Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

اِستِطاعت نہ رکھے  اُسے چاہیے کہ اپنے دِل میں بُرا جانے اور یہ کمزور ترین اِیمان کی علامت ہے ۔  ( [1] )

شَریعتِ مطہرہ  میں چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے جبکہ چوری کی تمام شَرائط پائی جائیں اور شراب پینے والے کوا َسّی  کوڑے مارنا ہے مگر یہ سزا دینے کا  ہر ایک کو اِختیار حاصِل نہیں بلکہ یہ سزا دینا حاکمِ اسلام کا کام ہے ۔  اب اِسلامی سَلطَنت نہ ہونے کی وجہ سے  یہ سزا نہیں دی جا سکتی ۔  فی زمانہ اِن جَرائم کے سَدِّباب کے لیے اِس کاحکم بیان کرتے ہوئے فَقیۂ مِلَّت حضرتِ علّامہ مولانا مفتی جلالُ الدِّین احمد اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں  : اگر حکومت ِ اِسلامیہ ہوتی تو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جاتا اور شراب پینے والے کواَسّی دُرّے مارے جاتے ۔  موجودہ صورت میں ان کے لیے یہ حکم ہے کہ مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ان کے ساتھ کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا اور کسی قِسم کے اِسلامی تَعَلُّقات نہ رکھیں تاوقتیکہ وہ لوگ توبہ کر کے اپنے اَفعالِ قبیحہ سے باز نہ آ جائیں ۔   اگر مسلمان ایسا  نہ کریں گے تو وہ بھی گنہ گار ہوں گے ۔  ( [2] )  

اگر چوروں کو سزا نہ دی جائے تو؟

سُوال : اگر چوروں کو سزا نہ دی جائے تو وہ چوریوں میں اِضافہ کر دیں گے برائے کرم ! اس کی روک تھام کا کوئی  حَل  اِرشاد فرما دیجیے ۔  

جواب : چوروں کو عام لوگ اپنے طور پر کوئی سزا دیتے ہیں تو اس سے  فتنہ و فَساد کھڑا ہو جانے کا اَندیشہ ہے ۔  ایسی صورتِ حال میں چوریوں  کی روک تھام کے لیے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ان لوگوں سے قَطعِ تَعَلُّق کر کے ان کے ساتھ کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا وغیرہ سب تَرک کر دیا جائے تاکہ یہ اپنے اس فعل سے باز آ جائیں ۔  اگر وہ  پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کے لیے  بہترین دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر چوری کرتے   ہوئے پکڑے  جائیں تو انہیں ہاتھوں ہاتھ پولیس کے حوالے کر دیا جائے ۔  اس موقع پر وہ لاکھ ہاتھ جوڑیں، پاؤں پکڑیں اور  مِنَّت سَماجَت کریں ہرگز ان  کو نہ چھوڑا جائے ۔  اگرچہ  وہ چند دِنوں کے بعد جیل سے بَری بھی ہو جائیں گے مگر جیل میں جانے کے سبب  گھر، خاندان اور علاقے میں ہونے والی بدنامی اور ذِلَّت و رُسوائی  کو یاد کر کے آئندہ ضَرور اس سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔  

مُخالفت اور اِختلافِ رائے میں فرق

سُوال : مُخالفت اور اِختلافِ رائے میں کیا فرق ہے ؟ نیز کیا دعوتِ اسلامی میں اِختلاف رائے کی اِجازت ہے ؟

جواب : مُخالفت یہ ہے کہ کسی کو نیچا دِکھانے کے لیے بِلادَلیل اس کی ہر بات کااُلَٹ کرنا، اس پر نکتہ چینی کرنا اور ا س کا حکم ماننے کے بجائے لوگوں کو اس کے خِلاف بھڑکانا، اس کی کسی کو بھی اِجازت نہیں جبکہ  اِختلافِ رائے یہ ہے کہ دَلائل کے ساتھ بَنیّتِ اِصلاح کسی کے ساتھ اس کے مؤقف کے خِلاف بات چیت کرنا ۔  اِختلافِ رائے  کا ہر ایک کو حق  ہے کیونکہ اِختلاف رائے کا مقصد اِصلاح اور خیر خواہی ہوتا ہے ، اس لیے اِختلاف رائے کرنے میں کو ئی حَرج نہیں ۔  ( شیخِ طریقت، اَمیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں :  ) ہمارے مدنی مَشوروں میں اِختلاف رائے ہوتی رہتی ہے کہ یُوں ہونا چاہیے اور یُوں نہیں یُوں ہونا چاہیے وغیرہ  ۔ کبھی شوریٰ والوں کی بات میری سمجھ میں آ جاتی ہے تومیں ان کی بات مانتے ہوئے اپنی بات واپس لے لیتا ہوں اور کبھی میری بات ان کی سمجھ میں آ جاتی ہے تو وہ اپنی بات واپس لے لیتے ہیں ۔  اِختلافِ رائے اور  مُخالفت کے فرق کا لحاظ ضَروری ہے ۔

مُخالفت کرنے والا دَعوتِ اسلامی والا نہیں

سُوال : دعوتِ اسلامی کی مَرکزی مجلسِ شوریٰ کی مُخالفت کرنے والے کی بیعت ختم ہو جاتی ہے یا نہیں ؟

 



[1]    مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر...الخ، ص۴۸، حدیث : ۱۷۷

[2]    انوارُالحدیث، ص۳۹۲مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 18

Go To