Book Name:Jannati Zevar

(۳۱)اپنے پیر کے بتائے ہوئے ذکر اور وظیفوں کی پابندی کرے اور اس کی نصیحتوں کو ہر دم پیش نظر رکھے۔

خیر و برکت والی مجلسیں

        مسلمانوں کی وہ مجلسیں جن کے بارے میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ ان مجلسوں میں رحمت کے فرشتے اترتے ہیں اور رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے ان مبارک مجلسوں میں چند یہ ہیں جن میں مسلمانوں کا حاضر ہونا سعادت اور باعث خیر و برکت اور اجر و ثواب کی دولت سے مالا مال ہونے کا ذریعہ ہے۔

(۱)میلاد شریف : ۔اس مجلس میں حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ولادت با سعادت کا بیان اور اسی کے ضمن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فضائل و معجزات اور آپ کی سیرت مبارکہ اور آپ کی مقدس زندگی کے حالات کا ذکر جمیل ہوتا ہے۔ ان چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے اور حدیثوں میں بھی بکثرت ان باتوں کا ذکر ہے اگر مسلمان اپنی محفل میں ان مقدس مضامین کو بیان کریں بلکہ خاص ان باتوں کے بیان کرنے کے لئے محفل منعقد کریں تو اس کے ناجائز ہونے کی بھلا کون سی وجہ ہوسکتی ہے۔ بلا شبہ یقیناً یہ مجلس جائز بلکہ مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے۔ اس مجلس کے لئے لوگوں کو بلانا اور شریک کرنا یقیناً ایک خیر کی طرف بلانا ہے جو ثواب کا کام ہے جس طرح وعظ اور جلسوں کے اعلان کئے جاتے ہیں اور تاریخ مقرر کرکے اشتہار چھاپے جاتے ہیں اور اعلان کر کے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور ان باتوں کی وجہ سے وہ وعظ اور جلسے ناجائز نہیں ہو جاتے اسی طرح میلاد شریف کے لئے بلاوا دینے سے اس مجلس کو ناجائز اور بدعت نہیں کہا جا سکتا۔

        اسی طرح میلاد شریف میں شیرینی بانٹنا بھی جائز ہے۔ مٹھائی بانٹنا مسلمانوں کے ساتھ ایک نیک سلوک اور احسان کرنا ہے جب میلاد شریف کی محفل جائز ہے تو مٹھائی بانٹنا جو ایک جائز اور نیک کام ہے اس محفل کو ناجائز نہیں کردے گا۔ میلاد شریف کی مجلس میں ذکر ولادت کے وقت کھڑے ہو کر صلوۃ و سلام پڑھتے ہیں عرب و عجم کے بڑے بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام نے اس قیام اور صلوۃ و سلام کو مستحب فرمایا ہے اس لئے کھڑے ہو کر سلام پڑھنا یقیناً جائز اور ثواب کا کام ہے بعض اکابر اولیاء کو میلاد شریف کی مجلس پاک میں حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَضرور ہی اس مجلس میلاد شریف میں تشریف لاتے ہیں لیکن اگر وہ اپنے کسی امتی پر اپنا خاص کرم فرمائیں اور تشریف لائیں تو یہ کوئی محال بات بھی نہیں ۔ بہت سے غلاموں کو آقائے نامدار نے نوازا ہے اور اپنے دیدار انور سے مشرف فرماتے رہیں گے کیونکہ اﷲ   تَعَالٰی نے اپنے محبوب کو حیات جاودانی عطا فرمائی ہے اور ان کو بڑی بڑی طاقتوں کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنایا ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلٰی حَبِیْبِکَ سُلْطَانِ الْعٰلَمِیْنَ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الْمُکَرَّمِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَ  

 (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۲۴۵۔۲۴۶)

   

(۲)رجبی شریف : ـ۔۲۶۲۷ رجب کو معراج شریف کا بیان کرنے کے لئے جو جلسہ کیا جاتا ہے اس کو رجبی شریف کی مجلس کہتے ہیں میلاد شریف کی طرح یہ بھی بہت ہی مبارک جلسہ ہے اس جلسہ کو کرنے والے اور حاضرین و سامعین سب ثواب کے مستحق ہیں ظاہر ہے کہ حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فضائل و کما لات اور ان کے معجزات میں سے ایک بہت ہی عظیم الشان معجزہ یعنی معراج جسمانی کا ذکر جمیل کس قدر خداوند جلیل کی رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا باعث ہوگا؟ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اور بڑے سے بڑے اہتمام کے ساتھ اس مجلس خیر و برکت کو منعقد کریں اور ذکر معراج سننے کے لئے کثیر تعداد میں حاضر ہو کر انوار و برکات کی سعادتوں سے سر فراز ہوں اور اس مقدس رات میں نوافل پڑھ کر اور صدقات خیرات کر کے ثواب دارین کی دولتوں سے مالامال ہوں ۔

(۳)گیارہویں شریف : ۔۱۱۔ ۱۲ ربیع الآخر کو حضرت غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کے فضائل و مناقب اور آپ کی کرامات کو بیان کرنے کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا جاتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ صالحین کے ذکر کے وقت رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوا کرتا ہے۔     (کشف الخفائ، حرف العین المھملہ، رقم۱۷۷۰، ج۲، ص۶۵)

 لہٰذا یہ جلسے بھی جائز اور بہت ہی بابرکت ہیں اور بلا شبہ ثواب کے کام ہیں ۔

(۴)سیرت پاک کے اجلاس : ۔ان جلسوں میں حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فضائل اور آپ کی مقدس سیرت اور اتباع سنت و شریعت اور محبت رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا بیان ہوا کرتا ہے میلاد شریف کی طرح یہ جلسے بھی بہت مبارک اور خیر و برکت والے ہیں اور اہل جلسہ حاضرین سب ثواب پاتے ہیں ۔

حلقہ ذکر : ۔صوفیائے کرام‘ اہل طریقت جمع ہو کر اور حلقہ بنا کر کلمہ طیبہ پڑھتے اور اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کرتے ہیں پھر شجرہ شریفہ پڑھ کر پیران کبار کو ایصال ثواب کرتے ہیں ان حلقوں کی فضیلت اور عظمت کا کیا کہنا؟ ان ذکر کے حلقوں کو حدیث میں ’’جنت کا باغ‘‘ کہا گیا ہے۔

        اسی طرح دوسرے صحابہ کرام علیھم الرضوان اور اولیاء عظام علیہ رحمۃ الرحمن کے تذکروں کی مجلسیں منعقد کرنا بھی جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ ان سب جلسوں میں روایات صحیح بیان کی جائیں غیر ذمہ دار لوگوں سے نہ وعظ کہلایا جائے نہ غلط روایتوں کو بیان کیا جائے ورنہ ثواب کی جگہ عذاب کے سوا اور کچھ نہ ملے گا۔

عرس بزرگان دین : ۔بزرگان دین و علماء صالحین کے وصال کی تاریخوں میں ان کے مزاروں پر حاضرین کا اجتماع جسمیں قرآن مجید کی تلاوت اور میلاد شریف نعت خوانی اور وعظ ہوتا ہے اور ان بزرگ کے حالات زندگی بیان کئے جاتے ہیں پھر فاتحہ و ایصال ثواب کیا جاتا ہے یہ جائز ہے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی ہر سال کے اول یا آخر میں شہداء احد کے مزاروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے ہاں یہ ضرور ہے کہ عرسوں کو زمانہ حال کے خرافات ولغویات چیزوں سے پاک رکھا جائے جاہلوں کو ناجائز کاموں سے منع کیا جائے منع کرنے سے بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو ان ناجائز کاموں کا گناہ ان کے سر پر ہوگا ان لغویات و خرافات کی وجہ سے عرس کو حرام نہیں کہا جاسکتا ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اڑا دینا چاہئے ناک کاٹ کر نہیں پھینک دی جائے گی ۔   

 



Total Pages: 188

Go To