Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔شریعت میں اجازت ہے کہ اگر اﷲ  تَعَالٰی نے دولت دی ہے تو اچھا لباس اور قیمتی کپڑوں کا استعمال عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے جائز ہے بشرط یہ کہ فخر اور گھمنڈ کے لئے نہ ہوں بلکہ نعمت خداوندی کے اظہار کے لئے ہو۔     (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ج۹، ص۵۷۹)

مسئلہ : ۔انسان کے بالوں کو عورت چوٹی بنا کر اپنے بالوں میں گوندھے تاکہ اس کے بال زیادہ اور خوبصورت معلوم ہوں یہ حرام ہے اور اگر اون یا کالے دھاگوں کی چوٹی بنا کر بالوں میں گوندھے تو یہ جائز ہے۔      (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان، ج۵، ص۳۵۸)

مسئلہ : ۔دانتوں کو ریتی سے ریت کر خوب صورت بنانے والی یا موچنے سے بھوؤں کے بالوں کو نوچ کر بھوؤں کو باریک اور خوب صورت بنانے والی ان سب عورتوں پر حدیث میں لعنت آئی ہے۔

  (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم فعل الواصل۔۔۔الخ، رقم ۲۱۲۵، ص۱۱۷۵)

مسئلہ : ۔لڑکیوں کے ناک کان چھیدنا جائز ہے بعض جاہل مرد اور عورتیں لڑکوں کے بھی کان چھدواتے ہیں اور دریا پہناتے ہیں یہ ناجائز ہے یعنی لڑکوں کے کان بھی چھدوانا ناجائز اور ان کے کان میں زیور پہنانا بھی حرام ہے۔    (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۹۳)

مسئلہ : ۔عورتیں اپنی چوٹیوں میں سونے چاندی کے دانے ‘پھول کلپ لگا سکتی ہیں ۔    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب العشرون فی الزینۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۹)

مسئلہ : ۔عورتوں کو کاجل اور کالا سرمہ زینت کے لئے لگانا جائز ہے مردوں کو کالا سرمہ محض زینت کے لئے لگانا ناجائز ہے ہاں اگر کالا سرمہ آنکھوں کے علاج کے لئے لگائے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب العشرون فی الزینۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۵۹)

آداب : ۔(۱)جو امیر عورتیں بہت ہی قیمتی اور زرق برق لباس اور شاندار زیورات پہنتی ہیں ان کے پاس بہت کم اٹھو بیٹھو کہ ان کے ٹھاٹھ باٹھ کو دیکھ کر تم کو اپنی مفلسی اور غریبی پر افسوس ہوگا اور تم خداوند کریم کی ناشکری کرنے لگوگی اور خواہ مخواہ دنیا کی ہوس بڑھے گی۔

(۲)ہر ہفتہ نہا دھو کر ناف سے نیچے اور بغل وغیرہ کے بال دور کرکے بدن کو صاف ستھرا کرنا مستحب ہے ہر ہفتہ نہ ہو تو پندرھویں دن سہی زیادہ سے زیادہ چالیس دن اس سے زیادہ کی اجازت نہیں اگر چالیس دن گزر گئے اور بال صاف نہ کئے تو گناہ ہوا عورتوں کو خاص طور پر اس کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ عورتوں کی گندگی اور پھوہڑپن سے شوہروں کو اپنی بیویوں سے نفرت ہو جایا کرتی ہے پھر میاں بیوی کے تعلقات ہمیشہ کے لئے خراب ہو جایا کرتے ہیں ۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج۹، ص۶۷۱)

(۳)موٹے کپڑے پہننا اور پھٹے پرانے کپڑوں میں پیوند لگا کر پہننا اسلامی طریقہ ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس مایکرہ من ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۳)

        حدیث شریف میں رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جب تک کپڑے میں پیوند لگا کر نہ پہن لو اس وقت تک کپڑے کو پرانا نہ سمجھو اس لئے خبردار خبردار کبھی ہر گز بھی پیوند لگا کر کپڑوں کو پہننے میں نہ شرم کرو اور نہ اس کو حقیر سمجھو نہ اس پر کسی کو طعنہ مارو۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۶، ص۵۴)

(۴)ناک منہ صاف کرنے کے لئے یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے یا پسینہ پونچھنے کے لئے رومال رکھنا عورتوں اور مردوں کے لئے جائز ہے اس لئے رومال رکھنا چاہئے دامن یا آستین سے ہاتھ منہ پونچھنا یا ناک صاف کرنا خلاف ادب اور گھناؤنی بات ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس ، ج۵، ص۳۳۳)

متفرق مسائل                       

مسئلہ : ۔مردوں کو عمامہ باندھنا سنت ہے خصوصاً نماز میں کیونکہ جو نماز عمامہ باندھ کر پڑھی جاتی ہے اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۶، ص۵۵)

مسئلہ : ۔عمامہ باندھے تو اس کا شملہ دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے اور شملہ زیادہ سے زیادہ اتنا بڑا ہونا چاہے کہ بیٹھنے میں نہ دبے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس مایکرہ  ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۰)

        بعض لوگ شملہ بالکل نہیں لٹکاتے یہ سنت کے خلاف ہے اور بعض لوگ شملہ کو اوپر لا کر عمامہ میں گھرس لیتے ہیں یہ بھی نہیں چاہئے خصوصاً نماز کی حالت میں تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔          (بہار شریعت، ج۳، ح۱۶، ص۵۵)

مسئلہ : ۔عمامہ کو جب پھر سے باندھنا ہو تو اس کو اتار کر زمین پر پھینک نہ دے بلکہ جس طرح لپیٹا ہے اسی طرح ادھیڑنا چاہئے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس مایکرہ  ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۰)

مسئلہ : ۔ٹوپی پہننا بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ

Total Pages: 188

Go To