Book Name:Jannati Zevar

حدیث : ۔عالموں کی دواتوں کی روشنائی قیامت کے دن شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہوجائے گی ۔(کنزالعمال، کتاب العلم، قسم الاقوال ، رقم۲۸۷۱۱، ج۱۰، ص۶۱)

حدیث : ۔علماء کی مثال یہ ہے کہ جیسے آسمان میں ستارے جن سے خشکی اور سمندر میں راستہ کا پتا چلتا ہے اگر ستارے مٹ جائیں تو راستہ چلنے والے بھٹک جائیں گے ۔      (المسند لامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک ، رقم۱۲۶۰۰، ج۴، ص۳۱۴)

حدیث : ۔ایک عالم ایک ہزار عابد سے زیادہ شیطان پر سخت ہے  ۔   (سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء۔۔۔الخ، رقم۲۲۲، ج۱، ص۱۴۵)

پیارے بھائیو اور عزیز بہنو! : ۔آج کل مسلمان مردوں اور عورتوں میں علم دین سیکھنے سکھانے اور دین کی باتوں کے جاننے کا جذبہ اور ذوق و شوق تقریباً مٹ چکا ہے اس لئے ہر طرف بے دینی اور لامذہبیت کا سیلاب بڑھتا جا رہا ہے ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دین و مذہب سے آزاد اور خدا عَزَّ وَجَلَّ  و رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بیزار ہو کر جانوروں کی طرح بے لگام ہو رہے ہیں بلکہ بہت سے تو خدا ہی کا انکار کر بیٹھے ہیں اور مانتے ہی نہیں کہ خدا موجود ہے اس بے دینی کے طوفان کا ایک ہی سبب ہے کہ مسلمانوں نے خود بھی دین کا علم پڑھنا چھوڑ دیا اور اپنے بچوں کو بھی علم دین نہیں پڑھایا اس لئے  بے حد ضروری ہے کہ مسلمان مرد و عورت خود بھی فرصت نکال کر دین کی ضروری باتوں کا علم حاصل کریں اور اپنے بچے اور بچیوں کو ضروری باتیں بچپن ہی سے بتاتے اور سکھاتے رہیں اگر اپنے بچوں کو علم دین پڑھا کر عالم نہیں بنا سکتے تو کم سے کم ان کو دین کا اتنا علم تو سکھا دیں کہ وہ مسلمان باقی رہ جائیں ۔   

حلال روزی کمانے کا بیان

        اتنا کمانا ہر مسلمان پر فرض ہے جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے گزارہ کے  لئے اور جن لوگوں کا خرچہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کا خرچ چلانے کے لئے اور اپنے قرضوں کو ادا کرنے کے لئے کافی ہو اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ اتنی ہی کمائی پر بس کرے یا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ پس ماندہ مال رکھنے کی بھی کوشش کرے کسی کے ماں باپ اگر محتاج و تنگ دست ہوں تو لڑکوں پر فرض ہے کہ کما کر انہیں اتنا دیں کہ ان کے لئے کافی ہو جائے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر فی الکسب، ج۵، ص۳۴۸۔۳۴۹)

مسئلہ : ۔سب سے افضل کمائی جہاد ہے یعنی جہاد میں جو مال غنیمت حاصل ہوا جہاد کے بعد افضل کمائی تجارت ہے پھرزراعت پھرصنعت و حرفت کا مرتبہ ہے۔          (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر فی الکسب، ج۵، ص۳۴۹)

مسئلہ : ۔جو لوگ مسجدوں اور بزرگوں کی خانقاہوں اور درگاہوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور بسر اوقات کے لئے کوئی کام نہیں کرتے اور اپنے کو متوکل بتاتے ہیں حالانکہ ان کی نظریں ہر وقت لوگوں کی جیبوں پر لگی رہتی ہیں کہ کوئی ہمیں کچھ دے جائے ان لوگوں نے اس کو اپنی کمائی کا پیشہ بنا لیا ہے اور یہ لوگ طرح طرح کے مکرو فریب سے کام لے کر لوگوں سے رقمیں کھسوٹتے ہیں ان لوگوں کے یہ طریقے ناجائز ہیں ہر گز ہر گز یہ لوگ متوکل نہیں بلکہ مفت خور اور کام چور ہیں اس سے لاکھوں درجے یہ اچھا ہے کہ یہ لوگ بسر اوقات کے لئے کچھ کام کرتے اور رزق حلال کھا کر خدا کے فرائض کو ادا کرتے               (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر فی الکسب، ج۵، ص۳۴۹)

مسئلہ : ۔اپنی ضرورتوں سے بہت زیادہ مال و دولت کمانا اگر اس نیت سے ہو کہ فقراء و مساکین اور اپنے رشتہ داروں کی مدد کریں گے تو یہ مستحب بلکہ نفلی عبادتوں سے افضل ہے اور اگر اس نیت سے ہو کہ میرے وقار و عزت میں اضافہ ہوگا تو یہ بھی مباح ہے لیکن اگر مال کی کثرت اور فخر و تکبر کی نیت سے زیادہ مال کمائے تو یہ ممنوع ہے۔

             (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس عشر فی الکسب، ج۵، ص۳۴۹)

ضروری تنبیہ : ۔یاد رکھو کہ مال کمانے کی بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض صورتیں ناجائز ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جائز طریقوں پر عمل کرے اور ناجائز طریقوں سے دور بھاگے اﷲ   تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔

لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ        (پ۵، النسآء : ۲۹)

’’یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق مت کھاؤ‘‘۔

        دوسری جگہ قرآن مجید میں رب  تَعَالٰی نے فرمایا کہ۔

كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸)      (پ۷، المآئدۃ : ۸۸)

’’یعنی اﷲ   تَعَالٰی نے جو روزی دی ہے اس میں سے حلال و طیب مال کو کھاؤ اور اﷲ  سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو‘‘۔

        ان آیتوں کے علاوہ اس بارے میں چند حدیثیں بھی سن لو۔

حدیث : ۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ اﷲ  پاک ہے اور وہ پاک ہی پسند فرماتا ہے اور اﷲ   تَعَالٰی نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا چنانچہ اس نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ۔

          یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب۔۔۔الخ، رقم۲۳۰۱، ص ۶ ۵۰، پ۱۸، المؤمنون : ۵۱)   

        ’’یعنی اے رسولو! حلال چیزوں کو کھاؤ اور اچھے عمل کرو‘‘۔

        اور مومنین سے فرمایا کہ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ  (پ۲، البقرۃ : ۱۷۲)

یعنی اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا اس میں سے حلال چیزوں کو کھاؤ۔

     اس کے بعد پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ ایک شخص لمبے لمبے سفر کرتا ہے جس کے بال پر اگندہ اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جو دعا مانگے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی



Total Pages: 188

Go To