Book Name:Jannati Zevar

   آداب : ۔کسی کے یہاں دعوت میں جاؤ تو کھانے کے لئے بہت بے صبری نہ ظاہر کرو کہ ایسا کرنے میں تم لوگوں کی نظروں میں ہلکے ہو جاؤ گے کھانا سامنے آئے تو اطمینان کے ساتھ کھاؤ بہت جلدی جلدی مت کھاؤ دوسروں کی طرف مت دیکھو اور دوسرے کے برتنوں کی جانب نگاہ مت ڈالو خبردار کسی کھانے میں عیب نہ نکالو کہ اس سے گھر والوں کی دل شکنی ہوگی اور سنت کی مخالفت بھی ہوگی کیونکہ ہمارے رسول صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مقدس طریقہ یہی تھا کہ کبھی آپ صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا بلکہ دستر خوان پر جو کھانا آپ صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم  کو مرغوب ہوتا اس کو تناول فرماتے اور جو ناپسند ہوتا اس کو نہ کھاتے بعض مردوں اور عورتوں کی عادت ہے کہ دعوت سے لوٹ کر صاحب خانہ پر طرح طرح کے طعنے مارا کرتے ہیں کبھی کھانوں میں عیب نکالتے ہیں کبھی منتظمین کو کوسنے دیتے ہیں میرا تجربہ ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتیں اس مرض میں مبتلا ہیں لہٰذا ان بری باتوں کو چھوڑ دو بلکہ یہ طریقہ اختیار کرو کہ اگر دعوتوں میں تمہارے مزاج کے خلاف بھی کوئی بات ہو تو اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرو اور صاحب خانہ کی دلجوئی کے لئے چند تعریف کے کلمات کہہ کر اس کا حوصلہ بڑھا دو ایسا کرنے سے صاحب خانہ کے دل میں تمہارا وقار بڑھ جائے گا۔

مسئلہ : ۔ہاتھ سے لقمہ چھوٹ کر گر جائے تواس کو اٹھا کر کھالو شیخی مت بگھارو کہ اس کو ضائع کردینا اسراف ہے جو گناہ ہے بہت زیادہ گرم کھانامت کھاؤ نہ کھانے کو سونگھونہ کھانے پر پھونک مار مار کر اس کو ٹھنڈا کرو کہ یہ سب باتیں خلاف ادب بھی ہیں اور مضر بھی۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۹، ص۵۶۲)

پینے کا طریقہ

        جو کچھ بھی پیو بسم اﷲ  پڑھ کر داہنے ہاتھ سے پیو بائیں ہاتھ سے پینا شیطان کا طریقہ ہے جو چیز بھی پیو تین سانس میں پیو اور ہر مرتبہ برتن سے منہ ہٹا کر سانس لو چاہئے کہ پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ ایک گھونٹ پئے اور تیسری سانس میں جتنا چاہے پی لے کھڑے ہو کر ہر گز کوئی چیز نہ پیئے ۔            

        حدیث شریف میں اس کی ممانعت ہے پانی چوس چوس کر پینا چاہئے غٹ غٹ بڑے بڑے گھونٹ نہ پئے جب پی چکے تو الحمدﷲ کہے پینے کے بعد گلاس یا کٹورے کا بچا ہوا پانی پھینکنا اسراف و گناہ ہے صراحی اور مشک کے منہ میں منہ لگا کر پانی پینا منع ہے۔(بہارشریعت، ح۱۶، ص۲۶)

 اسی طرح لوٹے کی ٹونٹی سے بھی پانی پینے کی ممانعت ہے لیکن اگر پانی انڈیلنے کے لئے کوئی برتن نہ ہو تو ٹونٹی وغیرہ میں دیکھ بھال کر پانی پی لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ : ۔وضو کا بچا ہوا پانی اور زمزم شریف کا پانی کھڑے ہو کر پیا جائے ان دو کے سوا ہر پانی بیٹھ کر پینا چاہئے ۔  (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۲۷)حدیث شریف میں ہے کہ ہر گز تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر کچھ نہ پئے اور اگر بھول کر کھڑے کھڑے پی لے اس کو چاہئے کہ قے کردے۔    (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب کراہیۃ الشرب قائمًا، رقم۲۰۲۶، ص۱۱۹)

        حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس حدیث کی شرح میں تحریر فرمایا کہ جب بھول کر پی لینے میں یہ حکم ہے کہ قے کردے تو قصداً پینے میں تو بدرجہ اولیٰ یہ حکم ہوگا۔ (اشعۃ اللمعات، کتاب الاطعمۃ، باب الاشربۃ، ج۳، ص۵۵۷)

مسئلہ : ۔سبیل کا پانی مالدار بھی پی سکتا ہے ہاں البتہ وہاں سے پانی کوئی اپنے گھر نہیں لے جاسکتا کیونکہ وہاں پینے کے لئے پانی رکھا گیا ہے نہ کہ گھر لے جانے کے لئے لیکن اگر سبیل لگانے والے کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو گھر میں لے جاسکتا ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہیۃ فی الاکل وما یتصل بہ، ج۵، ص۳۴۱)

مسئلہ : ۔جاڑوں میں اکثر جگہ مسجد کے سقایہ میں پانی گرم کیا جاتا ہے تاکہ مسجد میں جو نمازی آئیں اس سے وضو و غسل کریں و ہ پانی بھی وہیں استعمال کیا جاسکتا ہے گھر لے جانے کی اجازت نہیں اسی طرح مسجد کے لوٹوں کو بھی وہیں استعمال کر سکتے ہیں گھر نہیں لے جاسکتے بعض لوگ تازہ پانی بَھر کر مسجد کے لوٹوں میں گھر لے جاتے ہیں یہ جائز نہیں ۔ (بہارشریعت، ح۶، ص۲۷)

سونے کے آداب

        مستحب یہ ہے کہ باوضو سوئے اور بسم اﷲ  پڑھ کر کچھ دیر داہنی کروٹ پر اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی ۔          (جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب منہ (۲۸) رقم۳۴۲۸، ج۵، ص۲۶۳)

پڑھ کر داہنے ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر سوئے پیٹ کے بل نہ لیٹے حدیث شریف میں ہے کہ اس طرح لیٹنے کو اﷲ  تَعَالٰی پسند نہیں فرماتا ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثلا ثون فی المتفرقات، ج۵، ص۳۷۶)

اور پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹنا منع ہے جب کہ تہبند پہنے ہوئے ہو کیونکہ اس صورت میں ستر کھل جانے کا اندیشہ ہے۔

 (جامع الترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی فصاحۃ والبیان ، رقم۲۸۶۳، ج۴، ص۳۸۸)

 ایسی چھت پر سونا منع ہے جس پر گرنے سے کوئی روک نہ ہو لڑکا جب دس برس کا ہو جائے تو اپنی ماں یا بہن وغیرہ کے ساتھ نہ سلایا جائے بلکہ اتنی عمر کا لڑکا لڑکوں اور مردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے ۔              (بہارشریعت، ح۱۶، ص۷۱)

مسئلہ : ۔دن کے ابتدائی حصہ اور مغرب و عشاء کے درمیان اور عصر کے بعد سونا مکروہ ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثلا ثون، ج۵، ص۳۷۶)

مسئلہ : ۔شمال کی طرف پاؤں پھیلا کر بلا شبہ سونا جائز ہے اس کو ناجائز سمجھنا غلطی ہے ہاں البتہ مغرب کی طرف پاؤں کرکے سونا یقیناً ناجائز ہے کہ اس میں قبلہ کی بے ادبی ہے۔

مسئلہ : ۔رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ جب رات کی ابتدائی تاریکی آجائے تو بچوں کو گھر میں سمیٹ لو کہ اس وقت میں شیاطین ادھر ادھر نکل پڑتے ہیں پھر جب ایک گھڑی رات چلی جائے تو بچوں کو چھوڑ دو بسم اﷲ  پڑھ کر دروازوں کو بند کر لواور بسم اﷲ  پڑھ کر مشکوں کے منہ باندھ دو اور برتنوں کو ڈھانک دو اور سوتے وقت چراغوں کو بجھا دو اور سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ مت چھوڑا کرو یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب سویا کرو تو اس کو بجھا دیا کرو۔   (صحیح  البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، رقم ۳۲۸۰، ج۲، ص۳۹۹)