Book Name:Jannati Zevar

اگر اس سے زیادہ کہو گے تو گنہ گار ہو جاؤ گے۔

(۴)دوغلی بات ہر گز ہرگز مت کہو کہ اس کے منہ پر اس کی سی بات کرو اور دوسرے کے منہ پر اس کی سی بات کرو کہ یہ دونوں جہان میں رسوائی کا سامان ہے۔

(۵)نہ کسی کی چغلی کرو نہ کسی کی چغلی سنو کہ یہ بڑے بڑے فسادوں کی جڑ اور گناہ کبیرہ ہے۔

(۶)جھوٹ بھی ہر گز نہ بولو کہ یہ بہت ہی سخت گناہ کبیرہ ہے۔

(۷)خوشامد کے طور پر کسی کے منہ پر اس کی تعریف نہ کرو۔ پیٹھ کے پیچھے بھی حد سے زیادہ کسی کی تعریف نہ کرو۔

(۸)نہ کسی کی غیبت کرو نہ کسی کی غیبت سنو غیبت گناہ کبیرہ ہے اور غیبت یہ ہے کہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے اس کی ایسی کوئی بات کہنا کہ اگر وہ سنے تو اس کو رنج ہو اگر چہ وہ بات سچی ہی ہو اور اگر وہ بات ہی غلط ہو تو اس کو کہنا یہ بہتان ہے اس میں غیبت سے بھی زیادہ گناہ ہے۔      (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۷۶)

(۹)جس شخص کی غیبت کی ہے اگر اس سے معاف نہ کراسکو تو اس کے لئے مغفرت کی دعائیں کیا کرو امید ہے کہ قیامت میں وہ معاف کردے۔

        (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۷۶)

(۱۰)کبھی ہر گز کسی سے جھوٹا وعدہ نہ کرو۔

(۱۱)محض اپنی بات کو اونچی رکھنے کے لئے کسی سے بحث نہ کرو۔

(۱۲)کبھی ایسی ہنسی مت کرو جس سے دوسرا ذلیل ہوجائے۔

(۱۳)سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق کئے ہوئے مت کہا کرو کیونکہ اکثر ایسی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں ۔

(۱۴)کسی کی بری صورت یا بری بات کی نقل مت کرو۔

(۱۵)ہمیشہ اچھی باتیں لوگوں کو بتاتے رہو اور بری باتوں سے لوگوں کو منع کرتے رہو۔   

مکان میں جانے کے لئے اجازت لینا

        قرآن مجید میں اﷲ   تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو اندر مت جاؤ جب تک تمہیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو واپس چلے آؤ یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ  اس کو جانتا ہے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں کے اندر چلے جاؤ جن میں کوئی رہتا نہیں ہے اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیارہے اور اﷲ  جانتا ہے تمام ان باتوں کو جن کو تم ظاہر کرتے ہو اور جن کو تم چھپاتے ہو۔  (پ۱۸، النور : ۲۷۔۲۹)

مسئلہ : ۔جب کوئی شخص دوسرے کے مکان پر جائے تو پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کرے پھر جب اندر جائے تو پہلے سلام کرے پھر اس کے بعد بات چیت شروع کرے اور اگر جس شخص کے پاس گیا ہے وہ مکان سے باہر ہی مل گیا ہو تو اب اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں سلام کرے پھر کلام شروع کردے ۔        (الفتاوی قاضی خان، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۴، ص۳۷۷)

مسئلہ : ۔کسی کے دروازہ پر جاکر آواز دی اور اس نے اندر سے کہا ’’کون؟‘‘ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ ’’میں ‘‘ جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ ’’میں ‘‘ کہہ کر جواب دیتے ہیں اس جواب کو حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ناپسند فرمایا بلکہ جواب میں اپنا نام ذکر کرے کیونکہ ’’میں ‘‘ کا لفظ تو ہر شخص اپنے کو کہہ سکتا ہے پھر یہ جواب ہی کب ہوا۔

                     (ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۳)

مسئلہ : ۔اگر تم نے کسی کے مکان پر جاکر اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی اور گھر والے نے اجازت نہ دی تو ناراض ہونے کی ضرورت نہیں خوشی خوشی وہاں سے واپس چلے آؤ ہو سکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور اس کو تم سے ملنے کی فرصت نہ ہو۔ (ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۲)

مسئلہ : ۔اگر ایسے مکان میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہو کہ ’’السلام علینا وعلیٰ عباد اﷲ  الصالحین‘‘ فرشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔

(ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۲)

 یا اس طرح کہے کہ ’’السلام علیک ایھاالنبی‘‘ کیونکہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی روح مبارک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہوا کرتی ہے۔ (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۸۴)

سلام کے مسائل

        اﷲ  نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا(۸۶) (پ۵، النساء: ۸۶)

اور جب تم کو کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ میں جواب دو یا وہی لفظ تم بھی کہہ دو بے شک اﷲ  ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

مسئلہ : ۔سلام کرنا سنت اور سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۸۳، ۶۸۷)

مسئلہ : ۔سلام کرنے والے کے لئے چاہئے کہ سلام کرتے وقت دل میں یہ نیت کرے کہ اس شخص کی جان‘ اس کا مال ‘ اس کی عزت و آبرو‘ سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں ۔