Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

الْاَخْیَار کے مُقدّمہ میں فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کے برگزیدہ بندوں کا تَذْکِرہباعِثِ رَحْمَت و باعِثِ قُربِ اِلٰہی ہے۔)[1]

سِوُم : نام بنام اپنے آقا یانِ نِعْمَت (یعنی سلسلے کے مَشائخِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہ)کو اِیصالِ ثواب کہ ان کی بارگاہ سے مُوجِبِ نَظَرِ عِنَایَت(یعنی نَظَرِ کَرَم ہونے کا سَبَب) ہے۔ (یعنی نام بنام اپنے سلسلے کے مشائخ کِرام رَحِمَھُمُ اللہ کو اِیصالِ ثواب کا مَوْقَع ملتا ہے اور یہ ان کی بارگاہ سے نَظَرِ کَرَم ہونے کا سَبَب ہے۔چُنَانْچِہ جب مُرید شجرۂ عالیہ پابندی سے پڑھتا ہے اور سلسلے کے بُزرگوں کی اَرواحِ مُقَدَّسہ کو اِیصالِ ثواب بھی کرتا ہے۔ تو اس سے ان بُزرگوں کی اَرواحِ مُقَدَّسہ خوش ہوتی ہیں اور اِیصالِ ثواب کرنے والے مُرید پر خُصوصی نَظَرِ عِنَایَت کی جاتی ہے۔ جس سے مُرید کو دِینی و دُنْیَوی بے شُمار بَرَکتیں حاصِل ہوتی ہیں۔)

چہارم : جب یہ (یعنی شجرہ عالیہ پڑھنے والا) اَوقاتِ سَلامَت (یعنی راحت)میں ان کا (یعنی اپنے سلسلے کے مشائخ کرام رَحِمَھُمُ اللہ کا)نام لیوارہے گا۔ تو وہ اَوقاتِ مُصِیْبَت (یعنی کسی بھی پریشانی اور مُشکِل کے وَقْت) میں اس کے دستگیر ہوں گے (یعنی اسکی مَدَد فرمائیں گے)۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  تَعَرَّفْ اِلَی اﷲِ فِی الرَّخَاءِ یَعْرِفْكَ فِی الشِّدَّةِ۔[2] تُوخوشحالی میں اللہ تعالیٰ کوپہچان وہ مُصِیْبَت میں تجھ پر نَظَرِ کَرَم فرمائے گا۔ (یعنی جب شجرۂ عالیہ پڑھنے والا خوشحالی میں اپنے سلسلے کے مَشائخِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہ کا نام لیوا رہے گا تو وہ اَوقاتِ مُصِیْبَت (یعنی کسی بھی پریشانی اور مُشکِل وَقْت)میں اس کے دستگیر ہوں گے (یعنی اس کی مَدَد فرمائیں گے)۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ)

مزید یہ کہ شجرہ شریف میں دئیے ہوئے اَوراد و وظائف اور مَخْصُوص ہدایات پڑھنے سے مُرید کو اپنا وہ عہد بھی یاد رہے گا ، جو اس نے مرشِدِ کامل کے ساتھ کیا تھا ، نیز اَوراد و وظائف پڑھنے کی بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  برکتیں حاصِل ہوں گی۔[3]

سرکار کی آمد مرحبا

پنجاب(پاکستان)کے مقیم اِسْلَامی بھائی کا بیان ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ !میں تقریباً 8سال سے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مہکے مہکے مَدَنی مَاحَول سے وَابَسْتہ ہوں اور مجھے عطّاری نِسْبَت بھی حاصِل ہے۔ شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عَطاکردہ رسالے شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ سے شجرۂ عالیہ اور مُنْتَخَب اَوراد و وَظائف بَعْدِ فَجْر پڑھنے کا مَعْمُول ہے۔

ایک روز میں نے شجرہ شریف اور اَوراد و وَظائف پڑھنے کے بعد اِشْرَاق و چاشت کے نَوَافِل ادا کئے اور آرام کے لئے لیٹ گیا۔جَلْد ہی میں نیند کی آغوش میں پہنچ گیا اور خواب میں خود کو ایک کمرے میں پایا۔میں نے دیکھا کہ ایک مُبَلِّغِ دَعْوَتِ اِسْلَامی بھی وہاں مَوجُود ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں :  کیا آپ کو مَعْلُوم ہے کہ آج اس شہر میں سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لانے والے ہیں۔ میں یہ سُن کر خوشی سے جُھوم اُٹھا اور اپنے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا ، دوعالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسْتِقْبَال کے لئے باہَر کی طرف لپکا۔جونہی میں دروازے کے قریب پہنچا تو اسے بند پایا ، پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھا کہ باہَر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ مل سکے مگر اس کمرے سے باہَر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جو بند تھا۔پھر اچانک دروازہ خودبخود کھل گیا۔میں فوراً باہَر نکلا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو تشریف لے جاچکے ہیں۔ زِیَارَت سے مَحْرُومی کے صدمے نے مجھے غمگین کر دیا اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔پھرمیں نے (خواب ہی میں) اپنے آپ کو حضرت بہاؤُ الدِّین زَکَرِیّا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار کے قریب پایا ، اتنے میں سامنے سے آنے والے چند گُھڑ سوار جب میرے قریب سے گزرے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گھوڑے پر میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوار ہیں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ مُبارَک انتہائی نُورانی اور لب ہائے مُبارَکہ پر تَبَسُّم تھا۔بَقِیَّہ گھوڑوں پر صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سوار تھے۔میں خوشی کے عالَم میں آقا کی آمد مرحبا کا اِسْتِقْبَالی نعرہ لگانے لگا۔پھر مَسْجِد میں جا کر میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کا اِعْلَان کیا اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

یاربّ تیرے محبوب کا جلوہ نظر آئے                              اس نُورِ مُجَسَّم کا سراپا نَظَر آئے

اے کاش کبھی ایسا بھی ہو خواب میں میرے                         ہوں جس کی غلامی میں وہ آقا نَظَر آئے

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

4- دُعا

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!دُعا بھی بَعدِ فَجْرمدنی حلقے کا ایک انتہائی اَہَم جزو(Part) ہے ، شجرہ شریف کے تمام ہی اشعار دُعائیہ ہیں ، دُعا مانگنا بَہُت بڑی سَعَادَت و عِبَادَت



[1]    اخبار الاخیار ، سلوک طریق الفلاح عند فقد التربیة بالاصطلاح ، ص ۶

[2]     مستدرك ، كتاب معرفة الصحابة ، تعليم النبی ابن عباس ، ۴ / ۶۹۸ ، حدیث : ۶۳۵۷

[3]     شرح شجرۂ قادریہ رضویہ عطاریہ ، ص۲۶ تا ۲۹ بتصرف قلیل



Total Pages: 15

Go To