Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

سیّدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین آمین!  والحمد للّٰہ ربّ العالمین، واللہ تعالی أعلم ۔

مسئلہ :  از بنگالہ ضلع کمرلا موضع ہر منڈل مرسلہ مولوی عبد الجبار صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

          کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں  کہ ایک شخص کچھ لیاقت رکھنے والا([1]) اپنے والدین صالحین کے ساتھ جنگ و جدل و زد وضرب([2])وظلم و ستم کرتا ہے اور خود اپنے والدین کو طعنے تشنیع و دشنام کرتا ہے ([3]) اور لوگوں  سے کرواتا ہے ، اور وہ شخص غاصب و کاذب و سارق کے ساتھ موصوف ہے ([4])،

 ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا مکروہ ؟ اگر مکروہ ہے تو کون قسم کی مکروہ ہے ؟ اور ایسے شخص کے پیچھے جو کوئی بسببِ ناواقفی کے ([5])نماز پڑھے تو نماز اس کو دوبارہ پڑھنا ہوگی یا نہیں؟ اور ایسے عاق الوالدین([6])  کو دعوت کرنا، کروانا صدقہ وغیرہ دینا، دلوانا درست ہے یا نہیں؟ اور اس کے مکان میں دعوت کھانا کیسی ہے اور وہ شخص ازروئے شرعِ شریف کے کس تعزیر([7])کے لائق ہے اور اس کی تائید کرنے والے پر ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے ؟ با دلائلِ قرآن و حدیث و اقوالِ ائمہ ارشاد فرمایا جائے ۔

الجواب

ایسا شخص افسق الفاسقین واخبث مہین ومستحق غضب ِشدید رب العالمین وعذابِ عظیم و نارِجحیم ہے ([8]) ۔

حدیث۱ :  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :

((أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ، أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ، أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟))

میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیا ہے ، کیا نہ بتادوں کہ سب کبائر سے بدتر کیا ہے ، کیا نہ بتادوں کہ سب کبیروں سے شدید تر کیا ہے ؟

صحابہ نے عرض کی :  ارشاد ہو! فرمایا :

((اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ))، الحدیث، رواہ الشیخان والترمذي عن أبي بکر ۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ([9]) ۔

اللہ تعالٰی کا شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کو ستانا، الحدیث ۔ (اسے امام بخاری ومسلم اور ترمذی نے ابوبکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔ ت)

حدیث۲ :  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ((ثَلاَثَۃٌ لاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ :  اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ وَالدَّیُّوْثُ وَالرَّجُلَۃُ مِنَ النِّسَاءِ))، رواہ النسائي والبزار بسندین جیدین والحاکم عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([10]) ۔

تین شخص جنت میں نہ جائیں گے : ماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردوں کی وضع بنانے والی عورت (نسائی اور بزار نے جید سندوں کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ۔ ت)

 



[1]     سمجھدار ۔

[2]     جھگڑا فساد، مار پیٹ ۔

[3] برا بھلا کہتا اور گالی گلوچ کرتا ہے ۔

[4]     اور وہ شخص حق مارنے ، جھوٹ بولنے اور چوری کرنے جیسے مذموم اوصاف سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔

[5]     ان مذموم اوصاف سے لا علمی کی و جہ سے ۔

[6]     والدین کے نافرمان

[7]     شریعت ِمطہرہ کے مطابق کس سزا

[8]     ایسا شخص فاسقوں  کا سردار، سب سے بڑا خبیث ذلیل اور اللہ ربّ العالمین کے سخت غضب کا مستحق اور بہت بڑے عذاب ودوزخ کی آگ کا حقدار ہے ۔

[9]    ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الشہادات، باب ما قیل في شہادۃ الزور، الحدیث :  ۲۶۵۴، ج۲، ص۱۹۴،  مختصراً ۔

[10]     ’’المستدرک‘‘، کتاب الإیمان، باب ثلاثۃ لا یدخلون الجنّۃ، الحدیث :  ۲۵۲، ج۱، ص۲۵۲، بألفاظ مختلفۃ ۔



Total Pages: 50

Go To