Book Name:Jannati Zevar

مسجد بنو قریظہ : ۔محاصرہ بنی نضیر کے وقت یہاں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے قیام فرمایا تھا یہ مسجد فضیح سے جانب مشرق تھوڑے فاصلہ پر ہے۔

مسجد ابراہیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔یہ مسجد بنی قریظہ سے جانب شمال واقع ہے اس جگہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صاحبزادہ حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُپیدا ہوئے تھے اور اس جگہ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے نماز بھی پڑھی ہے۔

دربار اقدس سے واپسی

مر  کے  جیتے  ہیں  جو  ان کے  در پہ جاتے  ہیں حسن

جی  کے  مرتے  ہیں  جو آتے  ہیں  مدینہ  چھوڑ  کر

        جب مدینہ منورہ سے واپسی کا ارادہ ہو تو مسجد نبوی شریف میں جاکر حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مصلی پر یا اس کے قریب جہاں جگہ ملے دو رکعت نفل پڑھیں اس کے بعد سنہری جالی کے سامنے مواجہہ اقدس میں حاضر ہو کر گر یہ وزاری میں ڈوب کر درد و غم کے ساتھ صلوۃ وسلام عرض کریں پھر دونوں جہاں کی بھلائی حج و زیارت کی مقبولیت اور حصول شفاعت کی سعادت اور خاتمہ بالخیر کے لئے خوب گڑگڑا کر اور روتے ہوئے دعائیں مانگیں اور خاص کر یہ بھی دعا کریں کہ حاضری کا یہ آخری موقع نہ ہو بلکہ خداوند قدوس اس مقدس دربار کی حاضری بار بار نصیب فرمائے اپنے ساتھ اپنے والدین اور رشتہ داروں عزیزوں اور دوستوں اور بزرگوں اور بچوں کے لئے بھی دعا مانگیں اس کے بعد روضہ منور کی طرف دیکھتے ہوئے اور جدائی کے رنج و غم میں آنسو بہاتے ہوئے مسجد نبوی شریف سے پہلے بایاں پاؤں نکالیں اور جہاں تک گنبد خضرا نظر آئے باربار حسرت بھری نگاہوں سے اس کا دیدار کرتے رہیں اور یہ کہتے ہوئے روانہ ہو جائیں کہ۔

مدینہ جاؤں پھر آؤں دوبارہ پھر جاؤں

اسی میں عمرِ دو روزہ تمام ہو جائے 

(۶)اسلامیات

ہمیں کرنی ہے شاہنشاہِ بطحا کی رضا جوئی

وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی

کھانے کا طریقہ

        کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے صرف ایک ہاتھ یا فقط انگلیاں ہی نہ دھوئے کہ اس سے سنت ادا نہ ہوگی لیکن اس کا دھیان رہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر پونچھنا نہ چاہئے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر تولیا یا رومال سے پونچھ لینا چاہئے تاکہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے۔(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہیۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۷)

        بسم اﷲ  پڑھ کر کھانا شروع کریں اور بلند آواز سے بسم اﷲ  پڑھیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی یاد آجائے اور سب بسم اﷲ پڑھ لیں ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہیۃفی الاکل وما یتصل بہ۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۳۷)

اور اگر شروع میں بسم اﷲ  پڑھنا بھول گیا ہو تو جب یاد آجائے یہ دعا پڑھے بِسْمِ اﷲ  اَوَّلَہٗ وَ آخِرَہٗ  (جامع الترمذی، کتاب الاطعمۃ، باب ماجاء فی التسمیۃ۔۔۔الخ، رقم۱۸۶۵، ج۳، ص۳۳۹)

     روٹی کے اوپر کوئی چیز نہ رکھی جائے اور ہاتھ کو روٹی سے نہ پونچھیں ۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۹، ص۵۶۲)

کھانا ہمیشہ داہنے ہاتھ سے کھائیں بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کا کام ہے۔ (جامع الترمذی، کتاب الاطعمۃ، باب ماجاء فی النھی ۔۔۔الخ، رقم۱۸۰۶، ج۳، ص۳۱۳)   

مسئلہ : ۔کھانا کھاتے وقت بایاں پاؤں بچھا دے اور دہنا پاؤں کھڑا رکھے یا سرین پر بیٹھے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے ۔ (اشعۃ اللمعات، کتاب الاطعمۃ، فصل ۱، ج۳، ص۵۱۸)

اور اگر بھاری بدن یا کمزور ہونے کی وجہ سے اس طرح نہ بیٹھ سکے تو پالتی مار کر کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

کھانا کھانے کے درمیان میں کچھ باتیں بھی کرتا رہے بالکل چپ رہنا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے مگر کوئی بے ہودہ یا پھوہڑ بات ہر گز نہ بکے بلکہ اچھی اچھی باتیں کرتا رہے۔

   (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات، ج۵، ص۳۴۵)

 کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لے اور برتن کو بھی انگلیوں سے پونچھ کر چاٹ لے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الحادی عشر فی الکراہیۃ فی الاکل وما یتصل بہ، ج۵، ص۳۳۷)

  کھانے کی ابتداء نمک سے کریں اور نمک ہی پر ختم کریں کہ اس میں بہت سی بیماریوں سے شفاء ہے ۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۹، ص۵۶۲)

        کھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں ۔

  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ

کھانے کے بعد صابن لگا کر ہاتھ دھونے میں کوئی حرج نہیں کھانے سے قبل عوام اور جوانوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانے کے بعد علماء و مشائخ اور بوڑھوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں کھانا کھا لینے کے بعد دستر خوان پر صاحب خانہ اور حاضرین کے لئے خیر و برکت کی دعا مانگنی بھی سنت ہے۔  (بہار شریعت، ج۳، ح۱۶، ص۱۸)

مسئلہ : ۔پاؤں پھیلا کر اور لیٹ کر اور چلتے پھرتے‘ کچھ کھانا پینا خلاف ادب اور طریقہ سنت کے خلاف ہے مسلمانوں کو ہر بات اور ہر کام میں اسلامی طریقوں کی پابندی اور آداب سنت کی تابعداری کرنی چاہئے۔

مسئلہ : ۔چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا پینا جائز نہیں بلکہ ان چیزوں کا کسی طرح سے استعمال کرنا درست نہیں جیسے سونے چاندی کا چمچہ استعمال کرنا یا اس کے بنے ہوئے خلال سے دانت صاف کرنا اسی طرح چاندی سونے کے بنے ہوئے گلاب پاش سے گلاب چھڑکنا یا خاصدان میں پان رکھنا یا چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا یا چاندی کی پیالی میں تیل رکھ کر تیل لگانا یہ سب حرام ہے ۔

                             (الدرالمختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۹، ص۵۶۴)

Total Pages: 188

Go To