد پڑھے وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہُٗ وَاحِدُٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اور اِنَّ رَحْمَتَ اﷲ  قَرِیْبُٗ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ  وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ   مَاکَانَ مُحَمَّدُٗ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَا لِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اﷲ  وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَ کَانَ اﷲ  بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا  اِنَّ اﷲ  وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاصَلُّوْاعَلَیْہِ وَسَلِّمُوْ ا تَسْلِیْمًا       

        اب تین بار درود شریف پڑھے۔

        اور سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر بارگاہ الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ  میں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کرے یا اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! ہم نے جو کچھ درود شریف پڑھا ہے اور قرآن مجید کی آیتیں تلاوت کی ہیں ان کو قبول فرما اور ان کا ثواب (اگر کھانا یا شیرینی بھی ہو تو اتنا اور کہے کہ اس کھانے اور شیرینی کا ثواب) ہماری جانب سے حضور سرور کائناتصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو نذر پہنچا دے پھر آپ کے وسیلہ سے تمام انبیائے کرام علیہم السلام و صحابہ عظام و ازواج مطہرات و اہل بیت اطہار و شہدائے کربلا اور تمام اولیاء وعلماء و صلحاء وشہداء کو عطا فرما (پھر اگر کسی خاص بزرگ کو ایصال ثواب کرنا ہو تو ان کا نام خصوصیت کے ساتھ لے مثلاً یوں کہے کہ خصوصاً حضرت غوث پاک رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکو نذر پہنچا دے) اور جملہ مومنین و مومنات کی ارواح کو ثواب عطا فرما اور کسی عام آدمی کو ایصال ثواب کرنا ہو تو اس کا ذکر خصوصیت سے کرے مثلاً یوں کہے کہ خصوصاً ہمارے والد یا والدہ کی روح کو ثواب پہنچا دے۔

آمین یا رب العلمین وَ صَلّی اﷲ  عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن   بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِّیْن۔   

 (۷)تذکرۂ صالحات

چند نیک عورتوں کا حال

یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا

اسی غیرت سے انساں نور کے سانچے میں ڈھلتا تھا

       جہاں تک مسائل اور اسلامی عادات و خصائل کا تعلق ہے اس کے بارے میں ہم ایک حد تک کافی لکھ چکے اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ چند خواتین اسلام یعنی ان مقدس بیبیوں کا مختصر تذکرہ بھی تحریر کر دیں جو تاریخ اسلام میں صالحات (نیک بیبیوں ) کے لقب سے مشہور ہیں تاکہ آج کل کی ماؤں بہنوں کو ان کے واقعات اور ان کی مقدس زندگی کے مبارک حالات سے عبرت و نصیحت حاصل ہواور یہ ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگی سنوار لیں اور دنیا و آخرت کی نیک نامیوں سے سرخرو و سر بلند ہو جائیں ان قابل احترام خواتین کی لذیذ حکایتوں کو ہم رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مقدس بیبیوں کے ذکر جمیل سے شروع کرتے ہیں جو تمام امت کی مائیں ہیں اور جن کو تمام دنیا کی عورتوں میں یہ خصوصی شرف ملا ہے کہ انہیں بستر نبوت پر سونا نصیب ہوا اور وہ دن رات محبوب خداصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت اور ان کی خدمت و صحبت کے انوار و برکات سے سرفراز ہوتی رہیں اور جن کی فضیلت و عظمت کا خطبہ پڑھتے ہوئے قرآن عظیم نے قیامت تک کے لئے یہ اعلان فرما دیا۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ (پ۲۲، الاحزاب : ۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے نبی کی بیبیو!تم اورعورتوں کی طرح نہیں ہو۔   

(۱)حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

    یہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں یہ خاندان قریش کی بہت ہی باوقار و ممتاز خاتون ہیں ان کے والد کا نام خویلد بن اسد اور ان کی ماں کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے پکارا کرتے تھے انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے اخلاق و عادات اور جمال صورت و کمال سیرت کو دیکھ کر خود ہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا یہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بہت ہی جاں نثار اور وفا شعار بیوی ہیں اور حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوب خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سرفراز رہیں حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے اﷲ   تَعَالٰی نے



Total Pages: 188

Go To