Book Name:Jannati Zevar

طرف ہاتھ اٹھا کر یارب یارب کہتا ہے (دعا مانگتا ہے) مگر اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام اس کا پینا حرام ا س کالباس حرام اور غذا حرام ہے پھر اس کی دعا کیونکر مقبول ہو (یعنی اگر دعا مقبول ہونے کی خواہش ہو تو حلال روزی اختیار کرو کہ بغیر اس کے دعا قبول ہونے کے تمام اسباب بیکار ہیں )   (مشکوۃالمصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، رقم۲۷۶۰، ج۲، ص۱۲۹)

حدیث : ۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔(شعب الایمان، باب فی حقوق الاولاد ولأھلین، رقم۸۷۴۱، ج۶، ص۴۲۰)

حدیث : ۔حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشاد ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس مال کو کہاں سے حاصل کیا ہے حلال سے یا حرام سے؟

 (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب من لم یبال من ۔۔۔الخ، رقم۲۰۵۹، ج۲، ص۷)

حدیث : ۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو بندہ حرام مال حاصل کرتا ہے اور اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے (یعنی مال کی تین حالتیں ہیں اور حرام مال کی تینوں حالتیں خراب ہی ہیں )  (مشکوۃالمصابیح، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الثانی، رقم۲۷۷۱، ج۲، ص۱۳۱)

حدیث : ۔چوری‘ ڈاکہ‘ غصب‘ خیانت‘ رشوت‘ شراب‘ سینما‘ جوا‘ سٹہ‘ ناچ‘ گانا‘ جھوٹ‘ فریب‘ دھوکابازی‘ کم ناپ تول‘ بغیرکام کئے مزدوری اور تنخواہ لینا‘ سود وغیرہ یہ ساری کمائیاں حرام و ناجائز ہیں ۔

حدیث : ۔جس شخص نے حرام طریقوں سے مال جمع کیا اور مرگیا تو اس کے وارثوں پریہ لازم ہے کہ اگر انہیں معلوم ہو کہ یہ فلاں فلاں کے اموال ہیں تو ان کو واپس کردیں اور نہ معلوم ہو تو کل مالوں کو صدقہ کردیں کہ جان بوجھ کر حرام مال کو لینا جائز نہیں ۔         (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر فی الکسب، ج۵، ص۳۴۹)

        خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو لازم ہے کہ ہمیشہ مال حرام سے بچتا رہے حدیث شریف میں ہے کہ مال حرام جب حلال مال میں مل جاتا ہے تو مال حرام حلال کو بھی برباد کر دیتا ہے اس زمانے میں لوگ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے لیکن بہر حال ایک مسلمان کے لئے حلال و حرام میں فرق کرنا فرض ہے اوپر تم یہ حدیث پڑھ چکے ہو کہ خدا کے فرائض کے بعد رزق حلال تلاش کرنا بھی    مسلمان کے لئے ایک فریضہ ہے۔

پیری مریدی کے لئے ہدایات

(۱)مرید کو چاہئے کہ اپنے پیر کا ظاہر و باطن میں سامنے اور پیٹھ پیچھے انتہائی ادب و احترام رکھے پیر جو وظیفہ بتائے اس کو پابندی کے ساتھ پڑھتا رہے اور اپنے پیر کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ جس قدر ظاہری اور باطنی فیض مجھے اپنے پیر سے مل سکتا ہے اتنا اس زمانے کے کسی بزرگ  سے نہیں مل سکتا۔

(۲)اگر پیر نے اپنے مرید کا دل ابھی اچھی طرح نہ سنوارا ہو اور پیر کا وصال ہوجائے تو مرید کو چاہئے کہ کسی دوسرے پیر کامل سے جس میں پیری کی سب شرائط پائی جاتی ہوں اس سے مرید ہو کر فیض حاصل کرے اور پہلے پیر کے لئے ہمیشہ فاتحہ دلاتا اور ایصال ثواب کرتا رہے۔

(۳)بغیر اپنے پیر سے پوچھے ہوئے کوئی وظیفہ یا فقیری کا کوئی عمل نہ کرے اور جو کچھ دل میں برے یا اچھے خیالات پیدا ہوں یا نئے کام کا ارادہ کرے تو پیر سے پوچھ لیا کرے۔

(۴)عورت کو چاہئے کہ اپنے پیر کے سامنے بے پردہ نہ ہو اور مرید ہوتے وقت پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مرید نہ ہو بلکہ پیر کا رومال پکڑکر مرید بنے۔

(۵)اگر غلطی سے کسی خلاف شرع پیر کا مرید بن گیا یا پہلے وہ پیر شریعت کا پابند تھا اب بگڑ گیا تو مرید کو لازم ہے کہ اس کی بیعت توڑدے اور کسی دوسرے پابند شریعت پیر سے مرید ہو جائے لیکن اگر پیر میں کوئی ہلکی سی خلاف شریعت بات کبھی دیکھ لے تو فوراً اعتقاد خراب نہ کرے اور یہ سمجھ لے کہ پیر بھی آدمی ہی ہے کوئی فرشتہ تو ہے نہیں اس لئے اگر اس سے اتفاقیہ کوئی معمولی سی خلاف شرع بات ہوگئی ہے جو توبہ کر لینے سے معاف ہوسکتی ہے تو ایسی بات پر بدظن ہو کر پیر کو نہ چھوڑے ہاں البتہ اگر پیر بدعقیدہ ہو جائے یا کسی گناہ کبیرہ پر اڑا رہے تو پھر مریدی توڑ دے کیونکہ بدعقیدہ اور فاسق معلن کو اپنا پیر بنانا حرام ہے۔

(۶)آج کل کے مکار فقیر کہا کرتے ہیں کہ شریعت کا راستہ اور ہے اور فقیری کا راستہ اور ہے ۔ ایسا کہنے والے فقیر خواہ کتنا ہی شعبدہ دکھائیں مگر ان کے بارے میں یہی عقیدہ رکھنا فرض ہے کہ یہ گمراہ اور جھوٹے ہیں اور یاد رکھو کہ ایسے فقیروں سے مرید ہونا بہت بڑا گناہ ہے اور وہ جو کچھ تعجب خیز چیزیں دکھلا رہے ہیں وہ ہر گز ہرگز کرامت نہیں بلکہ جادو یا نظر بندی کا عمل یا شیطان کا دھوکا ہے۔ (دیکھو ہماری کتاب معمولات الابرار)

(۷)اگر پیر کے بتائے ہوئے وظیفوں سے دل میں کچھ روشنی یا اچھی حالت پیدا ہو یا اچھے اچھے خواب نظر آئیں یا خواب و بیداری میں بزرگوں کا دیدار اور ان کی زیارت ہونے لگے یا نماز اور وظیفہ میں کوئی چمک پید اہو یا کوئی خاص کیفیت یا لذت محسوس ہو تو خبردار! خبردار ان باتوں کا اپنے پیر کے سوا کسی دوسرے سے ذکر نہ کرے نہ اپنے وظیفوں اور عبادتوں کا پیر کے علاوہ کسی کے سامنے اظہار کرے کیونکہ ظاہرکر دینے سے یہ ملی ہوئی روحانی دولت چلی جاتی ہے اور پھر مرید عمر بھر ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔

(۸)اگر پیر کے بتائے ہوئے وظیفہ یا ذکر کا کچھ مدت تک کوئی اثر یا کیفیت نہ ظاہر ہو تو اس سے تنگ دل اور پیر سے بدظن نہ ہو اور اس کو اپنی خامی یاکوتاہی سمجھے اور یوں سمجھے کہ بڑا اثر یہی ہے کہ مجھے اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کا نام لینے کی توفیق ہو رہی ہے ہر مرید میں پیدائشی طور پر الگ الگ صلاحیت ہوا کرتی ہے ایک ہی وظیفہ اور ایک ہی ذکر سے کسی میں کوئی اثر پیدا ہوتا ہے اور کسی میں کوئی دوسری کیفیت پیدا ہوتی ہے کسی میں جلد اثر ظاہر ہوتا ہے کسی میں بہت دیر کے بعد اثرات ظاہر ہوتے ہیں جس میں جیسی اور جتنی صلاحیت ہوتی ہے اسی لحاظ سے وظیفوں اور ذکر کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہرمرید کا حال یکساں ہی ہو بہر حال اگر وظیفہ و ذکر سے کچھ کیفیات پیدا ہوں تو خدا کا شکر ادا کرے اور اگر کچھ اثرات نہ ہوں یا کم ہوں یا اثرات ہوکر کم ہو جائیں یا بالکل اثرات و کیفیات زائل ہو جائیں تو ہرگز ہرگز پیر سے بد اعتقاد ہو کر ذکر اور وظیفہ کو نہ چھوڑے بلکہ برابر پڑھتا رہے اور پیر کا ادب و احترام بدستور رکھے اور ذرا بھی تنگ دل نہ ہو اور یہ سوچ سوچ کر صبر کرے اور اپنے دل کو تسلی دیتا رہے کہ۔

اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر

 



Total Pages: 188

Go To