Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سُنتے ہیں ۔ ) [1](

غزالیِ زماں ، رازیِ دَوراں حضرتِ علّامہ سیِّد احمد سعید کاظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : قَلبِ مُبارَک کے یہ کان اور آنکھیں عالَمِ مَحسُوسات سے وَرَاءُ الوَرَاء ( یعنی دُور سے دُور )حَقائِق کو دیکھنے اور سُننے کے لیے ہیں جیسا کہ خود حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اِنِّيْ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سُنتا ہوں جو تم نہیں سُن سکتے ۔ ) [2]( اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے مشہورِ زمانہ سلام ”مصطفے ٰ جانِ رَحمت پہ لاکھوں سلام“ میں فرماتے ہیں :

دُور و نزدیک کے سُننے والے وہ کان

کان لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام   ( حدائقِ بخشش )

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے کہ اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا تھوڑا عمل بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت سے کافی ہو جاتا ہے جیسا کہ اِمَامُ الْمُخْلِصِیْن ، سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دِلنشين ہے : اَخْلِصْ دِیْنَکَ یَکْفِکَ الْعَمَلُ الْقَلِیْلُ یعنی اپنے دِین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا ۔ ) [3]( حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی ایک بُزرگ سے نقل کرتے ہیں : ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے مگر اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے ۔ ) [4](

مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو

کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی     ( وسائلِ بخشش )

نمازِ باجماعت کاجذبہ بیدار کرنے کے واقعات

سُوال : نمازِ باجماعت کا جَذبہ بیدار کرنے کے لیے تَرغیب کے طور پر چند واقعات بیان فرما دیجیے ۔  

جواب : انسان کے دِل میں جس چیز کی اَہمیت ہوتی ہے اس کا جَذبہ بھی بیدار ہو جاتا ہے ۔  نمازِ باجماعت کا جَذبہ پانے کے لیے باجماعت نماز اَدا کرنے کے فَضائِل پڑھیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  باجماعت نماز ادا کرنے کا ذہن بنے گا ۔  پہلے کے دور میں لوگوں کے دِلوں میں نمازِ باجماعت کا ایسا  جَذبہ ہوتا تھا کہ کام کاج کی کوئی بھی مَصرُوفیت انہیں نماز سے غافل نہ کرتی ، جوں ہی نماز کا وقت ہوتا لوگ فوراً اپنا کام کاج چھوڑ کر مَساجد کی طرف رُخ کرتے چُنانچہ خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :  

رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ-- ( پ۱۸ ، النور : ۳۷ )

 ترجمۂ کنزُ الایمان : وہ مَرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خَرید و فروخت اللّٰہ کی یاد  اور نماز بَرپا رکھنے  اور زکوٰۃ دینے سے ۔

اِس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازِن میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بازار میں تھے تو مسجد میں نماز کے لیے اِقامَت کہی گئی ( آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ )لوگ اُٹھے اور دُکانیں بند کر کے مَساجد میں داخِل ہو گئے تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    فتح الباری ، کتاب التوحید ، باب ما جآء فی قوله عَزَّ وَجَلَّ وکلَّم الله موسی تکلیما ، ۱۴ / ۴۰۷ ، تحت الحدیث : ۷۵۱۷  دار الکتب العلمیة  بیروت

[2]    مقالاتِ کاظمی ، ۱ / ۱۶۰کاظمی پبلی کیشنز مدینۃ الاولیا ملتان / ترمذی ، کتاب الزھد ، باب فی قول النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضحِكْتُمْ قَلِيلًا ، ۴ / ۱۴۰ ، حدیث : ۲۳۱۹ 

[3]    مستدرک حاکم ، کتاب الرقاق ، ۵ / ۴۳۵ ، حدیث : ۷۹۱۴  دار المعرفة  بیروت

[4]    اِحیاءُ العلوم ، کتاب النیة  والاخلاص  والصدق ، ۵ /  ۱۰۶ دار صادر بيروت



Total Pages: 15

Go To