Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔عالم دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے بلکہ ان لوگوں کے قدم کو چومنا بھی جائز ہے بلکہ اگر کسی عالم دین سے لوگ یہ خواہش ظاہر کریں کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجئے کہ میں بوسہ دوں تو لوگوں کی خواہش کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کیلئے لوگوں کی طرف بڑھا سکتا ہے ۔    (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۱۔۶۳۲)

مسئلہ : ۔بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔       (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۲)

بوسہ کی چھ قسمیں : ۔یاد رکھو کہ بوسہ کی چھ قسمیں ہیں (۱)بوسہ رحمت جیسے ماں باپ کا اپنی اولاد کو بوسہ دینا (۲)بوسہ شفقت جیسے اولاد کا اپنے والدین کو بوسہ دینا (۳)بوسہ محبت جیسے ایک شخص اپنے بھائی کی پیشانی کو بوسہ دے (۴)بوسہ تحیت جیسے بوقت ملاقات ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو بوسہ دے (۵)بوسہ شہوت جیسے مرد عورت کو بوسہ دے (۶)بوسہ دیانت جیسے حجرا سود کا بوسہ۔    (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۳)

مسئلہ : ۔قرآن شریف کو بوسہ دینا بھی صحابہ کرام کے فعل سے ثابت ہے حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُروزانہ صبح کو قرآن مجید کو چومتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے اور حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی قرآن مجید کو بوسہ دیتے تھے اور اپنے چہرے سے لگاتے تھے۔     (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۴)

مسئلہ : ۔سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت تعظیم کے طور پر کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر عبادت کی نیت سے ہوتو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔

          (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۲)

مسئلہ : ۔آنے والے کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز بلکہ مستحب ہے خصوصاً جب کہ ایسے شخص کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جو تعظیم کا مستحق ہے مثلاً عالم دین کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا۔        (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۲۔۶۳۳)

مسئلہ : ۔جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ میری تعظیم کے لئے کھڑے ہوں اس کی یہ خواہش مذموم اور ناپسندیدہ ہے۔(ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۳)

   

         بعض حدیثوں میں جو قیام کی مذمت آئی ہے اس سے مراد ایسے ہی شخص کے لئے قیام ہے یا اس قیام کو منع کیا گیا ہے جو عجم کے بادشاہوں میں رائج ہے کہ سلاطین اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کے ارد گرد تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں آنے والے کے لئے قیام کرنا اس قیام میں داخل نہیں ۔ (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۱۰۰)

چھینک اور جمائی کا بیان

        رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے کہ چھینک اﷲ   تَعَالٰی کو پسند ہے اور جمائی ناپسند ہے جب کوئی چھینکے اور الحمدﷲ کہے تو جو مسلمان اس کو سنے اس پر حق ہے کہ یرحمک اﷲ  کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو دفع کرے کیونکہ جب کوئی آدمی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ جمائی کسل اور غفلت کی دلیل ہے ایسی چیز کو شیطان پسند کرتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ، رقم۶۲۲۶، ج۴، ص۱۶۳)

مسئلہ : ۔جب چھینکنے والا الحمدﷲ کہے تو اس کی چھینک کا جواب دینا واجب ہے اور جس طرح سلام کا جواب فوراً ہی دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے واجب ہے بالکل اسی طرح چھینک کا جواب بھی فوراً ہی اور بلند آواز سے دینا واجب ہے۔      (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۳۔۶۸۴)

مسئلہ : ۔جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو روکے کیونکہ بخاری ومسلم کی حدیثوں میں ہے کہ جب کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ، رقم۶۲۲۶، ج۴، ص۱۶۳)

 جمائی روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہونٹ کو دانتوں سے دبالے اور جمائی روکنے کا ایک مجرب عمل یہ ہے کہ جب جمائی آنے لگے تو دل میں یہ خیال کرے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کو جمائی نہیں آتی تھی یہ خیال دل میں لاتے ہی ہر گز جمائی نہیں آئے گی ۔(بہارشریعت، ج۳، ص۱۶۷)

مسئلہ : ۔جس کو چھینک آئے وہ بلند آواز سے  الحمدﷲ کہے اور بہتر یہ ہے کہ الحمد ﷲ رب العلمینکہے اس کے جواب میں دوسرا شخص یوں کہے یَرْحَمُکَ اﷲ  پھر چھینکنے والا یَغْفِرُاللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ کہے ۔

(