Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

جب ہَوازِن کی فتح ہوئی تو کثیر مِقدار میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا  تو  نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ہَوازِن کے وَفد سے دَریافت فرمایا کہ ( تمہارا سردار ) مالِک بِن عَوف کہاں ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ”ثقیف“ کے ساتھ طائِف میں ہے ۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم لوگ مالِک بِن عَوف کو خبر کر دو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ جائے تو میں اس کا سارا مال اسے واپس دے دوں گا ۔  اس کے علاوہ اس کو ایک سو اونٹ اور بھی دوں گا ۔  مالِک بِن عَوف کو جب یہ خبر ملی تو وہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خِدمت میں مسلمان ہو کر حاضِر ہو گئے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کا کُل مال ان کے سپرد فرما دیا اور وعدہ کے مُطابِق ایک سو اونٹ اس کے علاوہ بھی عِنایت فرمائے ۔  مالِک بِن عَوف آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اس خُلقِ عظیم سے بے حد مُتأثر ہوئے اور آپ کی مَدح میں نعتیہ اَشعار پر مشتمل ایک  قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر یہ ہیں :   

مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہٖ

فِی النَّاسِ کُلِّھِمْ بِمِثْلِ مُحَمَّدٖ

اَوْفیٰ وَاَعْطٰی لِلْجَزِیْلِ اِذَا اجْتُدِی

وَمَتٰی تَشَأ یُخْبِرُکَ عَمَّا فِیْ غَدٖ

یعنی تمام اِنسانوں میں حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مِثل نہ میں نے دیکھا نہ سُنا جو سب سے زیادہ وعدہ  پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ مال عطا فرمانے والے ہیں اور جب تم چاہو ان سے پوچھ لو وہ آیندہ کی خبر تم کو بتا دیں گے ۔  

نعت کے یہ اَشعار سُن کر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ان سے خوش ہو گئے اور ان کے اِسلام کو پسند فرما کر انہیں مسلمانوں پر عامِل مُقَرَّر فرما دیا ۔  ( [1] )

ایک رِوایت میں یہ ہے کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کے لیے کلماتِ خیر فرمائے اور انہیں بطورِ اِنعام ایک حُلَّہ بھی عِنایت فرمایا ۔  ( [2] )

نعت ، منقبت اور اِستغاثہ

عرض : نعت ، منقبت اور اِستغاثہ میں کیا فرق ہے ؟ نیز آپ کی لکھی ہوئی  نعتوں کی تعداد کتنی ہے ؟  

اِرشاد : وہ مَنظوم کلام جس میں شاہ ِ خَیر الانام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تعریف و توصیف بیان کی جائے اُسے عُرفِ عام میں   ’’ نعت  ‘‘  کہتے ہیں اور  وہ مَنظوم کلام جس میں صَحابۂ کرام و اَولیائے عُظَّام رِضْوَانُ اللّٰہِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی خوبیاں بیان کی جائیں اسے   ’’ منقبت  ‘‘ کہتے ہیں اور اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  و اَولیائے عُظَّام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کی بارگاہ میں فریاد کرنے  کو   ’’ اِستغاثہ  ‘‘  کہا جاتا ہے ۔  میرے لکھے ہوئے  کلام  تقریباً مُناجات اور اِستغاثہ  پر مشتمل ہیں مثلاً :

مجھے دَر پہ پھر بُلانا مدنی مدینے والے

مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے    ( وسائلِ بخشش )

کہیں کہیں نعتیہ اَشعار بھی آئے ہیں  مثلاً :  

 



[1]    سیرت ابن ھشام ، ص ۵۰۵  دار الکتب العلمية بيروت 

[2]    الاصابة ، حرف المیم ، مالک بن عوف ، ۵ / ۵۵۱  دار الکتب  العلمية  بيروت



Total Pages: 15

Go To