Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

تھے۔مزید فرماتے ہیں کہ یہ ایک سنّت ہے ، جو چھوڑ دی گئی ہے۔[1] حالانکہ اس وَقْت کی فضیلت کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے :  جو شخص صُبْح کے وَقْت مَسْجِد میں نیکی سیکھنے سکھانے کے لئے جائے تو اسے پورے عمرے کا ثواب ملے گا۔[2]اور ایک رِوایَت میں ہے کہ اس کے لئے ایسے مُجاہِد کا ثواب لکھا جائے گا جو غنیمت حاصِل کر کے لوٹتا ہے۔[3] بلکہ ایک مرتبہ اللہ کریم کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اِرشَاد فرمایا : صُبْح اس حال میں کرو کہ یا تو تم عالِم ہو یا طالِب عِلْم ہو یا ان کی صُحْبَت اِخْتِیار کرنے والے ہو ان کے عِلاوہ چوتھے نہ بننا کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔[4]

”مدنی حلقہ“ کے 8 حروف کی نسبت سے بعدِ فجر تا اِشراق

مسجد میں بیٹھنے کے متعلق آٹھ۸ فرامینِ مصطفٰے

(1 )٭جس نے نَمازِ فَجْر با جَمَاعَت ادا کی پھر طُلُوعِ آفتاب تک بیٹھ کر اللہ پاک کا ذِکْر کیا پھر دو۲ رکعتیں ادا کیں تو اسے ایک کامِل حج و عمرے کا ثواب ملے گا۔[5]

(2 )٭جو نَمازِ فَجْر کے بعد اِشْرَاق کی دو۲ رکعتیں اَدا کرنے تک اپنی جگہ بیٹھا رہے اور خَیْر کے عِلاوہ کوئی بات نہ کہے اس کے گناہ مُعاف کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ سے زِیادَہ ہوں۔[6]

(3 )٭جو نَمازِ فَجْر ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے اور کوئی دُنْیَوی بات نہ کرے اور اللہ پاک کا ذِکْر کرتا رہے پھر چاشت کی چار۴ رکعتیں ادا کرے تو گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو جائے گا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اِس کی ماں نے اِسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہ تھا۔ [7]

(4 )٭جس نے فَجْر کی نَماز ادا کی پھر طُلُوعِ آفتاب تک اللہ پاک کا ذِکْر کرتا رہا پھر دو۲ یا چار۴ رکعتیں ادا کیں اس کے بَدَن کوجہنّم کی آگ نہ چھو سکے گی۔[8]

(5 )٭سیِّد عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک لشکر نجد کی جانِب روانہ فرمایا تو وہ بَہُت سارا مالِ غنیمت لئے جلد لَوٹ آیا تو کسی نے کہا کہ ہم نے اس گروہ سے زِیادَہ جَلْدی لوٹنے اور کَثْرَت سے مالِ غنیمت لانے والا لشکر کبھی نہیں دیکھا ، اس پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی قوم کے مُتَعَلِّق نہ بتاؤ ں جو اس سے زِیادَہ مالِ غنیمت حاصِل کر کے جلد لوٹ آتی ہے ، یہ وہ قوم ہے جو نَمازِ فَجْر میں حاضِر ہوتی ہے ، پھر طُلُوعِ آفتاب تک بیٹھ کر  ذِکْرُ اللہ کرتی رہتی ہے۔[9]

(6 )٭جو شخص فَجْر کی نَماز پڑھنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ پاک کا ذِکْر کرتا ہے تو فرشتے اس کے لئے یہ دُعا کرتے ہیں :  یا اللہ! اسے بخش دے ، یا اللہ!اس پر رحم فرما۔[10]

(7 )٭جو شخص نَمازِ فَجْر پڑھے ، پھر وہیں بیٹھ کر طُلُوعِ آفتاب تک اللہ پاک کا ذِکْر کرے تو اس کے لئے جَنَّت واجِب ہو جاتی ہے۔ [11]

(8 )٭میں صُبْح کی نَماز ادا کروں پھر طُلُوعِ آفتاب تک وُہیں بیٹھ کر  ذِکْرُ اللہ کروں ، یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہے جس پر سُورَج طُلُوع اور غُرُوْب ہوتا ہے۔ [12]

محبت میں اپنی گما یاالٰہی                  نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی

میں بے کار باتوں سے بچ کے ہمیشہ              کروں تیری حمد و ثنا یاالٰہی[13]

 



[1]     قوت القلوب ، الفصل السادس فی ذكر عمل المريد بعد صلاة الغداة ، ۱ /  ۳۰

[2]     مستدرك ، کتاب العلم ، من جاء المسجد لتعلم الخیر ، ۱ / ۲۸۱ ، حدیث : ۳۱۷

[3]     مصنف ابن ابی شیبه ، کتاب الزھد