Book Name:Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq

تفضیلِ مادر نہیں ([1]) تو باپ کو پچیس دے ماں  کو پچھتر، یا ماں  باپ دونوں  نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں  کو پلائے پھر باپ کو، یا دونوں  سفر سے آئے ہیں  پہلے ماں  کے پاؤں  دبائے پھر باپ کے ، وعلی ھذا القیاس([2])، نہ یہ کہ اگر والدین میں  باہم تنازع([3])ہو تو ماں  کا ساتھ دے کر معاذ اللہ باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے ([4])یا اُسے جواب دے یا بے ادبانہ آنکھ ملا کر بات کرے ، یہ سب باتیں  حرام اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی معصیت([5])ہیں ، اور اللہ تعالٰی کی معصیت میں  نہ ماں  کی اطاعت نہ باپ کی، تو اسے ماں  باپ میں  کسی کا ایسا ساتھ دینا ہر گز جائز نہیں  ، وہ دونوں  اس کی جنّت ونار ہیں  ، جسے ایذا دے گا دوزخ کا مستحق ہوگا والعیاذ باللہ تعالٰی([6])، معصیت ِخالق میں  کسی کی اطاعت نہیں ، اگر مثلاً ماں  چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کا آزار([7]) پہنچائے اور یہ نہیں  مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے ، ہونے دے اور ہر گز نہ مانے ، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں  کے معاملے میں  ۔ انکی ایسی ناراضیاں  کچھ قابلِ لحاظ نہ ہوں  گی کہ یہ ان کی نِری زیادتی([8]) ہے کہ اس سے اللہ تعالٰی کی نافرمانی چاہتے ہیں  بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں  تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں  ماں  کو ترجیح ہے جس کی مثالیں  ہم لکھ آئے ، اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں  کا بھی حاکم وآقا ہے ۔ ’’عالمگیری‘‘ میں  ہے :  إذا تعذّر علیہ جمع مراعاۃ حقّ الوالدین بأن یتأذّی أحدھما بمراعاۃ الآخر یرجّح حقّ الأب فیما یرجع إلی التعظیم والاحترام وحقّ الأمّ فیما یرجع إلی الخدمۃ والإنعام، وعن علاء الأئمّۃ الحمامي قال مشایخنا رحمھم اللہ تعالی :  الأب یقدم علی الأمّ في الاحترام والأمّ في الخدمۃ حتی لو دخلا علیہ في البیت یقوم للأب ولو سألا منہ مآء ولم یأخذ من یدہ أحدھما فیبدأ بالأمّ کذا في ’’القنیۃ‘‘، واللہ سبحانہ وتعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أحکم([9])  ۔

جب آدمی کیلئے والدین میں سے ہر ایک کے حق کی رعایت مشکل ہو جائے مثلاًایک کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تعظیم واحترام میں  والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں ، دینے میں  والدہ کے حق کی، علامہ حمامی نے فرمایا ہمارے امام فرماتے ہیں  کہ : احترام میں  باپ مقدم ہے اور خدمت میں  ماں ، حتّٰی کہ اگر گھر میں  دونوں  اس کے پاس آئے ہیں  تو باپ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو اور اگر دونوں  نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں  پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرے ، اسی طرح ’’قنیہ‘‘ میں  ہے ، واللہ سبحانہ وتعالٰی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أحکم ۔

مسئلہ رابعہ

            مابین زن وشوہر([10])حق زیادہ کس کا ہے اور کہاں  تک؟

الجواب

            زن وشوہر میں  ہر ایک کے دوسرے پر حقوقِ کثیرہ([11])واجب ہیں  ان میں  جو بجا نہ لائے گا اپنے گناہ میں  گرفتار ہوگا ، ایک اگر ادائے حق نہ کرے تو دوسرا اسے دستاویز بنا کراس کے حق ساقط نہیں  کر سکتا مگر وہ حقوق کہ دوسرے کے کسی حق پر مبنی ہوں  اگر یہ اس کا ایسا حق ترک کرے وہ دوسرا اس کے یہ حقوق کہ اس پر مبنی تھے ترک کرسکتا ہے جیسے عورت کانان و نفقہ  کہ شوہر کے یہاں  پابند رہنے کا بدلہ ہے ، اگر ناحق اس کے یہاں  سے چلی جائے گی جب تک



[1]     ماں کو فوقیت دینے میں ممانعت کی کوئی خاص و   جہ نہیں

[2]     اوراسی پر قیاس کرلو ۔

[3]     باہم جھگڑا ۔

[4]     معاذ اللہ(اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ کہ) باپ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش یا اس پر کسی طرح سختی کرے ۔

[5]     نافرمانی ۔

[6]     خدا کی پناہ ۔

[7]     دکھ یا تکلیف ۔

[8]     سراسر زیادتی ۔

[9]     ’’الھندیۃ‘‘، کتاب الکراہیۃ، الباب السادس والعشرون، ج۵، ص۳۶۵، و’’القنیۃ‘‘، کتاب الکراھیۃ، ص۲۴۲ ۔

[10]     میاں اور بیوی کے درمیان  ۔

[11]     بہُت سے حقوق ۔



Total Pages: 50

Go To