Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال و دولت کی حرص اور حُبِّ جاہ اِنسان کے دِین کو نُقصان پہنچاتے ہیں ۔ )[1](

بھائیو! ہر دَم بچو تم حُبِّ جاہ و مال سے

ہر گھڑی چوکس رہو شیطان کی اِس چال سے      ( وسائلِ بخشش )

نعت خواں اپنے اندر اِخلاص  کیسے پیدا کریں؟

سُوال : نعت خواں اپنے اندر اِخلاص کیسے پیدا کریں؟

جواب : کوئی بھی نیک کام ہو اس کا اللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی رضا کے لیے ہونا ضَروری ہے ۔ نعت خوانی بھی چونکہ ایک عظیم نیک کام ہے لہٰذا اس میں بھی اللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کو مدِّنظر رکھنا چاہیے ۔  یقیناً وہ نعت خواں بڑے خوش نصیب ہیں جنہیں خوش اِلحانی کی نعمت کے ساتھ ساتھ اِخلاص کی نعمت بھی میسر ہے ۔  اگر مَحافلِ نعت مُنعقد کرنے اور نعت پڑھنے سے اللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا حاصل کرنا مقصود ہے تو وہ بغیر اِیکو ساؤنڈ لگائے ، مجمع بڑھائے اور دُور دُور تک آواز  پہنچائے بھی حاصِل ہو سکتی ہے ۔  

 اُمَّت کے اَحوال سے باخبر آقا

 نعت خواں اسلامی بھائیوں کو اپنا یوں ذہن بنانا چاہیے کہ ہم جن کی نعتیں پڑھ رہے ہیں وہ پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اپنی اُمَّت کے اَحوال سے باخبر ہیں یہاں تک کہ ان کی نیتوں اور دِلی اِرادوں پر بھی مُطَّلِع ہیں ان پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں جیسا کہ امام ابنِ حاج مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی    مَدخَل میں اور امام احمد قسطلانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النُّوْرَانِی مَواہِبُ اللَّدُنِیہ میں فرماتے ہیں کہ بیشک ہمارے عُلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُالسَّلَام نے فرمایا :  لَا فَرْقَ بَیْنَ مَوْتِہٖ وَحَیَاتِہٖ فِیْ مُشَاھَدَتِہٖ لِاُمَّتِہٖ وَمَعْرِفَتِہٖ بِاَحْوَالِھِمْ و نِیَّاتِہِمْ وَعَزَائِمِھِمْ وَخَوَاطِرِھِمْ وَذٰلِکَ عِنْدَہٗ جَلِیٌّ لَا خِفَاءَ بِہٖ یعنی حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی اُمت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں ، نیتوں ، اِرادوں اور دِل کے خطروں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر روشن ہے جس میں اَصلاً پوشیدگی نہیں ۔ )[2](

سرِ عرش پر ہے تری گزر دلِ فرش پر ہے تری نظر

مَلکوت و مُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں      ( حدائقِ بخشش )

قَلب مُبارَک میں دو آنکھیں اور دو کان

اگر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی دِیوانہ خَلوت میں  بغیر اِیکوساؤنڈ کے  بھی نعتیں پڑھے گا تو سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَماعت فرما لیں  گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَلبِ مُبارَک میں دو آنکھیں اور دو کان  پیدا فرمائے ہیں جن سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُور سے دیکھتے اور سُنتے ہیں چُنانچہ شارحِ بُخاری امام ابنِ حجرعسقلانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شقِ صَدر مُبارَک کے بعد جب قَلبِ اَطہر کو زَمزم کے پانی سے دھویا تو فرمانے لگے کہ قَلب مُبارَک ہر قسم کی کجی ( یعنی ٹیڑھے پن )اور عیب سے پاک ہے اس میں



[1]    ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ( ت : ۴۳ ) ، ۴ / ۱۶۶ ، حدیث : ۲۳۸۳ 

[2]    المدخل لابن الحاج ، ۱ / ۱۸۷ دار الکتب العلمیة بیروت / المواھب اللدنیة ، ۳ / ۴۱۰ دار الكتب العلمیة بیروت



Total Pages: 15

Go To