Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

طرح مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  نے صرف اُس عورت اور اس کے بچّے کے خیال سے نَمازِ فجر مُعَوَّذَتَین ( یعنی سورۃُ الفلق اور سورۃُ النَّاس ) سے پڑھا دی اور مُعاذ ابنِ جبلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر تطویل( لمبی قِراءَت ) میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تک کہ رُخسار مُبارَک شِدَّتِ جَلال سے سُرخ ہو گئے اور فرمایا : کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ، کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ، کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے اے معاذ ! ۔ )[1](

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً کوئی بھی حقیقی مسلمان نعت  خوانی کی مَحافِل کا مُخالِف نہیں ہو سکتا اَلبتہ اس میں ہونے والی بے احتیاطیاں اسے متنفر کر سکتی ہیں لہٰذا مریضوں ، بچوں اور بوڑھوں کی دِل آزاری سے بچنے کے لیے ظہر سے قبل نعت خوانی کا اِہتمام کر کے ظہر کے بعد لنگر کھلا دیجیے یا عصر تا عشا نعت خوانی کر کے عشا کے فوراً بعد لنگر کھلا دیجیے اور یہ اِحتیاط ضَرور کیجیے کہ کسی بھی مشغولیت کے سبب جماعت فوت نہ ہو ۔  

میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نَمازیں

اللہ! عبادت میں مِرے دل کو لگا دے ( وسائلِ بخشش )

یاد رکھیے ! رات بھر  نعت خوانی کی مَحافِل  اگر شَرعی خرابیوں سے پاک ہوں  تو ان میں کوئی حَرج نہیں ۔ عموماً بڑی راتوں میں رات بھر نعت خوانی کی مَحافِل کا  اِہتمام ہوتا ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے زیرِ اِہتمام بھی بڑی راتوں میں رات بھر  اِجتماعِ ذِکر ونعت کا اِہتمام کیا جاتا ہے ، ان مَحافِل اور اِجتماعِ ذِکر ونعت میں شِرکت کرنے والے اسلامی بھائیوں پر لازِم ہے کہ وہ اپنی نماز اور جماعت کا خیال رکھیں ۔   

والدین کو  ناراض کر کے مَحافل میں شِرکت کرنا کیسا؟

سُوال : والدین کو ناراض کر کے مَحافلِ نعت میں شرکت کرنے اور نعتیں پڑھنے کی صورت میں ثواب ملے گا یا گناہ ؟

جواب : مَحافلِ نعت میں شِرکت کرنا اور نعتیں پڑھنا یقیناً بہت بڑی سعادت ہے لیکن اس کے لیے والدین کو اِیذا و تکلیف پہنچانا اور ان کی نافرمانی کر کے انہیں ناراض کرنا  ناجائر ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔  والدین کو نعت خوانی سے تکلیف نہیں  ہوتی  اور نہ ہی  وہ اس سے منع کرتے ہیں بلکہ نعت خوانی کے سبب گھر میں تاخیر سے پہنچنا ان کی اِیذا و تکلیف کا سبب بنتا ہے لہٰذا اپنی اس کوتاہی کو دُور کرتے ہوئے  اپنے   والدین  کو راضی رکھنے کی کوشش کیجیے کہ حدیثِ پاک میں ہے : رِضَا اللهِ  فِيْ رِضَا الْوَالِدَيْنِ وَسَخَطُ اللهِ  فِيْ سَخَطِ الْوَالِدَيْنِ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا والدین کی رضا میں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے ۔ )[2](

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!والدین کی ناراضی کی صورت میں مَحافلِ نعت میں شِرکت کرنا ہرگز جائز نہیں بلکہ گناہ ہے ۔ ( شیخِ طریقت ، اَمیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )ایک بار بہت سے نعت خواں میرے پاس جمع تھے تو میں نے ان سے عرض کی کہ آپ مَحافلِ نعت میں آدھی آدھی رات تک نعتیں پڑھتے رہتے ہیں اس سے کس کس کے والدین خوش ہوتے ہیں؟تو ایک نعت خواں نے بھی ہاتھ نہیں اُٹھایا کہ میرے والدین مجھ سے خوش  ہوتے ہیں لہٰذا  ایسی نعت خوانی  نہ کی جائے کہ جس سے والدین ناراض ہوتے ہوں ۔  یاد رکھیے ! ماں باپ کو ستانے اور ان کا دِل دُکھانے والا آخرت میں تو اپنے کیے کی سزا پائے گا ہی دُنیا میں بھی



[1]     بخاری ، کتاب الاذان ، باب  اذا طول الامام...الخ ، ۱ / ۲۵۱ ، حدیث : ۷۰۱  ملخصاً 

[2]    شعبُ الایمان ، باب فی بر الوالدین ، ۶ / ۱۷۷ ، حدیث : ۷۸۳۰ 



Total Pages: 15

Go To