Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

تھا۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں بھی دوستوں کے ساتھ نشے کی صُورَت میں زہر پینے لگا جب گھر والوں کو میری اس عادتِ بد کے بارے میں پتا چلا تو بَہُت پریشان ہوئے۔ انہیں یہی فِکْر دامَن گِیر تھی کہ کسی طرح مجھے اس تباہی سے بچایا جائے۔ انہوں نے بارہا سمجھایا مگر مجھ پر کوئی اَثَر نہ ہوا۔ دن بدن نشے کی عادَت راسخ ہوتی گئی اور نوبت یہاں تک آگئی کہ میں کئی قسم کے نشوں مَثَلًا  ہیروئن مُـخْتَلِف میڈیسن ، چرس ، شراب وغیرہ سے اپنی زِنْدَگی کو تیزی سے برباد کرنے لگا۔ بالآخر اس عادتِ بد نے مجھے با لکل ناکارہ کر کے رکھ دیا۔ میں گھر والوں اور رشتہ داروں کی نظروں سے گِر چکا تھا۔ بس شب وروز نشے میں بد مست رہتا۔ جب نشہ نہ ملتا تو میری حَالَت پاگلوں کی طرح ہو جاتی اور میں اس زہرِ قاتِل کو حاصِل کرنے کے لئے چوری چکاری کی عادَتِ بد میں مُبْتَلا ہوگیا۔ چوری کا کوئی بھی مَوْقَع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ جب کچھ روپے ہاتھ لگ جاتے تو فوراً درندہ صِفَت انسان (جو نشے کو عام کر کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر اپنی قَبْر و آخِرَت کو بر باد کر رہے تھے ان) کے پاس پہنچ جاتا اور انہیں رقم دے کر نشے کی لعنت حاصِل کرتا اور اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈی کرتا۔ اَلْغَرَضْ میں سرتاپا زنجیرِ عصیاں میں جکڑ چکا تھا جس سے خلاصی بظاہر مُمکِن مَعْلُوم نہ ہوتی تھی مگر اللہ پاک کا فَضْل و کَرَم شامِلِ حال رہا کہ خوش قسمتی سے مجھے دَعْوَتِ اِسْلَامی کا مہکا مہکا مشکبار مَدَنی مَاحَول مُیَسَّر آگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک روز میری مُلَاقَات دَعْوَتِ اِسْلَامی سے وَابَسْتہ ایک اِسْلَامی بھائی سے ہوگئی جن کی اِنفرادی کوششوں سے مجھے دَرْسِ فیضانِ سنّت میں شِرْکَت کی سَعَادَت نصیب ہوئی۔ دَرْس انتہائی آسان فہم ہونے کے ساتھ ساتھ پند و نصیحت کے مدنی پھولوں سے بھرپور تھا میں نے بھی کچھ مدنی پھول اپنے دامَن میں بھر لئے اور ان سے اپنے گلشنِ حیات کو مہکانے کی نِیَّت کر لی۔ دَرْس کے بعد مُلَاقَات کے دوران ان اِسْلَامی بھائی نے بڑی مَحبَّت سے مجھے دَرْس میں پابندی سے شِرْکَت کرنے کی ترغیب دِلائی ، چُنَانْچِہ اس کے بعد میں دَرْس میں اور دَرْس کی بَرَکَت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کا پابند بن گیا۔ دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اس مَدَنی مَاحَول میں آنا جانا تو کیا ہوا مجھے اپنی سابقہ زِنْدَگی کے بیش قیمت انمول ہیروں کے زِیاں کا اِحْسَاس ہونے لگا۔ میں نے اس کی تلافی کے لئے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول سے وابستگی کی پختہ نِیَّت کر لی اور اپنی اس نیک نیّتی کو عملی جامہ پہنانے ، مَدَنی مَاحَول میں اِسْتِقَامَت پانے اور خوب خوب نیکیاں کمانے کے لئے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے تَحْت ہونے والے 63 روزہ تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ یوں مجھ سا بد کردار عِصیاں شعار اور مُعَاشَرے کا انتہائی ذلیل و خوار شخص سنّتوں پر عَمَل کی بَرَکَت سے باکردار ، نیکوکار اور مُعَاشَرے کا عزّت دار اِنسان بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!مَدَنی مَاحَول کی بَرَکَت سے اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرید ہو کر قادری عطاری بن چکا ہوں۔ اللہ پاک کی اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت پَر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری مَغْفِرَت ہو۔[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بعد فجر مدنی حلقے سے متعلق احتیاطوں اور مفید معلومات

 پر مبنی سوال جواب شرعی احتیاطیں

سوال 1  : قرآنِ کریم کی تِلاوَت سُننا فَرْض ہےتو کیا تفسیر اور دَرْسِ فیضانِ سُنّت کا بھی یہی حُکْم ہے؟

جواب  : تفسیر و دَرْس کو خاموشی سے سننا اگرچہ واجِب نہیں مگر بے تَوَجُّہی سے سننے سے اس کی برکتیں زائل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ دَعْوَتِ اِسْلَامی کے تمام مبلغین مَدَنی دَرْس سے پہلے یہ اِعْلَان کرتے ہوئے نَظَر آتے ہیں :  لاپرواہی کے ساتھ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے زمین پر اُنگلی سے کھیلتے ہوئے ، لِباس ، بدن یا بالوں وغیرہ کو سہلاتے ہوئے دَرْس سننے سے اس کی برکتیں زائل ہونے کا اندیشہ ہے۔ نیز دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کی مَطْبُوعَہ 102 صَفحات پر مُشْتَمِل کتاب”علم و حِکْمَت کے 125 مدنی پھول“ صَفْحَہ 68 پر ہے : عِلْمِ دین کی باتیں غور سے سننی چاہئیں کہ بے تَوَجُّہی کے ساتھ سننے سے غَلَط فَہمی کا سَخْت اندیشہ رہتا اور بسا اَوقات ہاں کا ’’نا‘‘ اور’’نا‘‘ کا ’’ہاں ‘‘سمجھ میں آتا ہے ، بلکہ مَعَاذَ اللہ کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ کہا گیا تھا حلال اور ذِہْن میں بیٹھ جاتا ہے حرام۔

سوال 2  : جن 3 آیات کی تِلاوَت ، ترجمہ و تفسیر بعدِ فجر مَدَنی حَلْقَے میں سننے کی ترکیب ہو ، ان سے ایک آیَتِ مُبارَکہ آیَتِ سجدہ والی ہو تو کیا اس کا ترجمہ و تفسیر سُن کر بھی سجدۂ  تِلاوَت واجب ہو جائے گا؟

جواب  : جی ہاں! اگر آیَتِ سجدہ کا صِرف ترجمہ و تفسیر پڑھی گئی تو سجدہ واجِب ہو گا اور  اس تِلاوَت کی وجہ سے تمام سُننے والوں پر سجدۂ تِلاوَت واجِب ہے۔

 



[1]     نشے باز کی اصلاح کا راز ، ص۲



Total Pages: 15

Go To