Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

سوال نمبر ۸

       آپ   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے پوچھا گیا کہ استاذ کے کیا حقوق ہیں ؟

             سیدی اعلی حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن    نے ’’ مسند امام احمد بن حنبل ‘‘، ’’عالمگیری ‘‘، ’’ غرائب‘‘ ، ’’ تا تا رخانیہ‘‘کی روشنی میں اس سوال کے جواب میں  ارشاد فرمایا کہ استاذکے حقوق کووالدین اور تمام مسلمانوں  کے حقوق سے بھی مقدَّم رکھے چنانچہ استاذ کا ہر طرح سے ادب و احترام کرے ، اس سے آگے نہ چلے ، اس کے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھے ، اس سے بات چیت میں  پہل نہ کرے ،  چاہے استاذ نے ایک ہی حرف پڑھایا ہو پھر بھی ادب کرے ، ہاں  البتہ !جب کسی ایسے کام کے کرنے کا حکم دے جو شریعت کے خلاف ہو توہرگز ہرگز نہ کرے کہ حدیث پاک میں  ہے  : ’’اللہ تعالی کی نافرمانی میں  کسی کی اطاعت نہیں  ‘‘ ۔  

سوال نمبر ۹

     آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے آخری سوال یہ کیا گیا کہ ایک عالم صاحب جو سیّد ، شریف النَّسب ، بزرگ ، متقی و پرہیزگار ہیں  مسجد میں  امامت کرتے اور بچوں  کو دینی تعلیم دیتے ہیں  ایک کم مرتبہ شخص نے ان سیّد صاحب سے علم دین حاصل کیا اور پھر بعد میں  کسی اور سے فلسفہ وغیرہ پڑھ کر اپنے انہیں  استاذ پربرتری ظاہر کرنا شروع کردی یہاں  تک کہ پیسوں  کی لالچ میں  آکر اپنے استاذ کو مسجد سے نکلوانے کی بھی کوشش شرو ع کردی تاکہ خود ان کی جگہ پر قابض ہوجائے ، شرعاً ایسا شخص امامت کے لائق ہے یا نہیں ؟

      اس سوال کے جواب میں  اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی عادت کے مطابق قرآن و حدیث اور فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں  دلائل کے انبار لگادیئے ، عالم کا شرعی حق ، اس کی شان و شوکت ، اس کامقام اور مرتبہ خوبصورت انداز میں  بیان فرما یا ۔

      آخر میں  اس بدباطن شخص کے بارے میں  حکم شرعی ارشاد فرمایا کہ :

    وہ بدترین فاسق و فاجر ہے ، استاذ کی بے ادبی کرنے کی وجہ سے سخت سزا کا مستحق ہے ، نہ تو ا س کی امامت جائز اور نہ ہی کسی مسلمان کو ا س کی صحبت میں  بیٹھنا جائز ۔

       چنانچہ اس سید فقیہ عالم دین کو امامت سے ہٹانا اور اس کی جگہ فلسفہ کے دعویدار بیوقوف کو مقرر کرنا ناجائز ہے ۔

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

نحمدہ ونصلّي علی رسولہ الکریم

۱۲شعبان ۱۳۱۱ھ

مسئلہ :   کیا فرماتے ہیں  علماءِ دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں ([1])  :

مسئلۂ اُولی

          پسر([2]) نے اپنے باپ کی نافرمانی اختیار کر کے کل جائدادِ پدر([3])پر قبضہ کرلیا اور باپ کے واسطے اوقاتِ بسری کے کچھ نہ چھوڑا بلکہ درپے تذلیل و توہینِ پدر کے ہے ([4]) اور اللہ جل شا نہٗ نے واسطے اطاعتِ پدر کے کلا م اپنے میں فرمایا ہے ([5])،

 



[1]    سائل نے یہاں اعلی حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدّدِ دین وملت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، رہبرِ شریعت، عاشق ماہِ رسالت، حامی سنت ماحی بدعت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے یکے بعد دیگرے چار سوالات کیے جن کے آپ عَلَيْهِ الرَّحْمٰہ  نے علیحدہ علیحدہ ترتیب وار جوابات ارشاد فرمائے  ۔

[2]    بیٹے ۔

[3]     باپ کی تمام جائیداد ۔

[4]     باپ کے پاس گزر اوقات کے لئے کچھ نہیں چھوڑا بلکہ باپ کو ذلیل ورسوا کرنے میں لگا  ہوا ہے ۔

[5]     اللہ تبارک وتعالٰی نے باپ کی فرمانبرداری کے لئے اپنے کلام مجیدوفرقان حمید میں تاکید  فرمائی ہے ۔



Total Pages: 50

Go To