Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

جیتے جی سزا پائے گا اور ذِلَّت و رُسوائی اس کا مُقَدَّر بنے  گی چُنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دَانائے غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ہر گناہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی و اِیذا رسانی کو نہیں بخشتا بلکہ ایسا کرنے والے کو اس کے مَرنے سے پہلے دُنیا کی زندگی میں ہی جلد سزا دے دیتا ہے ۔ )[1]( لہٰذا نعت خوانوں کو چاہیے کہ وہ والدین کو ناراض کر کے  اتنا بڑا خَطرہ ہرگز نہ مولیں ۔

اگر آپ کو اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے لیے نعت  خوانی کرنی ہے تو اس کے لیے نہ تو بہت بڑی مَحافل میں جانا شرط ہے اور نہ ہی اِیکو ساؤنڈ وغیرہ کی حاجت ۔ آپ اپنے گھر والوں کے سامنے نعتیں پڑھیے  آپ کے والدین بھی آپ سے راضی رہیں گے ، رِیاکاری بھی نہیں ہو گی اور شیطان بھی ناکام و نامُراد ہو جائے گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کا فرمانبردار اور حقیقی عاشقِ رسول بنائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مطیع اپنے ماں باپ کا کر میں انکا

ہر اِک حکم لاؤں بجا یاالٰہی       ( وسائلِ بخشش )

نعت خواں حُبِّ جاہ سے کیسے بچیں؟

سُوال : حُبِّ جاہ کی علامات کیا ہیں؟نیز نعت خواں اپنے آپ کو حُبِّ جاہ سے کیسے بچائیں؟

جواب : کسی بھی کام کو بجا لانے یا اس سے بچنے کے لیے اس کا علم ہونا ضَروری ہے ۔  جب تک اس کے بارے میں معلومات نہیں ہوں گی اس وقت تک اس  کام کو بجا لانے یا اس سے بچنے میں کماحَقُّہ کامیابی حاصِل نہیں ہو سکتی ۔ حُبِّ جاہ شُہرت و عزت کی خواہش کرنے کو کہتے ہیں ۔  علمِ دِین سے دُوری کے سبب آج کل نعت خوانی جیسے عظیم نیک کام میں بھی اس کے نظارے عام ہیں ، مثلاً محفل میں  کئی نعت خوانوں کی موجودگی میں کسی نعت خواں کا  یہ تمنّا کرنا کہ بس مجھے موقع مل جائے ، موقع ملنے پر مائیک ہاتھ سے نہ چھوڑنا ، مجمع بڑھنے کے ساتھ ساتھ مائیک پر گرفت بھی مَضبوط کرتے چلے جانا اگرچہ اس سے اچھی آواز والے نعت خواں موجود ہوں اور سامعین  بھی انہیں سننے کے لیے بے چین ہوں یقینا ً یہ سب حَرکات حُبِّ جاہ کی علامات میں سے ہیں ۔  

اِسی طرح مَحافل کا اِنعقاد کرنے والے کئی اَفراد حُبِّ جاہ کے مَرض میں مبتلا نظر آتے ہیں ، مثلاً اِجتماعِ ذِکر و نعت یا شادی وغیرہ کے موقع پر بڑی شخصیات یا ذِمَّہ داران کو اس لیے دعوت دینا کہ ان کے شرکت کرنے سے لوگوں کو یہ تأثر ملے گا کہ جناب کے بہت اوپر تک تعلقات ہیں یا شادی کے موقع پر پڑھے جانے والا مدنی سہرا )[2]( جو کہ سب کے لیے عام ہے لیکن  لوگوں سے یہ جھوٹ کہتے پھرنا  کہ  یہ خاص میرے ہی نام پر   لکھا گیا ہے یہ سب باتیں حُبِّ جاہ کے مَرض  کی  علامات ہیں ۔  

بہرحال نعت خواں ہو یا غیر نعت خواں ہر ایک کو حُبِّ جاہ کے بارے میں علم حاصِل کرنا چاہیے اور اس مَرض  سے بچنے کے لیے اس کی وَعیدات  پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے سبب دِین کو سخت نُقصان پہنچ سکتا ہے چُنانچہ نبیٔ آخرالزّمان ، شَہَنشاہِ کون و مکانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عِبرت نشان ہے :  دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو اتنا

 

 



[1]    شعب الایمان ، باب  فی  بر الوالدین ، فصل  فی  عقوق  الوالدین ، ۶ / ۱۹۷ ، حدیث : ۷۸۹۰ 

[2]    شیخِ طریقت ، اَمِیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا دولہا کے لیے دُعاؤں پر مشتمل منظوم کلام جو عموماً شادی کے پُرمسرّت  موقع پر پڑھا جاتا ہے اسے ” مدنی سہرا“ کہا جاتا ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ ) 



Total Pages: 15

Go To