Book Name:Jannati Zevar

ایصال ثواب

        یعنی قرآن مجید کی تلاوت یا کلمہ شریف یا نفلی نمازوں یا کسی بھی بدنی یا مالی عبادتوں کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا یہ جائز ہے اسی کو عام طور پر لوگ فاتحہ دینا اور فاتحہ دلانا کہتے ہیں زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے فقہ اور عقائد کی کتابوں مثلاً ہدایہ و شرح عقائد نسفیہ میں اس کا بیان موجود ہے اس کو بدعت اور ناجائز کہنا جہالت اور ہٹ دھرمی ہے حدیث سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہے چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ صحابی  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ کا جب انتقال ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے؟ حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا پانی (بہترین صدقہ ہے تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فرمانے کے مطابق) حضرت سعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے کنواں کھدوا دیا (اور اسے اپنی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے) کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے (یعنی اس کا ثواب اس کی روح کو ملے) (مشکوۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثانی، رقم۱۹۱۲، ج۱، ص۵۲۷)

         اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور وہ کسی بات کی وصیت نہ کر سکی میرا گمان ہے کہ وہ انتقال کے وقت کچھ بول سکتی تو صدقہ ضرور دیتی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا اس کی روح کو ثواب پہنچے گا؟ توآپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ ہاں پہنچے گا۔

 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب وصول ثواب الصدقۃ۔۔۔الخ، رقم۱۰۰۴، ص۵۰۲)

        علامہ نووی رحمۃ اﷲ  علیہ نے اس حدیث کی شرح میں ارشاد فرمایا کہ۔

        ’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر میت کی طرف سے صدقہ دیا جائے تو میت کو اس کا فائدہ اور ثواب پہنچتا ہے اسی پر علماء کا اتفاق ہے‘‘ (شرح صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب وصول ثواب الصدقۃ۔۔۔الخ، ج۱، ص۳۲۴)

        اس کے علاوہ ان حدیثوں سے مندرجہ ذیل مسائل بھی نہایت ہی واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں ۔

(۱)میت کے ایصال ثواب کے لئے پانی بہترین صدقہ ہے کہ کنواں کھدوا کر یا نل لگوا کر یا سبیل لگا کر اس کا ثواب میت کو بخشا جائے۔

(۲)میت کو کسی کار خیر کا ثواب بخشنا بہتر اور اچھا کام ہے چنانچہ تفسیر عزیزی پارہ عم ص۱۱۳ پر ہے کہ۔

        ’’مردہ ایک ڈوبنے والے کی طرح کسی فریاد رس کے انتظار میں رہتا ہے ایسے وقت میں صدقات اور دعائیں اور فاتحہ اس کے بہت کام آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک سال تک خصوصاً موت کے بعد ایک چلہ تک میت کو اس قسم کی امداد پہنچانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں ‘‘۔

(۳)ثواب بخشنے کے الفاظ زبان سے ادا کرنا صحابہ علیھم الرضوان کی سنت ہے۔

(۴)کھانا شیرینی وغیرہ سامنے رکھ کر فاتحہ دینا جائز ہے اس لئے کہ حضرت سعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اشارہ قریب کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا ھذہ لام سعد یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے یعنی اے اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! اس کنوئیں کے پانی کا ثواب میری ماں کو عطا فرما اس سے معلوم ہوا کہ کنواں ان کے سامنے تھا۔

(۵)غریب‘مسکین کو کھانا وغیرہ دینے سے پہلے بھی فاتحہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت سعد نے کیا کہ کنواں تیار ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے ثواب بخش دیا حالانکہ لوگوں کے پانی استعمال کرنے کے بعد ثواب ملے گا اسی طرح اگرچہ غریب مسکین کو کھانا دینے کے بعد ثواب ملے گا لیکن اس ثواب کو پہلے ہی بخش دینا جائز ہے۔

(۶)کسی چیز پر میت کا نام آنے سے وہ چیز حرام نہ ہوگی مثلاً غوث پاک کا بکرا یا غازی میاں کا مرغا کہنے سے بکرا یا مرغا حرام نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت سعد صحابی نے اس کنوئیں کو اپنی مرحومہ ماں کے نام سے منسوب کیا تھا جو آج تک بئر ام سعد ہی کے نام سے مشہور ہے اور دور صحابہ سے آج تک مسلمان اس کا پانی پیتے رہے ہیں اور کوئی بھی اس کا قائل نہیں کہ ام سعد کا نام بول دینے سے کنوئیں کا پانی حرام ہو گیا۔

        بہر حال اس بات پر چاروں اماموں کا اتفاق ہے کہ ایصال ثواب یعنی زندوں کی طرف سے مردوں کو ثواب پہنچانا جائز ہے اب رہیں تخصیصات کہ تیسرے دن ثواب پہنچانا‘چالیسویں دن ثواب پہنچانا۔ تو یہ تخصیصات اور دنوں کی خصوصیات نہ تو شرعی تخصیصات ہیں نہ کوئی بھی ان کو شرعی سمجھتا ہے کیونکہ کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اسی دن ثواب پہنچے گا بلکہ یہ تخصیصات محض عرفی اور رواجی بات ہے جو لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے مقرر کر رکھی ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ انتقال کے بعد ہی سے تلاوت قرآن مجید اور صدقات و خیرات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اکثر لوگوں کے یہاں بہت دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ سنی لوگ تیسرے دن اور چالیسویں دن کے سوا دوسرے دنوں میں ایصال ثواب کو ناجائز مانتے ہیں یہ بہت بڑا افتراء اور شرمناک تہمت ہے جو مخالفین کی طرف سے ہم سنی مسلمانوں پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور خواہ مخواہ تیجہ اور چالیسویں کو حرام کہہ کر مردوں کو ثواب سے محروم کیا جارہا ہے بہر حال جب ہم یہ قاعدہ کلیہ بیان کر چکے ہیں کہ ایصال ثواب اور فاتحہ جائز ہے تو ایصال ثواب کے تمام جزئیات کے احکام اسی قاعدہ کلیہ سے معلوم ہو گئے مثلاً۔

تیجہ کی فاتحہ : ۔مرنے سے تیسرے دن بعد قرآن خوانی اور کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے اور کچھ بتاشے یا چنے یا مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور ان کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے چونکہ یہ ایصال ثواب کا ایک طریقہ ہے اس لئے جائز اور بہتر ہے لہٰذا اس کو کرنا چاہئے۔

چالیسویں اور برسی کی فاتحہ : ۔مرنے کے چالیسویں دن بعد ہی کچھ کھانا پکوا کر فقراء و مساکین کو کھلایا جاتا ہے اور قرآن خوانی بھی کی جاتی ہے اور اس کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے اسی طرح ایک برس پورا ہو جانے کے بعد بھی کھانوں اور تلاوت وغیرہ کا ایصال ثواب کیا جاتا ہے یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں لہٰذا ان کو کرتے رہنا چاہئے۔

شب برأ ت کی فاتحہ : ۔شب برأ ت میں حلوہ پکایا جاتا ہے اور اس پر فاتحہ دلائی جاتی ہے حلوہ پکانا بھی جائز ہے اور اس پر فاتحہ دلانا ایصال ثواب میں داخل ہے لہٰذا یہ بھی جائز ہے۔

کونڈوں کی فاتحہ : ۔رجب کے مہینے میں چاول یا کھیر پکا کر کونڈوں میں رکھتے ہیں اور حضرت جلال الدین بخاری رحمہ اﷲ  کی فاتحہ دلاتے ہیں اسی طرح ماہ رجب میں حضرت امام جعفر صادق رحمہ اﷲ  کو ایصال ثواب کرنے کے لئے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں مگر کونڈوں کی فاتحہ میں جاہلوں کا یہ فعل مذموم اور نری جہالت ہے کہ جہاں



Total Pages: 188

Go To