Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

اِس طرح سارے نعتیہ کلام کا حُسن ختم  کر دیتے ہیں حالانکہ جنہوں نے یہ کلام لکھا ہے ان کا عشقِ مصطفے ٰ اور بارگاہِ مصطفے ٰ کا اَدب و اِحترام اپنے تو کیا بیگانوں کو بھی مُسَلَّم( تسلیم شُدہ )ہے ۔  ایک بار بابُ المدینہ( کراچی ) کے کسی  علاقے میں ہونے والی محفلِ نعت میں ایک مشہور و مَعروف عالمِ دِین تشریف فرما تھے ، ان کے سامنے ایک نعت خواں نے یہی کلام پڑھنا شروع کیا لیکن اَدب کے  زُعم  میں ”تیرا“ کے بجائے ہر جگہ ”آپ کا “کے اَلفاظ لگا کر سارے کلام کو  بگاڑ کر رکھ دیا ، بالآخر جب عالِم صاحب کے صبر کا پیمانہ لَبریز ہوا  تو اِرشاد فرمایا :   ’’ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت تم سے زیادہ اَدب جانتے تھے لہٰذا جو لکھا ہے وہی پڑھو ۔    ‘‘ لہٰذا کسی بھی مسئلے میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے سُنّی  عُلمائے کِرام و مفتیانِ عُظَّام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام سے شَرعی رہنمائی لے کر اس کے مُطابِق عمل کرنے ہی میں عقلمندی اور دِین و دُنیا کی بھلائی ہے ۔    

رات دیر تک نعت خوانی کرنا

سُوال : آج کل  ہمارے مُعاشرے میں  رات دیر تک  نعت خوانی  کی مَحافِل جاری رہتی ہیں اس کے بارے میں کچھ اِرشاد فرما دیجیے ۔  

جواب : نعت خوانی عین سعادت ہے  مگر مسلمانوں کی خیرخواہی کی نیَّت سے رات دیر تک نعت خوانی  کی مَحافِل جاری نہ رکھیں کہ اس کے کئی نُقصانات ہو سکتے  ہیں ۔ اگر نماز قضا ہو گئی یا جماعت نکل گئی تو یہ سب سے بڑا نُقصان ہے ۔  یاد رکھیے ! نعت خوانی میں شِرکت کرنا زیادہ سے زیادہ مستحب عمل ہے اور ایک مستحب عمل کی وجہ سے فرض یا واجِب چھوڑنا یہ عشقِ رسول نہیں اور نہ ہی یہ عشقِ رسول کا تقاضا ہے ۔  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ایک مستحب کے سبب واجِب کو ترک کرنا مکروہِ تحریمی  ہے ۔ )[1](

آج کل کی مُرَوَّجہ نعت خوانیوں میں دوسرا اَلمیہ یہ ہے کہ محفل میں اگرچہ چند لوگ ہوں لیکن  اِیکو ساؤنڈ یا  لاؤڈ اسپیکر کی آواز اِس قدر بلند رکھی جاتی ہے کہ مریضوں ، بچوں ، بوڑھوں اور علاقے والوں کا سونا دُشوار ہو جاتا ہے ۔ ( شیخِ طریقت ، اَمیرِاہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )ایک مرتبہ ایک آفیسرنے مجھے بتایا کہ ہمارے محلے میں نعت خوانی کی محفل تھی جس میں بلند  آواز سے نعتیں چلا رکھی تھیں ۔  میں نے جا کران سے عرض کی کہ مجھے  اِمتحان کی تیاری کرنی ہے  برائے  مہربانی آواز کچھ کم کر دیجیے ۔ انہوں نے آواز کم کرنے کے بجائے  مجھے دَلائل دینے شروع کر دیئے  کہ پہلے جا کر گانے باجوں کے پروگرامز بند کراؤ پھر ہمیں آ کر سمجھانا ۔    

اِیذائے مسلم کی روک تھام

یاد رکھیے ! ان محافل میں اگرچہ بہت سے مسلمان شرکت کرتے ، جھومتے اور خوش ہوتے ہیں لیکن اگر  کسی ایک مسلمان کو بھی اِیذا پہنچتی ہو تو اس کی ممانعت ہو جائے گی ۔  اِیذائے مُسلم کی روک تھام شریعت کو کس قدر محبوب ہے اس کا اَندازہ اس سے لگائیے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ325پر فرماتے ہیں : اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نَماز ہے اور خوب وسیع وَقت ہے اور جماعت میں999آدَمی دِل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی  سورَتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بوڑھا یا کسی کام کا ضَرورت مند ہے  کہ اس پر تطویل ( لمبی قِراءَت ) بار( بوجھ ) ہو گی ، اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تَطویل( لمبی قِراءَت ) کرے بلکہ ہزار میں اس ایک کے لحاظ سے نَماز پڑھائے جس



[1]    فتاویٰ رضویہ ، ۸ / ۲۸۲ ملخصاً   رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور 



Total Pages: 15

Go To