Book Name:Tarawih K Fazail o Masail

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

تَراویح کے فَضَائِل ومَسَائِل

دُرُود شریف کی فضیلت :

     مکی مَدَنی سُلطان ، رَحمتِ عالَمیَّان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : زَیِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلَاۃِ عَلَیَّ  فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ عَلَیَّ  نُوْرٌ لَّکُمْ  یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی تم اپنی مجلسوں  کو مجھ پر دُرُودِپاک پڑ ھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُود پڑھنا بروزِ قیامت تمہارے لیے نُور ہو گا ۔ ( [1] )    

صَلُّوْا  عَلَی الْحَبِیْب!         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلٰی مُحَمَّد

رَمَضَان کی شان

رَمَضان تمام مہینوں کا سردار :    

اللہپاک کی رَحمت پر قربان کہ اس نے ہمیں رَمَضانُ المبارک کا مہینا عطا فرمایا ہے ، یہ مہینا بڑی ہی عظمت و شان والا مہینا ہے ۔ اس مہینے کی عظمت و شان کا اَندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قراٰنِ کریم میں اللہ پاک نے مہینوں کی تعداد تو بیان فرمائی ہے ( [2] )  لیکن مہینوں کے نام بیان نہیں فرمائے ، صرف رَمَضانُ المبارک کا مہینا ایسا ہے  جس کا نام قراٰنِ کریم میں لیا گیا اور اس کے فَضائِل اور اَحکام  بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :  

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵) ( پ۲ ، البقرة : ۱۸۵ )

ترجمۂ کنزُ الایمان : رَمَضان کا مہینہ جس میں قراٰن اُترا  لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دِنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دُشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو  اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو ۔

  حدیثِ پاک میں اِس ماہِ مبارک کو تمام مہینوں کا سردار فرمایا گیا ہے ۔  چنانچہ مکی مَدَنی سُلطان ، سرورِ ذِیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : سَيِّدُ الشُّهُوْرِ رَمَضَانُ ، وَسَيِّدُ الْاَ يَّامِ  يَوْمُ الْجُمُعَةِ یعنی تمام مہینوں کا سردار رَمَضان ہے اور تمام دِنوں کا سردار جمعہ کا دِن ہے ۔ ( [3] )  

رَمَضان کی ہر گھڑی رَحمت بھری :

رَمَضانُ المبارک وہ بابرکت مہینا ہے جس کی ہر ہر گھڑی رَحمت بھری ہے اور ہر ہر ساعت عبادت میں گزرتی ہے ۔  جیسا کہ مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ”تفسیرِ نعیمی“ ، جلد 2 صفحہ 208 پر فرماتے ہیں : ”ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وَقت میں عبادت ہوتی ہے مَثَلاً بَقَر عید کی چند ( مخصوص ) تاریخوں میں حج ، مُحرَّم کی دَسویں تاریخ اَفضل ، مگر ماہِ رَمَضان میں ہر دن اور ہر وقت عبادت ہوتی ہے ۔  روزہ عِبادت ، اِفطار عِبادت ، اِفطار کے بعد تَراویح کا اِنتِظار عِبادت ، تَراویح پڑھ کر سحری کے اِنتِظار میں سونا عبادت ، پھر سحری کھانا بھی عبادت اَلغَرَض ہر آن میں خُدا عَزَّوَجَلَّ  کی شان نظر آتی ہے ۔ “

 



[1]   جامع صغیر ، حرف الزاء ، ص۲۸۰ ، حدیث : ۴۵۸۰  دار الکتب العلمیة  بیروت

[2]   پارہ 10 سورۃُ التوبہ کی آیت نمبر 36 میں اِرشاد ہوتا ہے ( اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ)ترجمۂ کنز الایمان : بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ  کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ۔    

[3]   معجم کبیر ، ۹ / ۲۰۵ ، حدیث : ۹۰۰۰ دار احیاء التراث العربی بیروت 



Total Pages: 25

Go To