Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

کروانے کاحکم بھی اِرشاد فرمایا ہے چُنانچہ پارہ 26 سُوْرَۃُ الْحُجُرَات کی آیت نمبر 9 میں خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ

ترجَمۂ کنزُ   الایمان : اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ  آپس میں لڑیں تو ان میں صُلح کراؤ ۔

اِس آیتِ کریمہ کا شانِ نُزول بیان کرتے ہوئے  صَدرُالافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی خَزائنُ العرفان میں فرماتے ہیں : ”نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  دَراز گوش پر سُوار تشریف لے جاتے تھے ، اَنصار کی مجلس پر گزر ہوا، وہاں تھوڑا سا توقُّف فرمایا، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابنِ اُ بَیْ نے ناک بند کر لی ۔ حضرت عَبْدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور  ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خُوشبو رکھتا ہے ، حُضور  ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) تو تشریف لے گئے ، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو سَیِّد عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  واپس تشریف لائے اور ان میں صُلح کرا دی، اس مُعاملہ میں یہ آیت نازِل ہوئی  ۔ “اِسی طرح ایک اور مقام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :  

وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ-وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ    ( پ۵، النسآء : ۱۲۸ )

ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور صُلح خوب ہے اور دِل لالچ کے پھندے میں ہیں ۔

ایک اور مقام پر ”صُلح“ کی تَرغیب دِلاتے  ہوئے اِرشاد فرمایا  :

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)  ( پ۲۶، الحجرات  : ۱۰ )

ترجَمۂ کنزُ الایمان : مسلمان، مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صُلح کرو اور  اللّٰہ سے ڈرو کہ تم پر رَحمت ہو ۔

نماز ، روزہ  اور صَدقہ سے اَفضل عمل

اَحادیثِ مُبارکہ میں صُلح کروانے کے بے شمار فَضائل بیان ہوئے ہیں چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ سَرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ مَغفرت نشان ہے :  جو شخص لوگوں کے دَرمیان صُلح کرائے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کا مُعاملہ دُرُست  فرما دے گا اور اسے ہر کلمہ بولنے پر ایک غُلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور جب وہ  لوٹے گا تو اپنے پچھلے گناہوں سے مَغفر ت یافتہ ہو کر لوٹے گا ۔  ( [1] )  ایک اورحدیثِ پاک میں تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  کیا میں تمہیں روزہ ، نماز اور صدقہ سے اَفضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! ضَرور بتائیے ۔  اِرشاد فرمایا :  وہ عمل آپس میں روٹھنے والوں میں صُلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے  والوں میں ہونے والا فَساد خیر کو  کاٹ دیتا ہے ۔  ( [2] )  

حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک روز سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف فرماتھے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تبَسُّم فرمایا ۔  حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  یارسولَ  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    الترغیب والترھیب ، کتاب الأدب  وغیرہ ، الترغیب فی الاصلاح  بین الناس ، ۳ / ۳۲۱، حدیث : ۹ دار الکتب العلمیة  بیروت

[2]    ابو داود، کتاب الأدب ، باب فی اصلاح  ذات البین، ۴ / ۳۶۵ ، حدیث : ۴۹۱۹ دار احیاء التراث العربی بیروت



Total Pages: 18

Go To