Book Name:Bad Fajar Madani Halqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بعدِ فجرمدنی حلقہ

دُرود شریف کی فضیلت

شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا :  جس نے کتاب میں مجھ پر دُرُودِ پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اُس کے لئے بَـخْشِشْ کی دُعا کرتے رہیں گے۔[1]

عجب کرم ہے کہ خود مجرموں کے حامی          گناہگاروں کی بخشش کرانے آئے ہیں

وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرُود اس نےکبھی      یہ اس سے نیکیاں اس کی بڑھانے آئے ہیں[2]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

معمولاتِ اِمام حسن مجتبٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

حضرت سَیِّدُنا امیر مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار مدینہ مُنَوَّرہ کے ایک قریشی شخص سے حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن بن علی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مُتَعَلِّق دَرْیَافْت فرمایا تو اس نے عَرْض کی : اے اَمِیرُ الْمُومِنِین!وہ نَمازِ فَجْر ادا فرمانے کے بعد سُورَج طُلُوع ہونے تک مَسْجِدِ نبَوِی ہی میں تشریف فرما رہتے۔پھر مُلَاقَات کیلئے آئے ہوئے مُعَزَّزِین سے ملتے اور  گفتگو فرماتے یہاں تک کہ کچھ دن نِکَل آتا تو 2 رَکْعَت نَماز ادا فرما کر اُمَّہاتُ الْمُومِنِین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی خِدْمَت میں سلام عَرْض کرنے کے لئے تشریف لے جاتے ، وہ آپ کو (خوش آمدید کہتیں اور) بسا اَوقات کوئی چیز تُـحْفَةً پیش فرماتیں۔ اس کے بعد آپ اپنے گھر تشریف لے جاتے۔[3]   

کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی

زہرا ہے کلی جس میں حُسین اور حسن پھول[4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صبح کے وقت کو غنیمت جانئے

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! صُبْح کے وَقْت کو غنیمت جانئے کہ ہمارے اَسلاف ہمیشہ وَقْت کی قَدْر کرتے ہوئے نَمازِ فَجْر کے بعد اِشْرَاق و چاشت تک کے وَقْت کا بھی خاص خَیال رکھا کرتے اور کوشش فرماتے کہ ان کا یہ وَقْت بھی مَسْجِد ہی میں گزرے ، جیسا کہ نواسۂ رسول حضرت سَیِّدُنا اِمام حَسَن رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مُتَعَلِّق بیان ہوا کہ وہ نَمازِ فَجْر ادا فرمانے کے بعد سُورَج طُلُوع ہونے تک مَسْجِدِ نَبَوِی ہی میں تشریف فرما رہتے اور اَدائے مُصطفٰے کو ادا کرتے کہ اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بھی یہی مَعْمُول مُبارَک تھا کہ جب فَجْر کی نَماز ادا فرماتے تو طُلُوعِ آفتاب تک نَماز پڑھنے کی جگہ پر ہی تشریف فرما رہتے۔[5] اور ایک رِوایَت میں ہے کہ (اسکے بعد) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو۲ رکعتیں بھی اَدا فرمایا کرتے۔[6]

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!مَعْلُوم ہوا نَمازِ فَجْر کے بعد طُلُوعِ آفتاب تک مَسْجِد میں بیٹھے رہنا ، ہمارے میٹھے میٹھے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہی سنّت نہیں بلکہ ہمارے اَسلاف کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔جیسا کہ اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی رَحمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ فرماتے ہیں : بندہ جہاں (فَجْر کی)نَماز پڑھے تو اسی جگہ قبلہ رُخ بیٹھا رہے اور مُسْتَحَب یہ ہے کہ کسی سے بات نہ کرے یا اَعمال و وظائف میں مگن رہے۔ بُزُرْگانِ دِیْن رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی طُلُوعِ فَجْر سے لے کر طُلُوعِ آفتاب تک خیر و بھلائی کے عِلاوہ ہر طرح کی بات کرنے کو نا پسند کرتے تھے ، بلکہ بعض تو نیکی کی دَعْوَت پر مَبْنِی باتوں کے عِلاوہ ہر قسم کی گفتگو کو بھی بُرا سمجھتے



[1]     معجم اوسط ، باب الالف ، من اسمه احمد ، ۱ / ۴۹۷ ، حدیث : ۱۸۳۵

[2]     سامانِ بخشش ، ص۹۳-۹۴ملتقطاً

[3]    تاریخ مدینه دمشق ، ۱۳۸۳-حسن بن علی بن ابی طالب ، ۱۳ / ۲۴۱

[4]    حدائق بخشش ، ص۷۹

[5]     مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاة ، باب فضل الجلوس الخ ، ص ۲۴۳ ، حدیث :  ۲۸۷

[6]     قوت القلوب ، الفصل السابع فی ذکر اورادالنھار ، ۱ /  ۳۲



Total Pages: 15

Go To