Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

جو آپ سے جلتا ہے وہ جل جائے تو اچھا

غصّے اور کینے کے نقصانات

سُوال :  غصّہ کرنے  اور کینہ رکھنے کے نُقصانات بیان فرما دیجیے ۔  

جواب : ناحق غصّہ کرنے ، دِل میں کینہ ( [1] )  رکھنے اور مسلمانوں سے حَسد ( [2] )   کرنے کے بے شمار نُقصانات ہیں ۔   یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کو لازِم  و مَلزوم ہيں ۔  حَسد کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصّے کا نتیجہ ہے لہٰذا اِن سے بچنا اِنتہائی ضَروری ہے ۔  یاد رکھیے ! غصّہ بذاتِ خُود نہ اچھا ہے نہ بُرا ۔  دَرحقیقت غُصّے کی اچھائی اور بُرائی کا دارو مدار موقع محل کی اچھائی اور بُرائی پر ہے ۔  اگر موقع محل کی نسبت سے غصّہ کیا اور اس کے اَثرات اچھے ظاہر ہوئے تو یہ غصّہ بھی اچھا ہے بلکہ بعض صورتوں میں لازِم بھی ہے اور اگر بے محل غصّہ کیا اور اس کے اَثرات بُرے ظاہر ہوئے تو یہ غصّہ بھی  بُرا ہے ۔  بسااوقات اِنسان بے جا غصّے میں آ کر بہت سارے بنے بنائے کام بگاڑ دیتا ہے اورکبھی تو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  غصّے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناشکری اور کلمۂ  کفر کااِرتکاب کر کے اپنے ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔  سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جہنم میں ایک ایسا دَروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخِل جہنم  ہوں گے جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔ ( [3] )  

بہرحال اپنے غصّے پر قابو پانے ہی میں عافیت ہے ۔  سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خُوشگوار ہے : پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہی ہے جو غصّے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے ۔  ( [4] ) اپنے غصّے کو نافِذ کرنے کی اِستطاعت رکھنے کے باوجود ضبط کر لینے والے کے لیے حدیثِ پاک میں زَبردست بشارت ہے چنانچہ حضورِ پُرنور، شافعِ یومُ النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ پُرسُرور ہے : جس نے غُصّہ ضبط کر لیا باوُجُود اس کے کہ و ہ غُصّہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دِل کو سُکون و اِیمان سے بھر دے گا ۔  ( [5] ) اور جو لوگ اپنے غصّے کو ضبط کرنے کے عادی نہیں ہوتے وہ جب کسی  پر اپنا غُصَّہ اُتار نہ سکیں تو یہ غُصّہ اندر ہی اندر کینے کی صورت اِختیار کر لیتا ہے جس سے حَسد اور شَماتَت ( [6] ) جیسی باطِنی بیماریاں جنم لیتی ہیں، کینہ پَرور وہ بَدبخت شخص ہے جس کی  شَبِ بَراءَت  ( یعنی چھٹکارا پانے کی رات )  میں بھی مَغفرت نہیں ہوتی چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوایت ہے کہ رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : شعبان کی پندرہویں  شَب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے بندو ں پر نظرِ رَحمت فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے لیکن مُشرک اور کینہ پَرور نہیں بخشا جاتا ۔ ( [7] )   

 کینہ پَرور اس مقدَّس رات میں  مغفرت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی پوشیدہ باتیں اور راز اِفشا  ( یعنی ظاہر )  کر کے عیب چھپانے اور مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی عظیم  فضیلت سے بھی محروم رہتا ہے حالانکہ اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری



[1]    کینہ یہ ہے کہ اِنسان اپنے دِل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیرشرعی دُشمنی وبغض رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے ۔ (احیاءُ العلوم، کتاب  ذم الغضب والحقد والحسد ، ۳ / ۲۲۳ دار صادر بیروت )

[2]    کسی کی دِینی یا دُنیوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے )کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے ، اس کا نام حسد ہے ۔ (حدیقه ندیه ، الخلق الخامس عشر ... الخ  ، ۱ / ۶۰۰ پشاور )

[3]    کنزالعمّال، کتاب الأخلاق، حرف الغین ، الغضب ، الجزء : ۳، ۲ / ۲۰۸، حدیث : ۷۷۰۳ دار الکتب العلمیة بیروت

[4]    بخاری ، کتاب الأدب ، باب الحذر  من الغضب، ۴ / ۱۳۰، حديث : ۶۱۱۴ دار الکتب العلمیة  بیروت

[5]    جامع صغیر، حرف المیم ، ص۵۴۱ ، حدیث : ۸۹۹۷  دار الکتب العلمیة بیروت

[6]    اپنے کسی بھی نسبی یا مسلمان بھائی کے نقصان یا اُس کو ملنے والی مصیبت و بلا کو دیکھ کر خوش ہونے کو شَماتت کہتے ہیں ۔  (حدیقه ندیه ، المقالة  الثانیة  فی غوائل الحقد ، ۱ / ۶۳۱)  

[7]    الاحسان، کتاب الحظر والاباحة، باب ما جاء  فی التباغض... الخ ، ۷ / ۴۷۰، حدیث : ۵۶۳۶ دار الكتب العلمية  بيروت



Total Pages: 18

Go To