Book Name:Jannati Zevar

        اس حدیث کو امام بیہقی علیہ الرحمۃ  نے بھی ’’کتاب الزہد‘‘ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔   

بیماری اور علاج کا بیان

        رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اﷲ  تَعَالٰی نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لئے شفابھی اتاری ۔(صحیح البخاری، کتاب الطب، باب ما انزل اللہ  ۔۔۔الخ، رقم ۵۶۷۸، ج۴، ص۱۶)

        ابوداؤد  و   ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خبیث دواؤں سے ممانعت فرمائی (جامع الترمذی، کتاب الطب، باب ماجاء فیمن قتل۔۔۔الخ، رقم۲۰۵۲، ج۴، ص۷)

اور رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الطب، باب رقیۃ العین، رقم ۵۷۳۸، ج۴، ص۳۱)

بیمار پرسی : ۔بیمار کا حال پوچھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کے لئے صبح کو جائے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں ۔        (سنن ابو داود، کتاب الجنائز، باب فی فضل العبادۃ، رقم ۳۰۹۸، ج۳، ص۲۴۸)

        ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو آسمان سے ایک اعلان کرنے والا فرشتہ یہ ندا کرتا ہے کہ تو اچھا ہے اور تیرا چلنا اچھا ہے اور جنت کی ایک منزل کو تو نے اپنا ٹھکانا بنالیا ۔     (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی ثواب ۔۔۔الخ، رقم ۱۴۴۳، ج۲، ص۱۹۲)

مسئلہ : ۔مریض کی بیمار پرسی کے لئے جانا سنت اور ثواب ہے لیکن اگر معلوم ہو کہ بیمار پرسی کو جائے گا تو مریض پر گراں گزرے گا تو ایسی حالت میں بیمار پرسی کو نہ جائے۔

           (بہارشریعت، ح۱۶، ص۱۲۵)

   

مسئلہ : ۔دوا وعلاج کرنا جائز ہے جب کہ یہ اعتقاد ہو کہ درحقیقت شفا دینے والا اﷲ  تَعَالٰی ہی ہے اور اس نے دواؤں کو مرض کے زائل کرنے کا سبب بنا دیا ہے اگر کوئی دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہے تو اس اعتقاد کے ساتھ دوا علاج کرنا جائز نہیں ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۴)

مسئلہ : ۔حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا جائز نہیں کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ جو چیزیں حرام ہیں ان میں اﷲ   تَعَالٰی نے شفا نہیں رکھی ہے۔

    (سنن ابوداود، کتاب الطب ، باب فی الاد ویۃ المکروھۃ، رقم ۳۸۷۴، ج۴، ص۱۱)

 انگریزی دوائیں بکثرت ایسی ہیں جن میں اسپرٹ الکحل اور شراب کی آمیزش ہوتی ہے ایسی دوائیں ہرگز استعمال نہ کی جائیں ۔            (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۱۲۶)

مسئلہ : ۔شراب سے خارجی علاج بھی ناجائز ہے جیسے زخم میں شراب لگائی یا کسی جانور کے زخم پر شراب کا پھایا رکھا یا شراب ملے ہوئے مرہم یا لیپ کو بدن پر لگایا یابچہ کے علاج میں شراب کا استعمال کیا ان سب صورتوں میں وہ گنہگار ہوا جس نے شراب کو استعمال کیا یا کرایا۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۵)

مسئلہ : ۔کوئی شخص بیمار ہوا اور دوا علاج نہیں کیا اور مرگیا تو گنہگار نہیں ہوا ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۵)

مطلب یہ ہے کہ دوا علاج کرنا فرض یا واجب نہیں ہے کہ اگر دوا نہ کرے اور مر جائے تو گنہ گار ہو ہاں البتہ بھوک پیاس کا غلبہ ہو اور کھانا پانی موجود ہوتے ہوئے کچھ کھا یا پیا نہیں اور بھوک پیاس سے مر گیا تو ضرور گنہ گار ہوگا کیونکہ یہاں یقیناً معلوم ہے کہ کھانے پینے سے اس کی بھوک پیاس چلی جاتی اور بھوک پیاس کی وجہ سے اس کی موت نہ ہوتی۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۵)

مسئلہ : ۔حقنہ کرنے یعنی عمل دینے میں کوئی حرج نہیں جب کہ حقنہ ایسی چیز کا نہ ہو جو حرام ہے مثلاً شراب ۔  (الد رالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۴۰