Book Name:Jannati Zevar

مدینہ طیبہ کے چند کنوئیں

(۱۶) مدینہ طیبہ کے وہ کنوئیں جو حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف منسوب ہیں یعنی کسی سے وضو فرمایا کسی کا پانی نوش فرمایا کسی میں اپنا لعاب دہن ڈالا اگر کوئی جاننے والا اور بتانے والا ملے تو ان مبارک کنوؤں کی بھی زیارت کرو خاص کر مندرجہ ذیل کنوؤں کا خیال رکھو۔

بیر حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔یہ کنواں وادیٔ عقیق کے کنارے پر مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ایک باغ میں ہے اس کنوئیں کو ’’بیر رومہ‘‘ بھی کہتے ہیں یہ وہی کنواں ہے جس کا مالک ایک یہودی تھا اور مسلمانوں کو پانی کی تکلیف تھی تو حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے بیس ہزار درہم پر اس کنوئیں کو یہودی سے خرید کر مسلمانوں پر وقف کر دیا۔

بیر اریس : ۔یہ کنواں مسجد قبا سے متصل پچھّم کی جانب ہے اس کو ’’بیئر خاتم‘‘ بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے ہاتھ سے مہر نبوت کی انگوٹھی اس کنوئیں میں گر گئی اور بڑی تلاش و جستجو کے باوجود نہیں ملی حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس کنوئیں کا پانی پیا اور اس سے وضو فرمایا اور اس میں اپنا لعاب دہن بھی ڈالا تھا۔

بیر غرس : ۔یہ کنواں مسجد قبا سے تقریبا چار فرلانگ پورب اتر کونے پر واقع ہے اس کے پانی سے حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے وضو فرمایا اور اس کا پانی پیا بھی ہے اور اس میں اپنا لعاب دہن اور شہد بھی ڈالا ہے۔

بیر بُصّہ : ۔یہ کنواں قبا کے راستہ میں جنت البقیع کے متصل ہے اس کنوئیں پر حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنا سر مبارک دھویا اور غسل فرمایا اس جگہ دو کنوئیں ہیں صحیح یہ ہے کہ بڑا کنواں بیر بُصّہ ہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں سے برکت حاصل کرے۔

بیر بضاعہ : ۔یہ کنواں شامی دروازہ سے باہر جمل اللیل باغ کے پاس ہے اس میں بھی حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی ہے۔

بیر حائ : ۔یہ کنواں باب مجیدی کے سامنے شمالی فصیل سے باہر ہے یہ کنواں حضرت ابو طلحہ صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے باغ میں تھا حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاکثر اس جگہ جلوہ افروز ہوتے تھے اور اس کا پانی نوش فرماتے تھے جب آیت مبارکہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَہ (پ۴، آٰل عمران : ۹۲)نازل ہوئی تو چونکہ یہ کنواں حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو بہت زیادہ محبوب تھا اس لئے انہوں نے اس کو خدا کی راہ میں صدقہ کر دیا۔

بیر عہن : ۔یہ کنواں مسجد شمس کے قریب ہے اس کنوئیں کے پانی سے بھی حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے وضو فرمایا ہے اس کا پانی قدرے کھاری ہے اس کو’’بیر الیسیرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مدینہ منورہ کی چند مسجد یں

(۱۷)مدینہ منورہ کی چند مشہور مسجدوں کی بھی زیارت کرے اور ہر مسجد میں کم سے کم دو دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر دعائیں مانگے خصوصیت کے ساتھ ان مسجدوں کی ۔

مسجد جمعہ : ۔یہ مسجد قبا کے نئے راستے سے جانب مشرق ہے پہلا جمعہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اسی جگہ ادا فرمایا تھا۔

مسجد غمامہ   : ۔اس جگہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام عیدین کی نماز پڑھتے تھے اسی لئے اس کو مسجد مصلّٰی بھی کہتے ہیں ۔

مسجد ابو بکر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔یہ مسجد بالکل مسجد غمامہ کے قریب شمالی جانب ہے۔

مسجد علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔یہ مسجد بھی غمامہ کے پاس ہی ہے۔

مسجد بغلہ : ۔یہ مسجد جنّۃ البقیع کے مشرق میں ہے مسجد کے قریب ایک پتھر میں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خچر کے کھر کا نشان ہے اس لئے اس کو مسجد بغلہ کہتے ہیں بغلہ کے معنی خچر ہے۔

مسجد اجابہ : ۔یہ مسجد جنۃ البقیع کے شمالی جانب ہے ایک دن حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس قبیلہ والوں کے لئے اس جگہ دعائیں مانگیں جو مقبول ہوئیں ۔

مسجد اُبی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔یہ مسجد جنت البقیع کے بالکل قریب ہی ہے اسی جگہ حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا مکان تھا حضور انور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکبھی کبھی یہاں رونق افروز ہوتے اور نماز پڑھتے تھے۔

مسجد سقیا : ۔باب عنبر یہ کے قریب ریلوے اسٹیشن کے اندر ایک قبہ ہے جس کو قبۃ الرؤس کہتے ہیں اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ’’بیرالسقیا‘‘ ہے حضور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جنگ بدر میں جاتے ہوئے یہاں نماز ادا فرمائی تھی۔

مسجد احزاب : ۔یہ مسجد سلع پہاڑی کے مغربی کنارے پر ہے جنگ خندق کے موقع پر اسی جگہ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دعا مقبول ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اسی لئے بعض لوگ اسے مسجد الفتح بھی کہتے ہیں اس کے قریب میں چار دوسری مسجدیں بھی ہیں ایک کا نام مسجد ابو بکر‘ دوسری کا نام مسجد عمر‘ تیسری کا نام مسجد عثمان اور چوتھی کا نام مسجد سلمان ہے ان پانچوں مسجدوں کو مساجد خمسہ کہا جاتا ہے یہ چاروں مقامات درحقیقت جنگ کے مورچے تھے اور یہ چاروں صحابہ کرام ایک ایک مورچہ پر متعین تھے ان حضرات نے ان مورچوں میں نمازیں بھی پڑھیں اس لئے یہ مورچے مسجد بن گئے۔

مسجد بنی حرام : ۔سلع پہاڑی کی گھاٹی میں مسجد احزاب کو جاتے ہوئے داہنی طرف یہ مسجد واقع ہے اس کی تاریخ یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس جگہ نماز پڑھی ہے اسکے قریب ایک غار ہے جس پر حضور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایک مرتبہ وحی اتری تھی اور جنگ خندق کے موقع پر رات کو اس غار میں آرام فرمایا تھا اس کی بھی زیارت کرنی چاہئے۔

مسجد ذباب : ۔یہ مسجد ذباب کی پہاڑی پر ہے جو جبل احد کے راستہ کے بائیں جانب ہے جنگ خندق کے موقع پر اس جگہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا۔

مسجد قبلتین : ۔یہ مسجد وادی عقیق کے قریب ایک ٹیلا پر ہے اسی جگہ بیت المقدس کے بجائے کعبہ شریف قبلہ مقرر ہوا اسی لئے اس کو مسجد قبلتین کہتے ہیں ۔

مسجد فضیخ : ۔عوالی کے مشرقی حصہ میں یہ مسجد ہے اس جگہ بنو نضیر کے یہودیوں کا محاصرہ کرنے کی حالت میں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے نمازپڑھی تھی اس کا دوسرا نام ’’مسجد شمس‘‘ بھی ہے اس مسجد کو نجدی حکومت نے شہید کر ڈالا ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To