Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

صلح  کروانے کیلئے خلافِ واقع بات کہنا

سُوال : دو مسلمانوں میں صُلح  کروانے کے لیے خلافِ واقع بات کہنا  کیسا ہے ؟

جواب : دو مسلمانوں میں صُلح  کروانے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے خلافِ واقع بات  ( یعنی جھوٹی  بات )  کہہ سکتے ہیں مثلاً ایک کے سامنے  جا کر اس طرح  کہنا  کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے ، تمہاری تعریف کرتا ہے یا اس نے تمہیں سلام کہا ہے پھر اسی طرح  دوسرے کے پاس جا کر  بھی اسی قسم کی خلافِ واقع باتیں کرے تا کہ ان دونوں میں بغض و عداوت کم ہواورصُلح ہوجائے ۔  حضرتِ سیِّدَتُنا اَسماء بنْتِ یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے : تین باتوں کے سِوا جھوٹ بولنا جائز نہیں، خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے ، جنگ کے موقع پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صُلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔  ( [1] )  

صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی  فرماتے  ہیں : تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی ا س میں گناہ نہیں : ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مُقابِل کو دھوکا دینا جائز ہے ، اسی طرح جب ظالِم ظُلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظُلم سے بچنے کے لیے بھی جائز ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اِختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صُلح کرانا چاہتا ہے ، مثلاً ایک کے سامنے یہ کہدے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے ، تمہاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اور صُلح ہو جائے ۔  تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے ۔  ( [2] )  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ  شریعتِ مطہرہ کو مسلمانوں کا آپس میں اِتفاق و اِتحاد کس قدر محبوب ہے کہ ان میں صُلح کروانے کے لیے جھوٹ تک بولنے کی اِجازت مَرحمت فرمائی ہے مگر بدقسمتی سے آج کل صُلح  کروانے کے بجائے خلافِ واقع بات کہہ کر مسلمانوں میں پُھوٹ ڈالی جاتی ہے ۔ اگر کوئی کسی کے خِلاف معمولی سی بات بھی کر دے  تو اس  کی بات کو مزید بڑھا چڑھا کر چُغلی ( [3] )   کرتے ہوئے دوسرے سے بیان کیا جاتا ہے تاکہ ان میں بغض و عداوت  کی آگ بھڑک اُٹھے اور یہ ایک دوسرے سے دُور ہو جائیں ۔  یاد رکھیے ! مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور ان میں فتنہ و فساد بَرپا کرنا شیطانی کام ہے جیسا کہ  خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ      ( پ۱۵، بَنِیْ  اِسْرَائِیْل : ۵۳ )               ترجمۂ کنز الایمان : بے شک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے  ۔

لہٰذا اس شیطانی  کام کو چھوڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لیے مسلمانوں میں صُلح کروا کر اِتفاق و اِتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔  ہاں اگر یہ بُغض و کینہ اور عداوت و دُشمنی کسی بَدمذہب سے ہو تو اس سے صُلح نہ کی جائے کیونکہ بَدمذہبوں سے دُور رہنے کا ہی شریعت نے حکم دیا ہے اور ان سے کینہ بھی واجِب ہے ۔   

منکر کے لیے نارِ جہنم ہے مناسب

 



[1]    ترمذی ، کتاب البر  والصلة ، باب  ما جاء  فی  اصلاح  ذات البین ، ۳  / ۳۷۷، حدیث : ۱۹۴۵ دار الفکر بیروت

[2]    بہارِ شریعت ، ۳ / ۵۱۷ ، حصّہ  : ۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]   کسی کی بات ضَرر (یعنی نقصان )پہنچانے کے اِرادے سے دوسروں کو پہنچاناچُغلی ہے ۔

 (عمدة    القاری ، ۲ / ۵۹۴، تحت الحدیث : ۲۱۶  دار الفکر بیروت )



Total Pages: 18

Go To