Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

  ۶ ۔  فہرست میں اہم نکات کو جدا جدا لکھ کر پورے رسالہ کا اجمالی خاکہ پیش کر دیا گیا ہے ۔

 ۷ ۔  آخر میں  ماخذ و مراجع کی فہرست، مصنفین ومؤلفین کے ناموں ، ان کی سنِ وفات      اور مطابع کے ساتھ ذکر کر دی گئی ہے ۔

 اس رسالے کے پیش کرنے میں  آپ کو جوخوبیاں  دکھائی دیں  وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا، اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نظر کرم ، علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابو بلال محمدالیاس عطار قادری کے فیض سے ہیں  اور جو خامیاں نظر آئیں  ان میں  یقینا ہماری کوتاہی ہے ۔  

قارئین خصوصاً علماء کرام دامت فیوضہم سے گزارش ہے کہ اس ’’رسالہ‘‘ کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے بارے میں  ہمیں  اپنی قیمتی آراء سے تحریری طور پر مطلع فرمائیں ۔

          دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس ’’رسالہ‘‘ کو عوام و خواص کے لیے نفع بخش بنائے !

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  وبارک وَسَلَّم!

شعبۂ کتب اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ(المدینۃ العلمیۃ)

اصل کتاب شروع کرنے سے پہلے اسے پڑھئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

          سیّدی اعلی حضرت ، امام اہلسنّت، مجدّدِ دین و ملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن کی بارگاہ میں  والدین، اساتذۂ کرام اور میاں  بیوی کے حقوق سے متعلق چند سوالات پیش کئے گئے ، آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ان سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں  بہترین انداز میں  دلائل کے ساتھ ارشاد فرمائے ، قارئین کی سہولت کے لئے اصل کتاب سے پہلے ان سوالات کے جوابات کا خلاصہ ترتیب وارپیش کیا جارہا ہے تاکہ آئندہ صفحات پر آنے والے رسالے ’’الحقوق لطرح العقوق‘‘  کو سمجھنے میں  آسانی رہے  ۔

’’امامِ اہل ِ سنت مجددِ دین وملت ، پروانۂ شمع ِ رسالت مولاناشاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی طرف سے دئیے گئے سوالات کے جوابات کا آسان خلاصہ‘‘

سوال نمبر ۱

          سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سوال کیا گیا کہ ایک لڑکے نے اپنے والد کی توہین کی اور اسے ذلیل کیا اور اس کی تمام جائداد پر قبضہ کرکے باپ کے لیے کچھ نہ چھوڑا، ایسے شخص کا کیا حکم ہے ؟

          آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے جواباًارشاد فرمایا کہ ایسا شخص بہت سخت گنہگار اور اللہ تعالٰی کے سخت عذاب کا حقدارہے کیونکہ باپ کی نافرمانی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضگی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی ہے ، اگر والدین راضی ہیں  تواسے جنت ملے گی اگر والدین ناراض ہوں  تو دوزخ میں  جائے گا ۔  لہٰذااُسے چاہئے کہ جلد از جلدوالدین کو راضی کرے ورنہ اس کی کوئی فرض و نفل عبادت قبول نہ ہوگی اور مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے پھر آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی اس تمام گفتگو پر احادیث کریمہ پیش کیں  جو آپ اس رسالہ میں  آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیں  گے ۔

سوال نمبر ۲

           سیدی ا علیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے یہ پوچھاگیا کہ بیٹے پر سوتیلی ماں  کا کیا حق ہے اورجو سوتیلی ماں  پر تہمت لگائے اس کا کیا حکم ہے ؟

          آپ  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان پر تہمت لگانا قطعاًحرام ہے اور زنا کی تہمت لگانا وہ بھی سوتیلی ماں  پر، بہت بڑا گناہ ہے ، شرعاً ایسا شخص فاسق اور 80کوڑوں  کا مستحق ہے اورایسے شخص کی گواہی بھی مقبول نہیں  ہے  ۔

 



Total Pages: 50

Go To