Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

جواب : دعوتِ اسلامی کی مَرکزی مجلسِ شوریٰ کی مُخالفت کرنے والے کی بیعت تو ختم  نہیں ہوتی اَلبتہ ایسا شخص دعوتِ اِسلامی والا نہیں ۔  (  شیخِ طریقت، اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ) مَرکزی مجلسِ شوریٰ یا اس کے کسی رُکن کی مُخالفت کرنے والا اگرچہ   عمامہ پہنتا ہو، کتنی ہی خوبیوں کا مالِک ہو، اپنے آپ کو دعوتِ اِسلامی والا کہتا اور کہلواتا ہو ایسے شخص سے میں قطعاً بیزار ہوں، اس کا دعوتِ اسلامی سے کوئی تَعَلُّق نہیں ۔  مَرکزی مجلسِ شوریٰ اَلْحَمْدُ  لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری بنائی ہوئی مجلس ہے  جو دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کو دُنیا بھر میں عام کر رہی ہے ۔  اس کی مخالفت کرنے والا دَرپَردہ  دِینِ اِسلام کی عظیم تحریک  کو نُقصان پہنچا نے والا ہے کیونکہ جب  لوگ اسی سے بَدظن ہوں گے تو وہ دَعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے  سے کترائیں گے اور یوں وہ اپنی  اِصلاح سے محروم رہ جائیں گے ۔  

بعض لوگ دعوتِ اسلامی کی  مجالس کی  مخالفت بھی  کرتے ہیں مگر اپنی عزت اور وَقار  بَرقرار رکھنے کے لیے اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی والا بھی ظاہر کرتے ہیں ۔  ایسوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی والا ظاہِر کر کے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کو نُقصان نہ پہنچائیں ۔  مَرکزی مجلسِ شوریٰ اور دِیگر مجالس کی مُخالفت کرنے والے کبھی بھی دعوتِ اسلامی کے خَیرخواہ نہیں ہو سکتے لہٰذا ایسوں کی صحبت سے دُور رہنے میں ہی عافیت ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صحبت کی وجہ سے تبلیغ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا عظیم مدنی ماحول ہاتھوں سے چھوٹ جائے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے ! اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مَعصُوم نہیں ۔  خَطائیں اور لَغزشیں ہر ایک سے  ہوسکتی ہیں ، مَرکزی مجلسِ شوریٰ والوں سے بھی خَطا اوربھول ہو سکتی ہے ، یہ بھی اپنی اِصلاح سے بے نیاز نہیں لہٰذا جب ان سے کوئی خَطا سَرزد  ہو تو آپ اَحسن طریقے سے ان کی اِصلاح کیجیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ انہیں  شکریہ کے ساتھ قبول کرنے والا پائیں گے ۔   

نَعت خواں کو کیسا ہونا چاہیے ؟

سُوال : دعوتِ اسلامی کے نعت خواں کو کیسا ہونا چاہیے ؟

جواب : دعوتِ اِسلامی کے نَعت خواں کو مَرحُوم نگرانِ شوریٰ حاجی محمد مُشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْبَارِی جیسا ہونا چاہیے کہ یہ زَبَردَست نَعت خواں ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مُبَلِّغ بھی تھے ، انہوں نے بِلا مُبَالغہ لاکھوں لوگوں  کو مُتأثر کیا ۔ ہر نعت خواں کو حاجی محمد مشتاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ  ِالرَّزَّاق کی طرح مُبَلِّغ  ہونے کے ساتھ ساتھ مدنی اِنعامات کا عامِل ، مدنی قافلوں کا مُسافِر اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے والا ہونا چاہیے ۔  نَعت خواں کو چاہیے کہ اَمیر وغریب کا فرق کیے بغیر جہاں بھی دعوت ملے ، چھوٹی محفل ہو یا بڑی ، اِیکو ساؤنڈ ہو یا نہ ہو، محض  اللّٰہ و رسُول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی رضا کے لیے نعت خوانی کرے ۔ ایسا نہ ہو کہ مالدار بُلائے تو اُڑتا ہوا پہنچ جائے اور غریب بلائے تو اس کا گلا ہی بیٹھ جائے ۔

بعض نعت خواں بیرونِ  مُلک  جانے کے لیے  مچلتے  اور تَرستے رہتے ہیں، وہ اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ اتنی دُور جانے کے لیے کون سا جذبہ اُبھار رہا ہے ؟ کہیں حُبِّ جاہ، ڈالر اور پاؤنڈ  کی کشش تو نہیں کھینچ رہی؟اسی طرح بینَ الاَقوامی اور صوبائی سطح پر ہونے والے دعوتِ اِسلامی کے سُنَّتوں بھرے اِجتماعات یا بڑی راتوں میں ہونے  والے اِجتماعِ ذِکر ونعت میں نعت یا صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے



Total Pages: 18

Go To