Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

 

صورتِ ہذا میں  اس نے خلافِ فرمودۂ خدا کیا ، وہ منکرِ حکمِ خدا ہوا یا نہیں ؟([1]) اور منکرِ کلامِ ربانی کے واسطے ([2])  کیا حکمِ شرع شریف ہے ؟اور وہ کہاں  تک گنہگار ہے ؟ بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا (بیان فرماؤ، اجر پاؤ ۔ ت)

الجواب

          پسرِ مذکور، فاسق، فاجر، مرتکبِ کبائر، عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضبِ الٰہی کا استحقاق([3])، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے ، آدمی ماں  باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں  اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں ، جب تک ماں باپ کو راضی نہ کرے گا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عملِ نیک اصلاً قبول نہ ہوگا([4]) ، عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں  ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے ۔  حدیث میں  ہے ، رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  :

((طَاعَۃُ اللہ طَاعَۃُ الوَالِدِ وَمَعْصِیَۃُ اللہ مَعْصِیَۃُ الوَالِدِ)) ۔ رواہ الطبراني عن أبي ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([5])  ۔

اللہ کی اطاعت ہے والد کی اطاعت ، اور اللہ کی معصیت ہے والد کی معصیت(طبرانی نے اسے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔  ت)

          دوسری حدیث میں  ہے رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  :

((رِضَی اللہ فِيْ رِضَی الْوَالِدِ وَسَخَطُ اللہ فِيْ سَخَطِ الْوَالِدِ))، رواہ الترمذي وابن حبان في ’’صحیحہ‘‘ والحاکم عن عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([6])  ۔

اللہ کی رضا والد کی رضا میں  ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ، (ترمذی اور ابن حبان نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں  اور حاکم نے عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔  ت)

          تیسری حدیث میں  ہے رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  :

((ھُمَا جَنَّتُکَ وَنَارُکَ))، رواہ ابن ماجہ عن أبي أمامۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([7])   ۔

ماں  باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں  (ابن ما جہ نے ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اسے رویت کیا ۔ ت)

          چوتھی حدیث میں  رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  : ((اَلْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ  فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِکَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْہُ))  رواہ الترمذي وصحّحہ وابن ماجہ وابن حبان عن أبي الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([8])  ۔

والد جنت کے سب دروازوں  میں  بیچ کا دروازہ ہے اب تُو چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھو دے خواہ نگاہ رکھ(ترمذی نے اسے روایت کیا اور اس کی تصحیح کی، اورابن ما جہ و ابن حبان نے ابودرداء سے اسے روایت کیا ۔ ت)

 



[1]     اس صورت میں اُس نے اللّٰہُ ربُّ العزّت کے پاک ارشاد کے خلاف کیا چنانچہ اب وہ اللّٰہُ ربُّ العزّت کے حکم کا انکار کرنے والا ہوا یا نہیں؟ ۔

[2]     اللّٰہُ ربُّ العزّت کے کلام کا انکار کرنے والے کے لئے ۔

[3]     جس فرزند کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ بد چلن، بدکار، کبیرہ گناہ کرنے والا، نافرمان ہے اور اللہ تعالٰی کے سخت عذاب اور غضب کا مستحق ۔

[4]     کوئی نیک کام ہر گز قبول نہیں ہوگا ۔

[5]     ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ أحمد،  الحدیث :  ۲۲۵۵، ج۱، ص۶۱۴.

[6]    ’’صحیح ابن حبان‘‘، کتاب البر والإحسان، باب حق الوالدین، الحدیث : ۴۳۰، ج۱، ص۳۲۸، ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدین، الحدیث :  ۱۹۰۷، ج۳، ص۳۶۰ ۔

[7]     ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الأدب، باب برّ الوالدین، الحدیث : ۳۶۶۲، ج۴، ص۱۸۶ ۔

[8]     ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدین، الحدیث :  ۱۹۰۶، ج۳، ص۳۵۹ ۔



Total Pages: 50

Go To