Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

                    رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

پیش لفظ

       الحمد للہ عزوجل! ہماری  یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے بزرگوں  کی کتابیں  احسن انداز میں  پیش کریں ، چنانچہ اس سلسلے میں  امامِ اہلسنّت، مجددِ دین وملت، اعلی حضرت، شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے کئی کتب و رسائل مکتبۃ المدینہ سے طبع ہوکر عوام وخواص سے خراجِ تحسین پاچکے ہیں  ، اس سلسلے کی ایک اورکَڑ ی آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکا ایک اور رسالہ  ’’الحقوق لطرح العقوق‘‘، پیشِ خدمت ہے ، جس کا اردو نام شیخِ طریقت، امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ نے ’’والدین ، زوجین اور اساتذہ کے حقوق‘‘ رکھا ہے ۔

          اس رسالہ میں  اعلی حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی عادتِ کریمہ کے مطابق قرآن وحدیث کی روشنی میں  سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے ، والدین کے حقوق تفصیل سے بیا ن فرمائے کہ کس معاملے میں  باپ کوترجیح حاصل ہے اور کس معاملے میں ماں کو، اور جب والدین کے درمیان جھگڑا ہو جائے تو اب یہ کیا کرے ؟ ۔

          اسی طرح ان کی وفات کے بعد اولاد پر کیاحقوق لازم ہیں ان سب کو بڑے ہی جامع انداز میں  بیا ن فرمایا اور ساتھ ہی والدین کو تکلیف دینے والی نافرمان اولاد کے لیے احادیث میں  موجود وعیدیں بھی ایک جگہ بیان فرمادیں  کہ نافرمان اولاد ان احادیث کی روشنی میں  درسِ عبرت حاصل کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار سکے چنانچہ یہ رسالہ اولاد کو والدین کے حقوق سکھانے اور ان کے حقوق کی اہمیت اجاگر کرنے میں بہترین تصنیف ہے ۔

           اسی طرح آپ علیہ الرحمۃ نے زوجین کے حقوق سے متعلق شرعی مسائل کو بھی بالتفصیل بیان فرمایا ہے ۔

           مزید یہ کہ اس رسالہ میں  ایک نالائق شاگرد کے حق میں  آپ علیہ الرحمۃسے فارسی زبان میں  ایک سوال کیا گیا جو فلسفہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو دینی استاذپر فوقیت دیتا تھا چنانچہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ قرآن و حدیث کی روشنی میں  تفصیل کے ساتھ استاذ کے حقوق بیان کر تے ہوئے اُس ناعاقبت اندیش شاگرد کا بھرپور ردّ فرماتے ہیں  جس سے ضمناً فلسفہ سیکھنے اور سکھانے کی شرعی حیثیت بھی معلوم ہو جاتی ہے اسی طرح اس رسالہ میں  اور بھی کئی حقوق بیان کیے گئے ہیں جسے پڑھ کر ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔

          چنانچہ اس ’’رسالہ‘‘ پرتبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِ اسلامی کی مجلس ’’ المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے مَدَنی علماء کرام سلمہم اللہ المِنْعام نے بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے جس کا اندازہ ذیل میں  دی گئی کام کی تفصیل سے لگایا جاسکتا ہے :

  ۱ ۔  آیات و احادیث اور دیگر عبارات کے حوالہ جات کی مقدور بھر تخریج کی گئی ہے ۔

 ۲ ۔  مشکل الفاظ کے معانی ، اُن کی تسہیل اور عربی ، فارسی عبارات کے ترجمے کا اہتمام

   کیا گیا ہے تاکہ عام قاری کو بھی یہ ’’رسالہ‘‘ پڑھنے میں  دشواری محسوس نہ ہو ۔

 ۳ ۔  جہاں  قرآنی آیات کا ترجمہ نہیں  تھاوہاں ’’کنز الایمان‘‘سے ترجمہ ڈال دیاگیاہے ، اور اسی طرح جہاں  بعض عبارات کا ترجمہ نہیں  تھا وہاں  ترجمہ کرکے آخر میں  بطورامتیاز’’ت‘‘لکھ دیاگیاہے تاکہ مصنف عَلَيْهِ الرَّحْمٰہ  کے ترجمہ سے امتیاز رہے ۔

 ۴ ۔ آیاتِ قرآنیہ کو منقش بریکٹ { }، متنِ احادیث کو ڈبل بریکٹ ((   ))،

  کتابوں  کے نام اور دیگر اہم عبارات کو Inverted commas ’’  ‘‘ سے

    واضح کیا گیاہے ۔

 ۵ ۔  نئی گفتگو نئی سطرمیں  درج کی گئی ہے تاکہ پڑھنے والوں  کو با آسانی مسائل سمجھ آسکیں  ۔   

 



Total Pages: 50

Go To