Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔گلے میں تعویذ پہننا یا بازو پر تعویذ باندھنا اسی طرح بعض دعاؤں یا آیتوں کو کاغذ پر یا رکابی پر لکھ کر شفا کی نیت سے دھو کر پلانا بھی جائز ہے یاد رکھو کہ بعض حدیثوں میں جو گلے میں تعویذ لٹکانے کی ممانعت آئی ہے اس سے مراد زمانہ جاہلیت کے وہ تعویذات ہیں جو مشرکانہ منتروں سے بنائے جاتے تھے ایسے جنتروں کا پہننا آج کل بھی حرام ہے لیکن قرآن کی آیتوں اور حدیثوں کے تعویذات ہمیشہ اور ہر زمانے میں جائز رہے ہیں اور اب بھی جائز ہیں  ۔          (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ج۹، ص۶۰۰)

مسئلہ : ۔بچھونے یا مصلی یا دستر خوان یا تکیوں یا مسندوں یا رومالوں پر اگر کچھ لکھا ہوا ہو تو ان کو استعمال کرنا جائز نہیں یہ لکھاوٹ خواہ کپڑوں میں بنی ہوئی ہو یا کاڑھی ہوئی ہو یا روشنائی سے لکھی ہوئی ہو الفاظ ہوں یا حروف ہوں ہر صورت میں ممانعت ہے کیونکہ لکھے ہوئے الفاظ اور حروف کا ادب و احترام لازم ہے ۔          (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ج۹، ص۶۰۰)

مسئلہ : ۔نظر سے بچنے کے لئے ماتھے یا ٹھوڑی وغیرہ میں کاجل وغیرہ سے دھبہ لگا دینا یا کھیتوں میں کسی لکڑی میں کپڑا لپیٹ کر گاڑ دینا تاکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے اور بچوں اور کھیتی کو کسی کی نظر نہ لگے ایسا کرنا منع نہیں ہے کیونکہ نظر کا لگنا حدیثوں سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا حدیث شریف میں ہے کہ جب اپنی یا کسی مسلمان کی کوئی چیز دیکھے اور وہ اچھی لگے اور پسند آجائے تو فوراً یہ دعا پڑھے

تَبَارَکَ اﷲ  ُاَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ ط    (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ج۹، ص۶۰۱)

یا اردو میں یہ کہہ دے کہ اﷲ  برکت دے اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی ۔

مسئلہ : ۔جس کے یہاں میت ہوئی ہے اسے اظہار غم کے لئے کالے کپڑے پہننا جائز نہیں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۳)

         اسی طرح اظہار غم کے لئے کالے بلے لگانا بھی ناجائز ہے اول تو یہ سوگ کی صورت ہے دوم یہ کہ یہ نصرانیوں کا طریقہ ہے اسی طرح محرم کے دنوں میں پہلی محرم سے بارھویں محرم تک تین قسم کے رنگ والے کپڑے نہیں پہنے جائیں کالا کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے سبز کہ یہ بدعتیوں یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے اور سرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے کہ وہ معاذ اﷲ  اظہار مسرت کے لئے سرخ لباس پہنتے ہیں ۔ (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۵۳)

مسئلہ : ۔علماء اورفقہاء کو ایسا لباس پہننا چاہئے کہ وہ پہچانے جائیں تاکہ لوگوں کو ان سے مسائل پوچھنے اور دینی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے اور علم دین کی عزت و وقعت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو ۔

مسئلہ : ۔عمامہ کھڑے ہو کر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے جس نے اس کا الٹا کیا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوگا جس کی دوا نہیں ۔ (خلاصۃ الفتاوی، رسالہ ضیاء القلوب فی لباس المحبوب، ج۳، ص۱۵۳) 

مسئلہ : ۔پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عمامہ کا بھی تکیہ نہ بنائے (بہارشریعت، ح۱۶، ج۳، ص۲۵۸)

چلنے کے آداب

        اﷲ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ :

            وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ-اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠(۱۹)     (پ۲۱، لقمان : ۱۸)

        اور زمین پر اترا کرمت چلو کوئی اترا کر چلنے والا فخر کرنے والا اﷲ  کو پسند نہیں ہے اور درمیانی چال چلو (نہ بہت ہی آہستہ اور نہ بلا ضرورت دوڑ کر) اور بات چیت میں اپنی آواز پست رکھو بے شک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز ہے۔

        دوسری آیت میں ارشاد فرمایا۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا   (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۷)

یعنی تو زمین پر اترا کرمت چل بے شک تو ہر گز نہ تو زمین کو چیر ڈالے گا اور نہ تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا۔

        تیسری آیت میں فرمایا کہ ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا   ( پ۱۹، الفرقان : ۶۳)

یعنی رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔

مسئلہ : ۔چلنے میں اترا اترا کر چلنا یا اکڑ کر چلنا یا دائیں بائیں ہلتے اور جھومتے ہوئے چلنا یا زمین پر پاؤں پٹک پٹک کر چلنا یا بلا ضرورت دوڑتے ہوئے چلنا یا بلا ضرورت ادھر ادھر دیکھتے ہوئے چلنا یا لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے چلنا یہ سب اﷲ   تَعَالٰی کو نا پسند ہے اور رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت کے خلاف ہے اس لئے شریعت میں اس قسم کی چال چلنا منع اور ناجائز ہے حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے اترا اترا کر چل رہا تھا اور بہت گھمنڈ میں تھا تو اﷲ  تَعَالٰی نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائیگا ۔

  (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم التبختر فی المشی...الخ، رقم۲۰۸۸، ص۱۱۵۶)

        ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ چلنے میں جب تمہارے سامنے عورتیں آجائیں تو تم ان کے درمیان میں سے مت گزرو داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو ۔

          (شعب الایمان، باب فی تحریم الفروج، رقم۵۴۴۷، ج۴، ص۳۷۱)

مسئلہ : ۔راستہ چھوڑ کر کسی کی زمین میں چلنے کا حق نہیں ہاں اگر وہاں راستہ نہیں ہے تو چل سکتا ہے مگر جب کہ زمین کا مالک منع کرے تو اب نہیں چل سکتا یہ حکم ایک شخص کے متعلق ہے اور جب



Total Pages: 188

Go To