Book Name:Jannati Zevar

(ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۴)

خرید و فروخت کے چند مسائل

        خریدنے اور بیچنے کے مسائل بہت زیادہ ہیں اس مختصر کتاب میں بھلا اس کی گنجائش کہاں ؟ جس کو مفصل طور پر خرید و فروخت کے مسائل کو جاننا ہو وہ بہار شریعت حصہ یا زدہم کا بغور مطالعہ کرے یہ اس بارے میں بہت ہی جامع اور معتبر کتاب ہے ہم یہاں صرف چند ضروری مسائل کا ذکر کرتے ہیں جن سے اکثروبیشتر واسطہ پڑتا رہتا ہے ان کو غور سے پڑھ کر یاد کرلو۔

مسئلہ : ۔جب تک خرید و فروخت کے ضروری مسائل نہ معلوم ہوں کہ کونسی بیع جائز ہے اور کون سی ناجائز اس وقت تک مسلمان کو چاہئے کہ وہ تجارت نہ کرے بلکہ تجارت کرنے سے پہلے ان مسئلوں کو جان لینا چاہئے تاکہ تجارت میں حرام کمائی سے بچا رہے۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۶۳)   

مسئلہ : ۔تاجر کو اپنی تجارت میں اس قدر مشغول نہ ہوجانا چاہئے کہ فرائض فوت ہو جائیں بلکہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو لازم ہے کہ تجارت کو چھوڑ کر نماز پڑھنے چلا جائے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس والعشرون فی البیع۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۶۴)

مسئلہ : ۔بیچنے اور خریدنے میں یہ ضروری ہے کہ سودے اور قیمت دونوں کو اچھی طرح صاف صاف طے کر لیں کوئی بات ایسی گول مول نہ رکھیں جس سے بعد میں جھگڑے بکھیڑے پڑیں اگر ان دونوں میں سے ایک چیز بھی اچھی طرح معلوم اور طے نہ ہوگی تو بیع صحیح نہ ہوگی۔ (ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب شرائط البیع انواع اربعۃ، ج۷، ص۱۵)

مسئلہ : ۔آدمی کے بال اور ہڈی وغیرہ کسی چیز کا بیچنا ناجائز ہے اور اپنے کسی کام میں لانا بھی درست نہیں ۔  (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل بیع الفاسد، ج۶، ص۳۹۰)

مسئلہ : ۔ عورت کے دودھ کو بیچنا اور خریدنا ناجائز ہے اگرچہ اس کو کسی برتن میں رکھ لیا ہو اگرچہ جس کا دودھ ہو وہ باندی ہو۔       (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل بیع الفاسد، ج۶، ص۳۸۸۔۳۸۹)

مسئلہ : ۔خنزیر کے بال اس کی کھال وغیرہ اس کے کسی جزو کا بیچنا اور خریدنا حرام اور اس کی بیع باطل ہے اسی طرح مردار کے چمڑے کی بیع بھی باطل اور ناجائز ہے جب پکایا ہوا نہ ہو اور اگر دباغت کرلی تو اس کی بیع درست اور اس کا کام میں لانا جائز ہے۔  (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل بیع الفاسد، ج۶، ص۳۹۰)

مسئلہ : ۔تیل ناپاک ہوگیا اس کی بیع جائز ہے اور کھانے کے علاوہ اس کو دوسرے کام میں لانا جائز ہے۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی التداوی ...الخ، ج۷، ص۲۶۷)

 مگر یہ ضروری ہے کہ بیچنے والا خریدار کو تیل کے ناپاک ہونے کی اطلاع دے دے تاکہ خریدار اس کو کھانے کے کام میں نہ لائے اور اس وجہ سے بھی خریدار کو مطلع کرنا ضروری ہے کہ تیل کا ناپاک ہونا عیب ہے اور بیچنے والے پر لازم ہے کہ خریدار کو سودے کے عیب پر مطلع کر دے ناپاک تیل مسجد میں جلانا جائز نہیں گھر میں جلا سکتا ہے ناپاک تیل کا چراغ جلا کر استعمال کرنا اگرچہ جائز ہے مگر بدن یا کپڑے پر جہاں بھی لگ جائے گا ناپاک ہوجائے گا اور بدن یا کپڑے کو پاک کرنا پڑے گابعض دوائیں اس قسم کی بنائی جاتی ہیں جس میں کوئی ناپاک چیز شامل کرتے ہیں مثلاًجانور کا پتّا یا خون یا حرام جانوروں کی چربی یا شراب وغیرہ یہ دوائیں اگر بدن یا کپڑے میں لگ گئیں تو ان کا پاک کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ : ۔مردار کی چربی کو بیچنا یا اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں نہ اس سے چراغ جلا سکتے ہیں نہ چمڑا پکانے کے کام میں لا سکتے ہیں نہ اس کو کسی مرہم یا صابن میں ملا سکتے ہیں ۔( ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی التداوی... الخ، ج۷، ص۲۶۷)

مسئلہ : ۔مردار کے بال‘ ہڈی‘ سینگ‘ کھر‘ پر‘ چونچ‘ ناخن ان سب کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے شکاری جانور سکھائے ہوئے ہوں ان کو کام میں لانا بھی جائز ہے اسی طرح ہاتھی کے دانت اور ہڈی اور اس کی بنی ہوئی چیزوں کو بھی خریدنا اور بیچنا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ (فتح القدیر، کتاب البیوع، فصل بیع الفاسد، ج۶، ص۳۹۲)

مسئلہ : ۔کتا‘ بلی‘ ہاتھی‘ چیتا‘ باز‘ شکرا ان سب کو خریدنا اور بیچنا جائز ہے شکاری جانور سکھائے ہوئے ہوں یا بغیر سکھائے ہوئے ان کو خریدنا اور بیچنا جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ سکھائے جانے کے قابل ہوں ۔ کٹکھناکتاجوسکھائے جانے کے قابل نہیں ہے اس کو خریدنا بیچنا جائز نہیں ۔  (ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی بیع دودۃ القرمز، ج۷، ص۲۶۱)

 مسئلہ : ۔جانور یا کھیتی یا مکان کی حفاظت کے لئے یا شکار کے لئے کتا پالنا جائز ہے اور ان مقاصد کے لئے نہ ہو توکتا پالنا جائز نہیں اور جن صورتوں میں کتا پالنا جائز ہے اُن صورتوں میں بھی مکان کے اندر کتوں کو نہ رکھے لیکن اگر چور یا دشمن کا خوف ہو تو مکان کے اندر بھی رکھ سکتا ہے ۔     (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج۷، ص۵۰۶۔۵۰۷)

مسئلہ : ۔مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک‘ کچھوا‘ کیکڑا وغیرہ اور حشرات الارض چوہا‘ سانپ‘ گرگٹ‘ گوہ‘ بچھو‘ چیونٹی وغیرہ کو خریدنا اور بیچنا جائز نہیں ۔ (درمختار، کتاب البیوع ، باب المتفرقات، ج۷، ص۵۰۷)

بندر کو کھیل اور مذاق کے لئے خریدنا منع ہے اور اس کو نچانا اور اس کے ساتھ کھیل کرنا حرام ہے ۔

مسئلہ : ۔گیہوں وغیرہ اناجوں میں دھول اور کنکری وغیرہ ملا کر بیچنا ناجائز ہے۔ (بہارشریعت، ح۱۶، ص۱۰۵)

اسی طرح دودھ میں پانی ملا کر بیچنا بھی ناجائز ہے ۔ (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۱۰۶)

مسئلہ : ۔تالاب کے اندر کی مچھلیوں کو بیچنے کا جو دستور ہے یہ بیع ناجائز ہے تالاب کے اندر جتنی مچھلیاں ہوتی ہیں جب تک وہ شکار کرکے پکڑ نہ لی جائیں تب تک ان کا کوئی مالک نہیں شکار کر کے جو ان مچھلیوں کو پکڑلے وہی ان کا مالک بن جاتا ہے جب یہ بات سمجھ میں آگئی تو اب سمجھو کہ جس شخص کا تالاب ہے جب وہ ان مچھلیوں کا مالک ہی نہیں تو اس کا ان مچھلیوں کو بیچ



Total Pages: 188

Go To