Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

نمائندہ یا نماز کاامام بنا دیتا ہے جس سے زیادہ مقبولِ الٰہی ان میں  موجود تھا تو وہ خائن ہے ۔

 امام بخاری در’’تاریخ‘‘ وابن عساکر ازابوامامہ باہلی وطبرانی در’’معجم کبیر‘‘ ازمرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہما

امام بخاری نے ’’تاریخ‘‘ میں ، ابن عساکر نے ابو امامہ باہلی سے اور طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ میں  مرثد غنوی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی کہ

راویندکہ سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماید :  (وھذا حدیث أبي أمامۃ) ((إِنْ سَرَّکُمْ أَنْ تُقْبَلَ صَلَاتُکُمْ فَلْیَؤُمَّکُمْ خِیَارُکُمْ)) ([1]) ۔  اگرشما را خوش آید کہ نمازِ شما مقبول شود پس بایدکہ شمارا بہترین شما امامت کند ۔

 سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  (اور یہ حدیث ابو امامہ سے مروی ہے ) کہ : ’’اگر تمہیں  پسند ہے کہ تمہاری نماز مقبو ل ہو تو ایسا شخص امام بنے جو تم میں  سے افضل ہو ۔ ‘‘

دارقطنی وبیہقی ازعبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت دارند، سیدعالمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمفرماید :  ((اِجْعَلُوْا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّھُمْ وَفْدُکُمْ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ)) ([2]) بہترانِ خود را امامکنید کہ ایشاں  سفیر شمایند میانِ شما وپروردگار  شما عزوجل ۔

دارقطنی اور بیہقی حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں  کہ سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  : ’’اپنے میں  سے بہترین لوگوں  کو امام بناؤ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان نمائندے ہیں ۔ ‘‘

وفي الباب عن واثلۃ بن الأسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ أخرجہ الطبراني   في ’’المعجم الکبیر‘‘ ۔

اس بارے میں  طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ میں  واثلہ ابن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے بھی روایت کی ہے ۔

 (الحاصل خلاصۂ حکم آنست) کہ ایں  کس ازبدترین فسّاق وفجّارست وبوجوہ چنددرچند تعزیر شدید راسزوار وامامتش ممنوع وناروا بلکہ مسلمانان را از صحبتش احتراز اولٰی وزنہار رخصت نباشدکہ آں  سیّد فقیہ را از امامت براندازند و ایں  متفلسف سفیہ را بجایش مقرر وموقر سازند ہرکدمتصدی ایں  کارشود خود واجب التعزیر وگنہگار شود تقدیم کو  وامامت ازکجا بلکہ ایں  کس رامی شاید کہ ازشناعات مذکورہ خود باز آید داغِ کفران از جبینش شوید وفلسفہ ملعونہ را وداع گوید وبرفضل علم دیں  وبزرگی حقش ایمان آرد وتکلف تفلسف وتشدق تصلف راقبیح پندارد وشنیع انگارد واز سرنو

 خلاصۂ جواب یہ ہے کہ :  یہ شخص بد ترین فاسق و فاجر ہے اور بے شمار وجوہ کی بناء پر سخت سزا کا مستحق ہے اس کی امامت ناجائز اور ممنوع ہے اور مسلمانوں  کو اس کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہئے اور ہر گز اجازت نہیں  کہ اس سید فقیہ(عالم دین) کو امامت سے برطرف کیا جائے اور فلسفے کے اس دعویدار بیوقوف کو اس کی جگہ مقرر کیا جائے جو شخص اس کام کے درپے ہوگا وہ خود سزا کا مستحق اور گنہگار ہوگا، تقدیمِ امامت تو دور کی بات بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ مذکورہ بالا خرابیوں  سے باز آئے اور ناشکری کا داغ اپنے ماتھے سے دھوئے اور مردود فلسفے کو رخصت کرے اور علم دین کی فضیلت اور ا س کے حق کی بزرگی پر ایمان لائے فلسفہ پرستی، تکلف اور بیہودگی کو بُرا سمجھے اور ناپسند رکھے اور کلمۂ طیبہ اسلام خواند  وبعدازاں  تجدیدنکاح بتقدیم رساندفإنّ ذلک ھو الأحوط کما یظھر بمراجعۃ ’’الدرّالمختار‘‘ وغیرہ من أسفارالکملۃ،  واللہ سبحانہ وتعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتم وأحکم ۔

از سرِ نو کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام کی تجدید اس کے بعد تجدیدِنکاح کرے اسی میں  احتیاط ہے ، جیسا کہ ’’در مختار‘‘ وغیرہ بڑی معتبر کتابوں  کو دیکھنے سے ظاہر ہو جائے گا ۔  واللہ سبحانہُ وتعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم ۔

 

 



[1]     ’’کنز العمال‘‘، کتاب الصلاۃ، قسم الأقوال، الحدیث :  ۲۰۴۲۹، الجزء۷، ص۲۴۳ ۔

[2]     ’’سنن الدارقطني‘‘، کتاب الجنائز، باب تخفیف القراء ۃ لحاجۃ، الحدیث :  ۱۸۶۳، ج۲، ص۱۰۸،  بتغیر قلیل ۔



Total Pages: 50

Go To