Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

قال :  لا تبطل توبتہ بل یغفر اللہ تعالٰی لھما جمیعاً المغتاب بالتوبۃ والمغتاب عنہ

نے کہا جائز ہے اور بعض نے کہا ناجائز ہے ، ہمارے نزدیک اس کی دو صورتیں  ہیں : (۱) وہ بات اُس شخص تک پہنچ گئی جس کی غیبت کی گئی تھی تو اس کی توبہ یہ ہے کہ اس شخص سے معافی مانگے (۲)اور اگر غیبت اس شخص تک نہیں  پہنچی تو اللہ تعالٰی سے مغفرت کی دعا مانگے اور اپنے دل میں  یہ عہد کرے کہ پھر غیبت نہیں  کروں  گا ۔  ’’روضۃ العلمائ‘‘ میں  ہے کہ میں  نے ابو محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے پوچھا کہ اگر غیبت اس شخص تک نہیں  پہنچی جس کی غیبت کی گئی تھی تو غیبت کرنے والے کے لئے توبہ فائدہ مند ہوگی؟ انھوں  نے فرمایا :  ہاں ! کیونکہ اس نے بندے کے حق کے متعلق ہونے سے پہلے توبہ کرلی ہے ، غیبت بندے کا حق اس وقت ہوگی جب اس تک پہنچ جائیگی، میں  نے کہا کہ اگر توبہ کے بعد اس شخص تک غیبت پہنچ جائے ، فرمایا کہ اس کی توبہ باطل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالٰی دونوں  کوبما یلحقہ  من المشقّۃ؛ لأنّہ تعالٰی کریم ولایحمل من کرمہ ردّ توبتہ بعد قبولھا بل یعفو عنھما جمیعاً([1])انتھی... إلخ ۔

 بخش دے گا غیبت کرنے والے کو توبہ کی و جہ سے اور جس کی غیبت کی گئی اسے اس تکلیف کی و جہ سے جو اسے غیبت سُن کر ہوئی ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالٰی کریم ہے اس کے متعلق یہ نہیں  کہا جا سکتا کہ وہ کسی کی توبہ قبول  فرماکر رد فرمائے بلکہ دونوں  کو بخش دے گا انتہی ۔ ۔ ۔  إلخ ۔ (ت)

             فقیر کہتا ہے غفر اللہ تعالٰی لہٗ ایسے حقوقِ عظیمہ شدیدہ([2]) جن کی تفصیل بیان ہو تو صاحب ِحق سے معافی کی امید نہ ہو ظاہراً مجرد اِجمالی الفاظ سے معاف نہ ہو سکیں  کہ وہ دلالۃً مخصوص ہیں ([3]) مگر ا گر ان الفاظ سے معافی چاہی کہ

’’دنیا بھر میں  سخت سے سخت جو حق متصوَّر ہو وہ سب میرے لئے فرض کرکے معاف کردے ‘‘

اور اس نے قبول کیا تو اب ظاہراً تمام حقوق بلا تفصیل بھی معاف ہو جائیں  :

للنصّ علی التعمیم مع التنصیص بالتخصیص علی کلّ حقّ شدید عظیم والصریح یفوق الدلالۃ

کیونکہ اس نے کہہ دیا ہے کہ مجھے ہر حق معاف کردے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ہر بڑے سے بڑا حق میرے بارے  کما نصّوا علیہ([4])   في غیر ما مسألۃ، واللہ سبحانہ وتعالی أعلم ۔

 میں  فرض کرکے معاف کردے اور تصریح دلالت پر فوقیت رکھتی ہے جیسے کہ علماء نے بہت سے مسائل میں  تصریح کی ہے ۔  واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔ (ت)

          مسئلہ :  کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ بعد حقوقِ والدین کے استاد کے حقوق کس قدر ہیں  جس استاد نے کچھ علوم دینی اور دنیوی کی تعلیم حاصل کی ہو اور ان علوم کے فیضان سے منافعِ دنیاوی اس کو و نیز دینی حاصل ہوئے ہوں  ایسے استاد کے کچھ حقوق ازروئے آیہ شریفہ وحدیث صحیح سے ([5]) بیان فرمائیے گا،  بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا ۔

الجواب

          ’’عالمگیری‘‘ میں و نیز امام حافظ الدین کردری سے ہے :

قال الزندویستي :  حقّ العالم علی الجاھل وحقّ الأستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو أن لا یفتتح بالکلام قبلہ  ولا یجلس مکانہ وإن



[1]     ’’منح الروض الأزہر شرح الفقہ الأکبر‘‘، التوبۃ وشرائطہا، ص۱۵۹ ۔

[2]     ایسے سخت بڑے حقوق مثلاً کسی پر تہمت بد لگانا وغیرہ  ۔

[3]     یعنی مطلع ہونے کے بعد صاحب حق سے اس کی معافی کی امید بعید ہے  ۔

[4]     ’’الدرّ‘‘، کتاب النکاح، باب المہر، ج۴، ص۲۸۴ ۔

[5]     آیت شریفہ اورصحیح حدیث کے مطابق ۔



Total Pages: 50

Go To