Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

اللہ تعالٰی نے ان مجرموں کے دلوں کا اثر ان پاس بیٹھنے والوں پر بھی ڈالا کہ سب ایک سے ہوگئے پھر ان سب پر داؤد و عیسیٰ بن مریم علیہم الصلاۃ والسلام کی زبان سے لعنت فرمائی یہ بدلہ تھا ان کے گناہوں اور حد سے بڑھنے کا ۔

            وہ سخت سے سخت تعزیر( سزا) کے قابل ہے جس کی مقدار حاکمِ شرع کی رائے پر سپرد ہے اور اگر سرقہ، شہادتِ شرعیہ ([1]) سے ثابت ہو جائے تو حاکمِ شرع([2])اس کا ہاتھ کلائی سے کاٹ دے گا اس کی تائید کرنے والے سب سخت گنہگار ہیں،  قال اللّٰہ تعالٰی :

{ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ  }(پ : ۶، المائدۃ :  ۲)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔

            ابھی حدیث سن چکے کہ پاس بیٹھنے ، ساتھ کھانے والوں پر لعنت اُتری، پھر تائید کرنے کرانے والوں کا کیا حال ہوگا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ پناہ دے اور مسلمانوں کو توفیقِ توبہ بخشے ، آمین!

            رہا صدقہ دینا، دلانا، اگر اسے محتاج، ضرورت مند، ننگا، بھوکا دیکھیں تو حرج نہیں جبکہ گناہوں میں اس کی تائید و اعانت ([3])  کی نیت نہ ہو ۔

            رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

((فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ)) رواہ الشیخان عن أبي ھریرۃ وفي الباب عن عبد اللّٰہ بن عمرو وعن سراقہ بن مالک رضي اللّٰہ تعالی عنھم ([4])  ۔

ہر گرم جگر والی میں ثواب ہے ۔ (امام بخاری اور مسلم نے اسے ابو ہریرہ سے روایت کیا، اور اس باب میں عبد اللہ بن عمرو اور سراقہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے بھی روایت ہے ۔ ت)

            صحیح حدیث میں ہے کہ کُتّے کو بھی پانی پلانا ثواب ہے حتی غفر اللّٰہ تعالی بہ البغيکما في ’’الصحاح‘‘([5]) (حتی کہ اللہ تعالٰی نے اس سبب سے فاحشہ عورت کی بھی مغفرت فرمادی جیسا کہ ’’صحاح‘‘ میں ہے ۔ ت)  واللّٰہ تعالی أعلم ۔

مسئلہ  :         ۷  ربیع ا لآخر شریف۱۳۲۱ھ

            کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو جب مرض الموت میں اپنے مرگ([6]) کا یقین ہوا تو اپنے شوہر زید کو بموا جہۂ چند موجودین، مخاطب کرکے عفوِ حقوق وتقصیرات کی مستدعی ہوئی ([7])اور اپنے جملہ حقوق ([8])زید کو معاف کئے ، دَینِ مہر([9])  کو بہ تفصیل علیحدہ معاف کیا ، زید نے بھی اپنے حقوق وقصورِ خدمات کی معافی دی، اب اس صورت میں کسی قسم کا مؤاخذہ ایک کا دوسرے پر عند اللہ([10]) باقی تونہ رہا یا لفظِ مجمل ’’جملہ حقوق وقصور‘‘ کافی نہ تھا ([11]) علیحدہ علیحدہ ہرخطا وحق کی تشریح ضرور تھی اور زید دَینِ مہر سے بری ہو گیایا یہ معافی زمانۂ مرض الموت کی حکمِ وصیت میں متصوّر ہو کر دو ثلث کا مؤاخذہ دار رہے گا ([12])اگرچہ ورثاء دنیا میں شرم یا رسم کے باعث متقاضی نہ ہوں([13]) بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا، (بیان فرمائیے اجر پائیے ، ت) ۔

 



[1]     وہ چوری جو چور کے حق میں  دو مردوں کے گواہی دینے سے ثابت ہوجائے شہادتِ شرعیہ کہلاتی ہے ۔

[2]     شریعت ِمطہرہ کی طرف سے مقرر کردہ حاکم ۔

[3]     حمایت اور مدد ۔

[4]     ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الأدب، الحدیث :  ۶۰۰۹، ج۴، ص۱۰۳، و’’المسند‘‘، الحدیث :  ۱۷۵۹۵، ج۶، ص۱۸۳ ۔

[5]     ’’صحیح البخاري‘‘، الحدیث : ۳۳۲۱، ج۲، ص۴۰۹، ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب السلام، الحدیث :  ۲۲۴۵، ص۱۲۳۳ ۔

[6]     اپنی موت ۔

[7]     ان لوگوں  کے سامنے جو اس وقت موجود تھے اپنے شوہر زید کو مخاطب کرکے اپنی غلطیوں  اور کوتاہیوں  کی معافی چاہی ۔

[8]     تمام حقوق ۔

[9]     مہر کا قرض یعنی وہ مال جو شوہر پر مہر کی مَد میں لازم تھا اور اس نے ابھی تک ادا نہیں  کیا  ۔

[10]     اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک ۔

[11]     یا مختصر الفاظ ’’جملہ حقوق وقصور‘‘ کہہ دینامعافی کے لئے کافی نہ تھا ۔

[12]     زمانۂ مرض الموت میں  ہونے کی و  جہ سے وصیت کے احکام لاگو ہونے پر، شوہر مہر کا دو تہائی مال ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرے گا ۔