Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وَقْت بادشاہ کا خط آیا لیکن ان کے پاس چراغ نہ تھا کہ جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکتے ، لِہٰذا وہ پریشان ہو گئے کہ مَعْلُوم نہیں اس میں کیا لکھا ہے؟ جبکہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو چراغ لے آئے تا کہ وہ اس کی روشنی میں پڑھ سکے کہ خط میں کیا لکھا ہے۔[1]چُنَانْچِہ ،

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!ہمیں تلاوت ِ قرآن کے ساتھ ساتھ مُسْتَـنَد تفاسیر کے ذریعے مَعَانِیِ قرآن بھی سمجھنے کی کوشِش کرنی چاہیے اور بعدِ فَجْر مَدَنی حلقہ اس کا بَہُت ہی آسان ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس میں روزانہ تین آیات کی تلاوت ، ترجمہ و تفسیر سننے سے شرکائے مَدَنِی حَلَقَہ کے دل میں جہاں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت پیدا ہوتی ہے وہیں انہیں قرآن فہمی کی نِعْمَت بھی مُیَسَّر آتی ہے کہ جس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ کریم کے مَـحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا :  صُبْح کے وَقْت کتابُ اللہ کی ایک آیت سیکھنا 100 رَکْعَت نَفْل ادا کرنے سے بہتر ہے اور صُبْح کے وَقْت عِلْم کا کوئی باب سیکھنا خواہ اس پر عَمَل کیا جائے یا نہ کیا جائے ایک ہزار رَکْعَت نَفْل ادا کرنے سے بہتر ہے۔ [2]

2- فیضانِ سنّت کے 4صفحات پڑھنا و سننا

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!فیضانِ سنّت کے ترتیب وار 4 صفحات پڑھنا و سننا بھی بعد فجر مَدَنی حلقے کا ایک اہم جزو ہے ، یاد رکھئے! اس وَقْت (یعنی فَجْر کے بعد)فیضانِ سنّت کے عِلاوہ کسی اور کِتاب کے 4 صفحات پڑھنے کی تنظیمی طور پر اِجازَت نہیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! فیضانِ سنّت بيک وَقْت مَسَائِلِ شرعیہ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ تَصَوُّف و حِکْمَت کے لئے بھی مُفِید ہے۔ درجنوں مَوضُوعات پر پیش کردہ آیاتِ قرآنی ، اَحادِیثِ نَبوی و اَقْوَالِ اَکَابِرِین کے ساتھ ساتھ دِلْچَسْپ حِکَایَات نے اس کِتاب کے حُسْن میں مزید اِضافہ کردیا ہے۔ جب سے یہ کِتاب مَنْظَرِ عام پر آئی ہے ، اس نے بتدریج اِشَاعت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں ، 2006ء سے لے کر تا دمِ تحریر یہ صرف اردو زبان میں 12اِشاعتوں(Editions)میں کم وبیش 268000 (دو۲لاکھ اَڑسٹھ ہزار)کی تعداد میں شائع ہو چکی ہے ، جبکہ اُردو کے عِلاوہ گجراتی ، سندھی ، بنگالی اور انگلش زبانوں میں اس کے تراجم کی اشاعت بھی جاری ہے۔ اس کتاب کے مُتَعَلِّق اپنے خَیالات کا اِظْہَار کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت علامہ و مولانا خواجہ مظفر حسین صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : قرآنِ کریم جو کہ ایک مُکَمَّل ضابِطہ حَیات ہے جس میں صِراطِ مستقیم کی ہِدَایَت کیلئے جا بجا امر و نہی کی شَمْع روشن کر دی گئی ہے اور لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ ۲۱ ، الاحزاب : ۲۱) (ترجمہ کنزلایمان : بے شک تمہیں رسول الله کی پیروی بہترہے۔)فرما کر ایک بہترین نمونۂ عَمَل کی نشاندہی کر کے ان کی پیروی کو جُزْوِ حَیات قرار دیا گیا ہے ، یعنی قرآنِ کریم ایک کِتاب ہے اور حضور سراپا نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قول و فعل گویا اس کِتاب کی عَمَلی تفسیر ہے ، جس پر عَمَل کر کے انسان خاک سے بُلَند ہو کر مَلَـکُوتی (فرشتوں جیسی)صِفَات کا حامِل بن جاتا ہے ، رسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یہ اَقْوَال و اَفْعَال جنہیں سنّت کہتے ہیں ، اَحادِیثِ کریمہ ، اَقْوَالِ مَشائخ اور عُلَمائے کِرام کی کِتابوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ہزاروں ہزار فَضْل و کَرَم کی برسات ہو اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت ، بانی و اَمِیرِ دَعْوَتِ اِسْلَامی عاشِقِ مدینہ حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر کہ انہوں نے ان لعل و جَوَاہَر اور گوہَر پاروں کو چُن چُن کر یکجا فرما دیا اور فیضانِ سنّت کے حسین نام سے مَوسوم کر کے یادِ نبی میں دھڑکنے والے دلوں کی خِدْمَت میں پیش فرمایا ، زبان و بیان کی روانی اور طرزِ تحریر کی شیرینی کے ساتھ جب یہ کِتاب سامنے آئی تو لوگ اسے برستی آنکھوں اور ترستے دِلوں کے ساتھ پڑھنے اور اس پر عَمَل کرنے لگے۔

بندۂ ناچیز خود بھی اس کِتاب سے اتنا مُتَاَثِّر ہوا کہ جب اس کا پہلا ایڈیشن مجھے مِلا تو باوُضُو بھیگی آنکھوں سے رِحْل پر رکھ کر پڑھتا رہا اور بار بار پڑھتا رہا اور اب تو یہ جدید ایڈیشن کچھ اور ہی خوبیوں کے ساتھ بن سَنْور کر سامنے آیا ہے ، حوالہ جات سے مُرَصَّع ، تخریجات سے آراستہ اور مزید اِضافات سے سجا ہوا ہے۔ نیز اس کِتاب کی ایک خاص اور اُچھوتی خوبی یہ ہے کہ اس میں جگہ بہ جگہ تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی کے سنّتوں کی تَرْبِیَت کے مَدَنی قافلوں کی اِیمان اَفروز مَدَنی بہاریں اپنی خوشبوئیں لُٹا رہی ہیں۔میری مَعْلُومَات کے مُطابِق کثیر الاشاعت ہونے کے اِعْتِبَار سے یہ پہلی اُردو کِتاب ہے جو پاکستان میں چھپی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کئی مَمَالِک میں پہنچ گئی۔سننے میں آیا ہے کہ دَعْوَتِ اِسْلَامی میں ایسے ایسے دِیوانے بھی ہیں کہ تقریباً 1550(ساڑھے پندرہ سو) صفحات پر مُشْتَمِل کِتاب فیضانِ سنّت (جِلْد اوّل)ان میں سے کسی نے 12 دن میں تو کسی نے فَقَط 7اَیّام میں مُکَمَّل پڑھ لی ، اس بات سے اس کِتابِ مُستَطاب کی خوبیوں اور تحریر دِلپذیر کی چاشنیوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، میری اپیل ہے کہ لوگ اسے خرید کر اپنے گھر کے ہر طاق پر سجائے رکھیں تاکہ جہاں سے جی چاہے اسے حاصِل کر کے پڑھتے رہیں۔ دوستوں کو بطورِ تحفہ خرید کر پیش کریں ، بہن بیٹی کی شادی کے مَوْقَع پر بطورِ جہیز اس کِتاب کو عِنَایَت کریں ، بِالْخُصُوص اَہْلِ ثَرْوَت اس کِتاب کو خرید کر مَسَاجِد ،



[1]     تفسیر قرطبی ، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واهله ، الجزء الاول ، ۱ / ۳۵

[2]     ابن ماجه ، المقدمة ، باب فضل من تعلم القرآن و علمه ، ص۴۸ ، حدیث : ۲۱۹ بتغیر قلیل



Total Pages: 15

Go To