Book Name:Tazkira e Jaanisheen e Ameer e Ahle Sunnat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                                                             تذکرۂ جانشینِ امیرِاہلِ سُنّت(قسط اوّل)

دُرود شریف کی فضیلت

حضرتِسَیِّدُنا  کَعْبُ الاَحْباررَحمَۃُ  اللّٰہِ تَعالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : اللہ  کریم نےحضرتِ سَیِّدُناموسیٰعَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سےارشادفرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ قِیامت کے دن تمہیں  پیاس محسوس نہ ہو؟عرض کی : اے میرے پروردگار! ہاں  میں  یہ پسند کرتا ہوں۔ ارشاد فرمایا :  تو محمد عربیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرکثرت سے دُرُودِ پاک پڑھا کر و۔

(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، ص۲۶۴)

اَلْاماں ! ہنگام محشر، پیاس کی شدت سے سرور                        جب زبانیں آئیں باہر، تم پلانا جام کوثر

یانبی سلامٌ علیک، یا رسول سلامٌ علیک                                       یا حبیب     سلامٌ علیک ، صلوٰۃُ اللہ علیک

(وسائل بخشش(مرمم)، ص۶۱۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                         صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

نئی زندگی کیسے ملی؟

            مدنی چینلکے ڈائریکٹر جواد عطاری مدنی چینل کے سلسلے ”مدنی انقلاب“ کی ریکارڈنگ کے لئے ایک مرتبہ صوبہ پنجاب (پاکستان)کے مشہورشہر”راولپنڈی“ پہنچے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک ایسے اسلامی بھائی سے ہوئی جو معدے کے کینسر میں مبتلا تھے۔ علاج کے لئے کئی بار آپریشن بھی کروا چکے تھے مگر مرض تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔آخری بار جب انہیں  آپریشن کا کہا گیا تو مرض اس قدر شدت اختیار کر چکا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بچنے کا امکان  نہ ہونے کے برابر تھاکیونکہ کینسر معدے میں 95 فیصد تک اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کیا، دورانِ آپریشن  زخم کے پھٹ جانے کی وجہ سے معدہ  ہی نکال دیا گیا اور اس کی جگہ مصنوعی معدہ(colostomy bag) لگا دیا۔ ڈاکٹر میری زندگی سے اتنے نااُمید تھے کہ گھر والوں کو تاکید کر دی کہ جہاں تک ہو سکے  ان کی ہر خواہش پوری کی جائےالبتہ بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذاؤں سے اجتناب کیا جائے۔ان اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اب میری زندگی موت کے انتظار میں گزر رہی تھی۔ ایسے میں بس یہ خواہش تھی کہ جب لحد میں جاؤں تو چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی سجی ہو مگر ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ کینسر کی وجہ سے میری داڑھی، پلکوں اور بھنوؤں سمیت سارے جسم کے بال جھڑ چکے تھے۔

       اللہ کریم کا مجھ پر کرم ہوا اور جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت  حضرت مولانا ابواُسید عبید رضا عطاری مدنی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے ملاقات کی صورت بن گئی۔ میں  اس وقت اتنا بے بس اور مفلوج ہو چکاتھا کہ چار اسلامی بھائی مجھے اٹھا کر ان کی خدمت میں لائے۔ جانشینِ امیرِ اہلِ سُنّت  کی خدمت میں میں نے داڑھی سے متعلق اپنی آرزو بیان کی ۔ آپ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرا سر اپنی گود میں لیا اور کچھ دم کرنے لگے، دم کرتے وقت  آپ اپنی داڑھی اور زلفوں کو چھوتے اور ہاتھ میرے چہرے  اور سر پر مَلتے۔ کچھ دیر تک یوں  ہی کرتے رہے۔ رخصت کے وقت مجھے صحت و تندرستی کے ساتھ ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔ ملاقات کے بعد حیرت انگیز طور پر مجھے قلبی سکون نصیب ہوا۔ جب گھر آیا تو میں نے پائے کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گھر والے یہ سن کر پریشان ہوئے کیونکہ مجھے تو  بھاری غذائیں کھانے سے ڈاکٹروں نے  منع کررکھا  تھا مگر قریب المرگ گمان کر کے انہوں نے میری خواہش پوری کر دی۔ میں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور وہ ہضم بھی ہو گیا صبح  اُٹھا تو ہشاش بشاش تھا۔ جانشینِ امیر اہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے دم کی برکت سے میری طبیعت بھی سنبھلنے لگی جبکہ سر اور داڑھی کے بال بھی  اُگنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد جب چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس گیاتو میرے سر اور داڑھی کے بال دیکھ کرڈاکٹر صاحب سمجھے شاید  میں نے نقلی بال  لگوا لئے ہیں  کہنے لگے :  کیا آپ نے وِگ لگوائی ہے؟ میں نے کہا : نہیں! یہ تو میرے اصلی بال ہیں۔ پھر میں نے  ڈاکٹر صاحب کو جانشینِ امیرِ اہلِ سُنّت سے دم کروانے کا واقعہ سُنایا۔ جس پر ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے اور کہا :  کینسر کے بعد اتنی جلدی بالوں کا آ جا نا حیرت انگیز ہے۔

       یہ بیان دیتے وقت ان اسلامی بھائی کے چہرے پر نہ صرف سنّت  کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف تھی  بلکہ سر کے بال بھی موجود تھے۔ دیکھنے میں بھی ہشاش بشاش اور صحت مند  لگ رہے تھے۔خودگاڑی چلاکر اور اپنے قدموں پر چلتے ہوئے اس جگہ پہنچے تھے۔ ان کے حُسنِ ظن کے مطابق انہیں یہ ”نئی زندگی“ جانشینِ امیرِ اہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دم اور ان کی ملاقات کی برکت سے ہی ملی ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کا پاک کلام یا دیگر نیک اور جائز کلمات کو پڑھ کر دم  کرنا اور پھونکنا بہترین روحانی علاج ہے۔ خود نبیِ پاک عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت امامِ حسن اور حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  پرچند کلمات پڑھ کر پھونکا کرتے تھے اور فرماتے کہ تمہارے دادا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام  بھی انہیں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق عَلَیْہِما السَّلَام پر پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۲/۴۲۹، حدیث : ۳۳۷۱)اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کی مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کے تحت دنیا بھر میں روزانہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دکھیاری امت کی غمخواری کےلیے فی سَبِیلِ اللہتعویذات اور اورادِ عطاریہ دیئے جاتے ہیں جن کی برکت سے کثیر اسلامی بھائی مختلف امراض سے شفا یاب ہوتے ہیں۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب         صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مشہور ہے کہ  بیٹا باپ کے نقشِ قدم پر چلتاہے۔ رُوحانی کمالات سے مُتَّصِف، خوفِ خدا  و عشقِ مصطفےٰ کے پیکر، دِل آویز شخصیت، عالِمِ باعمل، جانشین ِامیرِ اہلسنّت، مبلغ دعوتِ اِسلامی، حضرت مولانا حاجی ابواُسَید عبید رضا عطّاری مدنی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بِلاشُبہ اپنے والد گرامی شیخ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔  آپ علم و عرفان، زہدو تقویٰ، اخلاص و للہیت، صدق و وفا، صَبْر و رِضا، حُسنِ اخلاق اور حُسنِ معاشرت جیسی بلند



Total Pages: 9

Go To