Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

رضا اور ان کی ناراضی میںاللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی ناراضی ہے ۔ )[1]( حضرتِ سَیِّدُنا اَبُواُمامَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! والدین کا اولاد پر کیا حق ہے ؟فرمایا :  هُمَا جَنَّتُكَ وَ نَارُكَ وہ دونوں تیری جنَّت و دوزخ ہیں ۔ )[2]( یعنی ان کو راضی رکھنے سے جنَّت ملے گی اور ناراض رکھنے سے دوزخ کے مستحق ہو گے ۔  

اگر رات کے مَدَنی مشوروں کی وجہ سے تاخیر سے گھر پہنچنے کے سبب والدین کا دِل دُکھتا ہو ، انہیں اَذِیت پہنچتی ہو تو مَدَنی مشورے رات کے بجائے نمازِ فجر کے بعد رکھے جائیں اور اسلامی بھائی مدنی مشورے کے اِختتام پر اِشراق و چاشت ادا فرما کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ۔ اگر کاروبار کی مَصروفیت کی وجہ سے نمازِفجر کے بعد ممکن نہ ہو تو اتوار کے  دن مدنی مشورے رکھے جائیں تاکہ اسلامی بھائی بآسانی مدنی مشوروں میں شریک ہو سکیں ۔  اس طرح اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کے والدین بھی آپ سے راضی رہیں گے اور آپ کو رات جلد آرام کرنے کا وقت بھی مل جائے گا ۔  یاد رکھیے ! والدین کو ستانے اور ان کا دِل دُکھانے والوں  کو  کبھی بھی کامیابی نصیب نہیں ہوتی ، دُنیا و آخرت میں ایسوں  کے لیے  خَسارہ ہی خَسارہ ہے ۔   

دِل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا

ورنہ ہے اس میں خَسارہ آپ کا   ( وسائلِ بخشش )

 رات دیر تک جاگنا  صحت کے لیے بھی نُقصان دِہ ثابت ہو سکتا  ہے ۔  رات  دیر تک جاگنے کے سبب آپ کی نیند پوری نہیں ہو گی تو نتیجۃً آپ کے دن بھر کے معمولات بھی مُتأثر ہوں گے ۔ اِسی طرح اگر جامعاتُ المدینہ میں رات پڑھائی کے حلقے دیر تک لگے رہیں ، طلبا کو سوتے سوتے ایک بج جائے جس کی وجہ سے نمازِ تہجد ادا کرنا تو دُور کی بات نمازِ فجر کے لیے اُٹھنا بھی دُشوار ہو جائے  تو یہ مُناسِب نہیں ہے ۔  اگر جامعاتُ المدینہ میں بھی عشا کے بعد جلد سونے کی ترکیب ہو اور پڑھائی کے  حلقے نمازِ تہجد ادا کرنے کے بعد لگائے جائیں تو نمازِ تہجد کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نمازِ فجر بھی بآسانی   جماعت کے ساتھ ادا کی جا سکتی ہے  ۔

بڑی راتوں کے اِجتماعات

سُوال : کیا بڑی راتوں کے اِجتماعات بھی دو گھنٹے کے اَندر ختم کر دینے چاہییں؟

جواب : بڑی راتوں کے سنَّتوں بھرے اِجتماعات عشا کی جماعت سے دو گھنٹے کے اَندر گھر پہنچنے والے مدنی اِنعام سے مستثنیٰ( یعنی الگ ) ہیں کیونکہ ان اِجتماعات میں نئے آنے والے اسلامی بھائیوں سے مُلاقات اور اِنفرادی کوشش کرنی ہوتی ہے جو دو گھنٹے میں ممکن نہیں ۔  اِسی طرح اَراکینِ شُوریٰ اور کابینات کے نگران وغیرہ دُور دَراز کے علاقوں اور قصبوں میں بیان کے لیے آتے  جاتے ہیں تو ان کا کافی وقت اس میں صَرف ہو جاتا ہے نیز اِجتماع کے بعد شُرکا اِن سے مُلاقات کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں لہٰذا اِن اِجتماعات کی وجہ سے تاخیر ہونے کی  صورت میں  دو گھنٹے کے اَندر گھر پہنچنے والے مدنی اِنعام پر ان کا  عمل شُمار کیا جائے گا ۔

اگر کسی کے والدین  ان بڑے اِجتماعات میں بھی تاخیر کے سبب ناراض ہوتے ہوں تو وہ اِختتام کا اِنتظار کیے بغیر جلد گھر لوٹ جائے اور اپنے والدین کو راضی رکھنے کی کوشش کرے ۔  اگر والدین شفقت کی بِنا پر اِجتماعات میں شرکت کرنے سے ہی منع کرتے ہوں تب بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے رُک جائے کہ اِجتماعات و مَحافل میں شِرکت کرنا مستحب ہے جبکہ والدین کے ساتھ اِحسان و



[1]    شعب الایمان ، باب فی بر الوالدین ، ۶ / ۱۷۷ ، حدیث : ۷۸۳۰  

[2]    ابنِ ماجه ، کتاب الادب ، باب بر الوالدین ، ۴ / ۱۸۶ ، حدیث : ۳۶۶۲  دار المعرفة بيروت 



Total Pages: 15

Go To