Book Name:Jannati Zevar

بھی جائز ہے اور لوگوں کو اس گھاس کے کاٹنے سے منع کرنا بھی درست ہے۔

مسئلہ : ۔کافر نے اگر قرآن مجید خرید لیا تو قاضی کو چاہئے کہ اس کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ کسی مسلمان کے ہاتھ فروخت کر دے۔ (بہارشریعت، ح۱۱، ص۱۸۶)

مسئلہ : ۔تاڑی‘ سیندھی‘ شراب کی تجارت حرام ہے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر اور اس کے خریدنے والے پر اس کے بیچنے والے پر اور اس کو نچوڑنے والے پر اور اس کو چھاننے والے پر اور اس کو اٹھانے والے پر اور یہ جس کے اوپر لادی گئی ہو لعنت فرمائی ہے ۔ (بہارشریعت، ح۱۱، ص۷۷)

مسئلہ : ۔لوہے پیتل وغیرہ کی انگوٹھی جس کا پہننا مرد اور عورت دونوں کے لئے ناجائز ہے اس کا بیچنا مکروہ ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۶۵)

اسی طرح افیون وغیرہ جس کا کھانا جائز نہیں ایسوں کے ہاتھ بیچنا جو ان کونشہ کے طور پر کھاتے ہیں ناجائز ہے کیونکہ یہ گناہ پر اعانت ہے۔ (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۱۰۶)

مسئلہ : ۔جس سودے کے متعلق یہ معلوم ہے کہ یہ چوری یا غصب کا مال ہے اس کو خریدنا جائز نہیں ۔

مسئلہ : ۔رنڈیوں کو حرام کاری یا گانے ناچنے کی اجرت میں جو سامان ملا ہے وہ بھی مال خبیث اور حرام ہے اس کو بھی خریدنا جائز نہیں ۔

        کسی نے کوئی چیز بے دیکھے ہوئے خرید لی تو یہ بیع جائز ہے لیکن جب اس سامان کو دیکھے تو اس کو اختیار ہے پسند ہو تو رکھے اور اگر ناپسند ہو تو پھیر دے اگرچہ اس میں کوئی عیب نہ ہو اس کو شریعت میں ’’خیار رؤیت‘‘ کہتے ہیں ۔                 (فتح القدیر، کتاب البیوع، باب خیار الرؤیۃ، ج۶، ص۳۰۹)

مسئلہ : ۔جب کوئی سودا بیچے تو واجب ہے کہ اس میں اگر کچھ عیب و خرابی ہو تو خریدار کو بتا دے عیب کو چھپا کر اور خریدار کو دھوکہ دے کر بیچنا حرام ہے۔ (الدرالمختار، کتاب البیوع، مطلب فی مسئلۃ المصراۃ، ج۷، ص۲۲۹)

مسئلہ : ۔کوئی چیز خریدی اور خریدنے کے بعد دیکھا کہ اس میں عیب ہے مثلاً تھان کو اندرسے چوہوں نے کتر ڈالا ہے یا اندر سے کٹا ہوا ہے تو خریدار کو اختیار ہے کہ چاہے لے لے چاہے واپس کر دے اس کو شریعت میں ’’خیار عیب‘‘ کہتے ہیں ۔ (فتح القدیر، کتاب البیوع، باب خیارا لعیب، ج۶، ص۳۲۷)

مسئلہ : ۔جانور کے تھن میں جو دودھ بھرا ہے دوہنے سے پہلے اس کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں پہلے دودھ دوہ لے تب بیچے اسی طرح بھیڑ دنبہ وغیرہ کے بال جب تک کاٹ نہ لے اس کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ۔         (درمختار، کتاب البیوع، مطلب فی حکم ایجار البرک للاصطیاد، ج۷، ص۲۵۲)

مسئلہ : ۔گوبر کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے لیکن آدمی کے پاخانہ کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہاں البتہ اگر آدمی کے پاخانہ میں راکھ اور مٹی اس قدر مل جائے کہ مٹی اور راکھ غالب ہو جائے اور پاخانہ کھاد بن جائے تو اس کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے ۔   (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۳۴)

مسئلہ : ۔احتکار (ذخیرہ اندوزی) ممنوع ہے احتکارکے معنی یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کو اس لئے چھپا کر رکھ لینا کہ جب اس کا بھاؤ زیادہ گراں ہو جائے تو بیچے گا ایسا کرنے سے گرانی بڑھ جاتی ہے اور قحط کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور مخلوق خدا کو ضرر اور نقصان پہنچتا ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور اس کے بارے میں بہت سی وعید کی حدیثیں آئی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جو چالیس دن تک احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرے گا اﷲ   تَعَالٰی اس کو جذام (کوڑھ) اور مفلسی میں مبتلا کرے گا اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اس پر اﷲ  اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ہے اﷲ   تَعَالٰی نہ اس کی نفلی عبادتوں کو قبول فرمائے گانہ فرض عبادتوں کو (درمختارج۵ص۲۴۶)۔ احتکار (ذخیرہ اندوزی) انسان کے کھانے کی چیزوں میں بھی ہوتا ہے مثلاً اناج شکر وغیرہ اور جانوروں کے چارہ میں بھی ہوتا ہے جیسے گھاس بھوسا ۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۵۶۔۶۵۷/ سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ، رقم۲۱۵۵، ج۳، ص۱۵)

مسئلہ : ۔احتکار وہیں کہلائے گا جب کہ غلہ کا روکنا وہاں والوں کے لئے مضر ہو یعنی اس کی وجہ سے گرانی ہو جائے یا یہ صورت ہو کہ سارا غلہ اسی کے قبضہ میں ہے اس کے روکنے سے قحط کا اندیشہ ہے دوسری جگہ غلہ دستیاب نہ ہوگا (ہدایہ ج۴ص۴۵۴) اور اگر کسی نے فصل پر غلہ اس نیت سے خرید کر رکھ لیا کہ جب غلہ کا بھاؤ کچھ گراں ہوگا تو بیچ کر کچھ نفع اٹھاؤں گا تویہ نہ احتکار ہے نہ ممنوع ہے۔

(الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۵۷، ۶۵۸)

مسئلہ : ۔احتکار کرنے والوں کو قاضی یہ حکم دے گا کہ اپنے گھر والوں کے خرچ کے لائق غلہ رکھ لے اور باقی فروخت کر ڈالے اگر وہ لوگ قاضی کے حکم کے خلاف کریں یعنی زائد غلہ نہ بیچیں تو قاضی ان لوگوں کو مناسب سزا دے اور ان لوگوں کی حاجت سے زیادہ جتنا غلہ ہوگا قاضی خود اس کو فروخت کر دے گا کیونکہ لوگوں کو پریشانی اور ضرر عام سے بچانے کی یہی صورت ہے ۔

(الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۵۷، ۶۵۸)

مسئلہ : ۔بادشاہ کو رعایا کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتو ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے غلہ لے کر رعایا پر تقسیم کر دے پھر جب ان لوگوں کے پاس غلہ ہو جائے تو جتنا جتنا لیا ہے واپس دے دیں ۔(الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۵۸)

مسئلہ : ۔تاجروں نے اگر چیزوں کی قیمت بہت زیادہ بڑھا دی ہے اور بغیر کنٹرول کے کام چلتا نظر نہ آتا ہو تو حاکم چیزوں کی قیمتیں مقرر کر کے بھاؤ پر کنٹرول کر سکتا ہے اور کنٹرول کی ہوئی قیمت پر جو بیع ہوگی وہ جائز و درست ہوگی۔  (